Daily Mashriq

پانی کے بلوں کی وصولی اور ضیاع کا مسئلہ

پانی کے بلوں کی وصولی اور ضیاع کا مسئلہ

پشاور شہر میں آبنوشی کے بڑھتے مسائل پر میڈیا سے لے کر عوامی مقامات پر واویلا تو بہت کیا جاتا ہے پانی کی فراہمی میں متعلقہ ادارے کی غفلت اور کوتاہی سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ امر حیرت انگیز ہے کہ پشاور شہر کے زون اے میں پانی کے غیرقانونی کنکشنز کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کر کے چودہ ہزار کنکشنز کی نشاندہی کے بعد ان کو پانی کا جو ماہانہ بل جاری کئے گئے ان میں سے صرف دو صارفین نے بل ادا کئے۔ چودہ ہزار افراد میں سے صرف اور صرف دو صارفین کا بل جمع کروانا اور باقی دو کم چودہ ہزار صارفین کا پانی استعمال کرنے کے باوجود بلوں کی ادائیگی کی ذمہ داری نہ نبھانا جہاں شہریوں کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں کا بالکل ہی احساس نہ ہونا اور بے حسی کی انتہا ہے وہاں ان چودہ ہزار صارفین کا بل نہ دے کر پانی کے استعمال کی عادت کو پختہ بنانے میں متعلقہ ٹاؤنز اور بلدیہ کے عملے کا بھی برابر کا حصہ ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے قیام کو بھی کچھ سال گزر چکے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ نئی بوتل میں پرانی شراب ہی کے مثل ہے۔ کمپنی میں زیادہ تر وہی عملہ کھپا دیا گیا ہے جن کو خراب کارکردگی' ملی بھگت' بدعنوانیوں اور کام نہ کرنے کے باوجود تنخواہوں کی برابر وصولی کی عادت تھی۔ چودہ ہزار صارفین کی رجسٹریشن کمپنی انتظامیہ کی فعالیت کا مظہر ہے لیکن محض دو افراد کا بل جمع کرنے کے باوجود باقی ماندہ تیرہ ہزار نو سو اٹھانوے صارفین کے پانی کے کنکشنز کیخلاف کارروائی کا سامنے نہ آنا انتظامیہ کے دباؤ میں آنے کی وجہ تھی یا کوئی اور مصلحت، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وصولی کے ضمن میں کیا اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ محولہ سروے، اعداد وشمار اور نتیجہ ایک ہی زون کا تھا باقی میں نجانے کیا صورتحال سامنے آتی ہے اندازہ ہے کہ دیگر زونز کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہ ہوگی، بہرحال زون سی اور ڈی میں سروے کا عمل جاری ہے جبکہ زون بی اور اے میں سروے مکمل کر لیا گیا ہے جس کے بعد اب بلوں کی ترسیل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ کمپنی کو سروے مکمل ہونے کے بعد3لاکھ صارفین کے رجسٹرڈ ہونے کی امید ہے جو سروے کی ابتداء کے وقت محض66ہزار تھے۔ پشاور کے شہریوں سمیت ہم سب کو اس امر کا اندازہ ہی نہیں کہ جو پانی ہم بل ادا کئے بغیر مفت میں بیدردی کیساتھ استعمال کر رہے ہیں اور ہمیں اس امر کا احساس ہی نہیں کہ کیا صورتحال سامنے آنے والی ہے۔ پانی کے بلوں کی وصولی اپنی جگہ ایک سنجیدہ مسئلہ ضرور ہے لیکن اس سے بھی زیادہ سنجیدہ مسئلہ پانی کے ضیاع کو روکنا ہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی اور پی ڈی اے کی جانب سے پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے نہ تو کسی سروس سٹیشن کو بے تحاشہ پانی کے استعمال سے روکنے کی کوئی سنجیدہ کوشش سامنے آئی ہے اور نہ ہی سڑکوں اور گلیوں میں بہتے اور ضائع ہوتے پانی کے ضیاع کی روک تھام اور اس کے ذمہ دار شہریوں کیخلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی ہے۔ آبنوشی کے ضیاع کی روک تھام جس عملے کی ذمہ داری ہے وہ عملہ کبھی کسی گھر جا کر پانی ضائع کرنے والے کسی صارف کی نہ تو توجہ دلانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں اور نہ ہی نوٹس جاری کرکے تنبیہ کرتے ہیں۔ پانی کے کنکشن کاٹنے کا اقدام تو شاید ان کی کسی کتاب میں ہے ہی نہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں سوائے تشویش کے اظہار کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ جو صورتحال ملک میں پانی کی قلت کے حوالے سے سامنے آنے والی ہے اس کا نہ تو کسی کو ادراک ہے اور نہ ہی اس کی منصوبہ بندی کی کسی کو فکر ہے۔ صورتحال کا تقاضا ہے کہ پانی کے استعمال میں کفایت اور اس کے غیرقانونی استعمال کو روکنے کی ہر ممکن اور سخت سے سخت سعی ہونی چاہئے۔ پانی کے ضیاع اور ملک میں اس کے بڑھتے استعمال اور کم ہوتے ذخائر اس امر کے متقاضی ہیں کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر پانی کے ضیاع کی سختی سے روک تھام کیلئے سخت سے سخت قوانین بنائے اور اس پر عمل درآمد میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے۔ اس سے بڑھ کر تشویشناک صورتحال اور کیا ہوگی کہ پاکستان کونسل ان ریسرچ آف واٹر ریسورسز کے مطابق پاکستان کے پاس صرف 60دن کیلئے پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام موجود ہے۔ پاکستان میں زیرزمین پانی کیساتھ ساتھ دریاؤں، جھیلوں اور گلیشئرز میں خطرناک حد تک کمی آرہی ہے۔ ادارے کے مطابق2025میں پاکستان کو صاف پانی کا بہت بڑا مسئلہ پیش آئے گا۔ یو این او کے ایک رپورٹ کے مطابق سال2040تک پاکستان واٹر سٹریس میں داخل ہو جائے گا جہاں پانی کی شدید مشکلات ہوںگی۔ جس قسم کی صورتحال سے ہم دوچار ہیں اس کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں ہنگامی بنیادوں پر پانی ذخیرہ کرنے کے انتظامات کئے جائیں اور پانی کے ضیاع کی روک تھام کیلئے قومی مہم شروع کی جائے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام نہ صرف پانی کے بلوں کی وصولی یقینی بنا کر کمپنی کو آبنوشی کے انتظامات کی بہتری کیلئے وسائل مہیا کرنے میں کامیابی حاصل کریں گے بلکہ پانی کے ضیاع کی روک تھام کی ذمہ داری بھی سنجیدگی سے نبھائیں گے۔

متعلقہ خبریں