Daily Mashriq


سرکاری کالجوں کی کمی اورتعلیمی مسائل

سرکاری کالجوں کی کمی اورتعلیمی مسائل

آج کے مشرق کے ادارتی صفحے پر صوبائی دارالحکومت میںسرکاری کالجوں میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی کالج اساتذہ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اداریے کے اس حوالے سے متفق ہوں کہ پشاور شہر میںمزید سرکاری کالجوں کی ضرورت بہرحال موجود ہے ۔جبکہ یہ بات بھی مدنظر رکھی جائے کہ پشاور میں چند برس ادھر گورنمنٹ کالج پشاور اور سپیریئر سائنس کالج پشاور مردانہ کالجوں میں اور فرنٹیئر کالج فار وومن کے علاوہ دوسرا کوئی کالج نہ تھا جبکہ اس وقت ڈسٹرکٹ پشاور میں زنانہ ومردانہ کالجوں کی کل تعداد 20ہے ۔جس میں صرف گورنمنٹ کا لج پشاور اور فرنٹیئر کالج فار وومن میں انٹر کے دودوہزار کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں ۔پشاور کی آبادی ،روز بروز دیگر علاقوں سے لوگوں کی ہجرت اور ایجوکیشن کے معیار کی وجہ سے یقینا کالجوں کی یہ تعداد بھی کم ہی تصور کی جاسکتی ہے ۔ایک مناسب پرائیویٹ کالج کم از کم تیس ہزار روپے داخلہ فیس اور ماہانہ سات ہزار روپے ٹیوشن فیس کی مد میں وصول کرتا ہے ۔ جبکہ گورنمنٹ کالجوں میں سالانہ فیس دوہزارتین سو روپے ہے۔ یعنی پانچ ہزار میں ایک بچہ انٹر کی تعلیم حاصل کرلیتا ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری کالج 2009کی ایجوکیشن پالیسی کے تحت بی ایس کا چارسالہ ڈگری پروگرام بھی چلارہے ہیں کہ جس میں بچہ سولہ برس کی تعلیمی قابلیت بہت ہی کم پیسوں میں اپنے گھر کینزدیک تعلیم حاصل کرلیتا ہے کہ وہی بی ایس کی تعلیم سرکاری یونیورسٹیوں میں لاکھوں کے خرچ کے بعد حاصل کی جاتی ہے ۔مذکورہ اداریے میں سرکاری کالجوں کے اضافہ کی ضرورت پر اسی لیے زور دیا گیا ہے کہ والدین کی پہلی ترجیح گورنمنٹ کالج ہی ہوتے ہیں گویا گورنمنٹ کالجوں کا تعلیمی معیار پرائیویٹ اداروں سے بہت اچھا ہے ۔ ایک بات اور بھی اس سلسلے میں اہم ہے کہ سرکاری کالج ایک تنظیمی ڈھانچے کے تحت چلتے ہیں ۔ سیکریٹری ہائر ایجوکیشن ، ڈائریکٹرہائرایجوکیشن اور کالج پرنسپل کے تین سٹیپ ہیں کہ جس میں ایک سسٹم کے تحت کالجوں کو چلایا جاتا ہے ۔جس میں عوامی ضرورتوں کو خاص توجہ دی جاتی ہے ۔ یہ مسئلہ صرف صوبائی دارالحکومت پشاور کا نہیں بلکہ صوبے کے تمام بڑے شہروں میں باوجود بہت سے کالجوں کی موجودگی کے محسوس کیا جاتاہے ۔ جہاں تک اس کے حل کا تعلق ہے تو اس ضمن میں پرائیویٹ سیکٹر پر کوئی چیک نہیں کہ وہ کتنی فیس وصول کر رہا ہے ۔ اس کے لیے حکومت کو قانون سازی کرنی پڑے گی کہ پرائیویٹ اداروں کی کیٹیگری کے مطابق مناسب فیس سٹرکچر بنایا جاسکے تاکہ وہ بھی اس سسٹم کا حصہ بن سکیں اور پرائیویٹ سیکٹر کے وجود سے انکار کرنا بھی سراسر زیادتی ہی ہے ۔ دوسرامسئلہ یہ ہے کہ والدین کا فوکس عام طور پر شہر کے اندر قائم کالج ہی ہوتے ہیں جبکہ مضافات کے کالجوں میں وہ بچوں کو بھیجنے سے کتراتے ہیں ۔ حالانکہ گورنمنٹ کالج پشاور اور گورنمنٹ کالج وڈپگہ یا گورنمنٹ کالج ناگمان کے ٹیچنگ سٹاف میں انیس بیس کا فرق بھی نہیں ہوتا ، دونوں کمیشن سے سلیکٹ ہوتے ہیں اور دونوں ہائر ایجوکیشن کے ملازم ہوتے ہیں۔ جہاں تک بات بعض سرکاری کالجوں کے رزلٹ کی آتی ہے تو اس میں بھی داخلہ لینے والے بچوں کے معیار کا فرق ہوتا ہے ۔یعنی گورنمنٹ کالج پشاور میں داخلہ 1025نمبرو ں سے شروع ہوتا ہے اور آخری لڑکا بھی ساڑھے آٹھ سو نمبر کا داخل ہوتا ہے اس کے برعکس اچینی کالج میںکم نمبروں والا بچہ داخل ہوتاہے تو ان کا لجوں کا رزلٹ بھی اسی ریشو سے آئے گا۔عوام کو مضافاتی کالجوں پر اعتماد کرنا ہوگا ۔جہاں تک گورنمنٹ کالجوں کی کمی کامذکور ہے تو اس کا ایک حل تو نئے کالج بنانا ہے جس کے لیے وقت اور پیسے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس کا ایک فوری حل میرے ذہن میں یہ ہوسکتا ہے کہ کرائے کی عمارتوں میں پاپولر سرکاری کالجوں کے نئے کیمپس بنائے جائیں انہیں سٹاف دیا جائے اور انہیں گورنمنٹ کالج پشاوریا گورنمنٹ فرنٹیئر کالج فاروومن پشاور نمبر 2یا نمبر 3یا نمبر4ڈکلئیر کیا جائے ۔یوں اسی فیس سٹرکچرمیں کئی ہزار بچوں کو انٹر لیول کی تعلیم دی جاسکے گی۔ یہاں ایک بات اور بھی کرتا چلو ں کہ کالج اساتذہ کی کارکردگی کا ثبوت تو والدین کا سرکاری کالجوں میںاپنے بچوں کے داخلے نہ ملنے کی تشویس سے عیاں ہے لیکن کالج اساتذہ کے ساتھ ان کی کارکردگی کے مطابق سلوک نہیں ہوا۔اسی لیے بہترین سروس سٹرکچر کے حصول کے لیے اکثر پی ایچ ڈی کالج اساتذہ یونیورسٹیوں کارخ کررہے ہے جس سے غیرمحسوس طریقے سے کالجوں سے برین ڈرین کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے ۔ سابق حکومت نے ڈاکٹروں کوبہت مناسب الاؤنس دیا ،پی ایم سروس کے لوگوں کو شاندار پیکج دیا، سکول ٹیچرز کو کئی گریڈ وں میں اپ گریڈ دیا،جونیئر کلرکس کو اپ گریڈ کیا اور گر کوئی محکمہ اپ گریڈیشن سے محروم رہا تو یہی کالج اساتذہ کہ جنہوں نے ایک تحریک چلائی اور اس کے بدلے میں حکومت نے زبانی طور پران کے مطالبات تسلیم کیے لیکن جب سابق وزیر اعلیٰ سے سمری دستخط ہوکر آئی تو ان کے موجودہ سروس سٹرکچر کوناممکن شرائط سے مشروط کردیا گیاکہ جسے کالج اساتذہ نے ماننے سے انکار کردیااور اب وہ سمری سردخانوں کی تہوں میںکہیں پڑی ہے ۔ میری نگران حکومت سے درخواست ہے کہ وہ ان ناممکن شرائط کو ہٹاکروہ سمری نوٹی فائی کرے تاکہ کالج اساتذہ کی کارکردگی کو سراہا جائے اور برین ڈرین کے اس سلسلے کو روکاجائے ۔

متعلقہ خبریں