Daily Mashriq


اردوان یا الطاف حسین؟

اردوان یا الطاف حسین؟

لڑنے بھڑنے اور گتھم گتھا ہوجانے سے بھرپور میاںنوازشریف کی زندگی کا ایک اور دور انجام کو پہنچ گیا ۔ان کے خلاف بڑے مقدمے کا بڑا فیصلہ آخر کار آہی گیا جس کے تحت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے میاں نوازشریف کو دس سال قید مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنادی۔ نوازشریف کو آٹھ ملین پائونڈ جبکہ مریم نوازکو دو ملین پائونڈرقم بطور جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ۔اس کے ساتھ ہی ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کوحکومت پاکستان کی ملکیت قرار دے کر ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔مسلم لیگ ن اور شریف خاندان نے اس فیصلے کو مسترد کیا ۔میاں نوازشریف کی سیاست کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے شدید مخالف کیمپ سے ہوا اور وہ بھی ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کی جماعت تحریک استقلال سے جس کاخمیر ہی بھٹو مخالف سیاست سے اُٹھا تھا۔ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کی بھٹو سے مخاصمت مدتوں پرانی تھی جب ایوب خان کے دور میں بھٹو اقتدار کی راہداریوں میں گھوم رہے تھے اور اصغر خان پاک فضائیہ کے سربراہ تھے۔قومی اتحاد کی سیاست میں مخاصمت اور مخالفت کے جذبات کا طوفان صرف پیمانے سے چھلک پڑا تھا اور ایئر مارشل نے ایک بار جوش جذبات میں ذوالفقار علی بھٹو کو کوہالہ کے پل پر پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا۔اس قدر بھٹو مخالف کیمپ سے آغاز سفر کرنے والے نوازشریف غیر شعوری طور بھٹو سے متاثر ہوتے چلے گئے ۔ان کا مطمح نظر طاقتور حکمران بننا تھا ۔اس انوکھی خواہش میں مزاحم ہر رکاوٹ سے وہ ٹکر ا جانے پر یقین رکھتے تھے ۔آگے چل کر وہ جدید ترکی کے قائد طیب اردوان سے متاثرہوتے گئے ۔طیب اردوان کو نوازشریف نے طاقت کی ایک نئی علامت سمجھا گویا کہ اردوان محض طاقت سمیٹنے کا نام ہے اس سے پہلے وہ طیب اردوان کے پورے سفر کوذہن سے محو اور نظروں سے اوجھل کر بیٹھے۔اپنے ذہن میں بسائے مختلف کرداروں کے گڈ مڈ ہونے سے ان کی سیاست طاقت اور دولت کا تجریدی آرٹ ہو کر رہ گئی ۔ انہیں تین بار پاکستان کا اقتدار ملا مگرہر بار ان کا تصادم ریاستی اداروں اور شخصیات سے ہوتا رہا جو کسی حادثے پر منتج ہوتا رہا۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس لندن کے مہنگے اور پوش علاقوں میں دولت کے ایسے انبار ہیں جن کی ملکیت کی پراسراریت کے بارے میں نوے کی دہائی سے چہ مہ گوئیاں جا ری ہیں اور ان فلیٹس کا تعلق شریف خاندان سے اسی دور سے جوڑا جاتا رہا ہے مگر اس کا ٹھوس ثبوت نہیں مل سکا ۔خود شریف خاندان کے لوگ فلیٹس’’ ہمارے ہیں اور نہیں ہیں‘‘ کا متضاد موقف اپنا کر ان اپارٹمنٹس کی ملکیت کو مزید پیچیدہ بنا تے رہے۔یہاں تک کہ پانامہ لیکس میں دنیا بھر میں حکمران طبقات ،بااثر سیاست دانوں ،بیوروکریٹس اور غیر سیاسی لوگوں کی چھپی دولت کو عیاں کیا گیا۔حکمران جماعت پانامہ لیکس اور اس کے نتائج کے حوالے سے تعبیر کی غلطی کر بیٹھے ۔انہیں اس معاملے کا اس قدر طول پکڑنے کا انداز ہ نہیں تھا ۔اس کا عکاس خواجہ آصف کا یہ جملہ تھا کہ جلد ہی پاکستانی قوم اور بہت سے واقعات کی طرح پانامہ کو بھی بھول بھال جائے گی ۔اس لئے حکومت نے معاملے کو پارلیمنٹ میں حل کرنے کی بجائے عدالتی تحقیقات کی راہ کھول دی ۔یوں سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کے ایک اعصاب شکن مقدمے کا آغاز ہوا ۔کروڑوں لوگوں کی نبضیں اس مقدمے کے ساتھ ڈولتی اور ڈوبتی رہیں۔سٹاک ایکسچینج میں تیزی اور مندی اس مقدمے سے وابستہ ہوگئی ۔یہ مقدمہ ٹی وی چینلوں کی ریٹنگ میں کمی بیشی کا باعث بن گیا ۔ملک میں پہلے سے جا ری سیاسی تقسیم گہری ہوتی چلی گئی ۔کچھ لوگوں کے لئے پانامہ لیکس ایک سازش تھی تو کچھ اسے آسمانوں سے ہونے والا فیصلہ قراردیتے تھے ۔دلچسپ بات یہ خود صدر پاکستان ممنون حسین کی ایک تقریر کی ویڈیو کلپ سوشل میڈیا میں گردش کر تی رہی کہ جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پانامہ لیکس کا معاملہ اللہ کی طرف سے ہے۔پانامہ لیکس کے مقدمے میں میاںنوازشریف کو نااہل قر ار دیا گیااور یوں ایک نئی سیاسی کشمکش کا آغاز ہو گیا ۔میاںنوازشریف نے عملی طور پر نااہلی کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم ہائوس چھوڑ دیا مگر وہ ذہنی طور پر اس فیصلے کو تسلیم نہ کر سکے اور انہوںنے جی ٹی روڈ کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا ۔اس سفر میں ان کا جابجا استقبال تو ہوا مگر وفاق اور پنجاب میں حکومتوں کے باوجود وہ کوئی بڑا طوفان برپا نہ کر سکے۔اسی فیصلے کے تسلسل میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کا مقدمہ احتساب عدالت میں شروع ہو ا اور طویل بحث ومباحثے اور عدالتی کارروائیوں کے بعد آخر کار عدالت نے فیصلہ سنا دیا ۔ یوں میاںنوازشریف ترکی کے طیب اردوان تو نہ بن سکے مگر وہ اپنے ملک کا ہی ایک کردار الطاف حسین بن کر رہ گئے ۔غصہ ،جھنجلاہٹ اور انتقام جب حدوں سے باہرنکل جائے تو پھر انسان عدم توازن کا شکار ہو کر خود اذیتی کا خوگر بن جاتا ہے ۔الطاف حسین ایک ایسی بارودی سرنگ تھے جنہیں عالمی طاقتوں نے کسی مناسب وقت کے لئے بچھا اور بچا رکھا تھا ۔وہ طاقتیں جنہیں 2015کے بعد کے نقشوں میں پاکستان نام کا کوئی ملک نظر نہیں آتا تھا ۔ممکنہ خلفشار کی صورت میں ملک کے اقتصادی مرکز اور ساحلی پٹی کو کنٹرول کرنے کے لئے الطاف حسین ایک اثاثہ سمجھ کر انتظار گاہ میں بٹھائے گئے تھے ۔یہ لمحہ گزر گیا اور وقت نے اس بارودی سرنگ کو ناکارہ بنادیا اور اب الطاف حسین حالات کے ڈیپ فریزر میں سڑھی ہوئی سبزی ہو کر رہ گئے ہیں۔نوازشریف غصے ،ردعمل ،مطلق طاقت اور مقابل کو فکس اپ کرنے کے منفی شوق میں اب الطاف حسین کے قریب قریب کھسکتے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں