Daily Mashriq

نشہ آور اشیاء کیخلاف سنجیدہ مہم کی ضرورت

نشہ آور اشیاء کیخلاف سنجیدہ مہم کی ضرورت

سگریٹ' تمباکو اور نسوار کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے طور پر ہر سال بجٹ میں بطورخاص ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے استعمال میں کمی نہیں آتی۔ اب تو شیشہ کا استعمال بھی بڑھتا جا رہا ہے جو تشویش کا باعث امر ہے۔ حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے پانچ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے متا ثر ہو رہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے باعث اپنی زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔ ایک غیرسرکاری تنظیم کی جانب سے صوبائی ووفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ سگریٹ کی ڈبیوں کے85فیصد حصے پر صحت سے متعلق تصویری انتباہ فوری نافذ کیا جائے تاکہ تمباکو نوشی پر کسی حد تک قابو پایا جا سکے، ایک موزوں اور قابل عمل تجویز تھی۔ گٹکے اور نسوار پر بھی پابندی عائد کی جائے تاکہ ملک میں منہ کے بڑھتے کینسر پر قابو پایا جائے اور عوامی مقامات پر پابندی کو یقینی بنایا جائے لیکن ان تجاویز پر عملدرآمد تو درکنار سرکاری طور پر اسے سنجیدگی ہی سے نہیں لیا گیا۔ ہمارے مقابلے میں دیگر ممالک کے اقدامات قابل ستائش ہیں، جنہوں نے نسوار کو نشہ آور چیز قرار دیکر اپنے ہاں لانے پر پابندی عائد کردی۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر نے نسوار کو نشہ قرار دینے کی رولنگ دی مگر ان کو جس مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا وہ کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ امر واقع یہ ہے کہ نسوار' پان' چھالیہ' گٹکا اور سگریٹ نوشی کی روک تھام کیلئے جو کردار والدین' اساتذہ' میڈیا اور معاشرے کو ادا کرنا چاہئے اس کا فقدان ہے۔ عام مشاہدے کی بات ہے کہ چھوٹے چھوٹے لڑکے اور نوجوان اس لعنت میں بری طرح مبتلا ہیں۔ قانونی طور پر کسی دکاندار کو اٹھارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو سگریٹ فروخت نہیں کرنی چاہئے مگر یہاں سگریٹ تو کیا چرس' شراب' آئس اور ہر قسم کی نشہ آور اشیاء بہ آسانی دستیاب ہیں اور یہی باآسانی دستیابی کسی بھی نشے میں اضافے اور اس کے عام ہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پبلک مقامات پر قانونی طور پر سگریٹ نوشی کی ممانعت ضرور ہے لیکن اس قانون پر عملدرآمد کون کرائے، کیسے کرائے اور سرعام بسوں ' پارکوں اور عوامی مقامات پر سگریٹ پینے والوں کو کون روکے، کسی کو اس سے غرض نہیں۔ اگر ہمیں اس لعنت کی روک تھام کرنی ہے تو پھر سگریٹ کی ڈبیوں پر اس کے مضر اثرات کی تشہیر کافی نہیں بلکہ اس کا عام زندگی یہاں تک کہ ڈراموں اور فلموں میں بھی اس کے استعمال پر پابندی لگانی چاہئے۔ والدین اپنے بچوں، سکولوں' کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ اپنے شاگردوں کو ان مضرصحت چیزوں سے بچنے کی تلقین کریں اور ان پر نظر بھی رکھیں۔ جب تک اس فعل کو معاشرے میں برا خیال نہیں کیا جائے گا اور اس کی مجموعی طور پر مذمت نہیں کی جائے گی اس لعنت کی روک تھام ممکن نہیں۔

احتیاط اور گریز بچاؤ کی بہتر صورت ہے

سوشل میڈیا جس قسم کے گمراہ کن مقاصد' غلط فہمیاں پھیلانے' الزام تراشی اور کردارکشی کیلئے استعمال ہو رہا ہے، یہ قومی ومعاشرتی المیہ بنتا جا رہا ہے جس کی روک تھام نہ ہوئی تو کسی کی جان ومال اور آبرو محفوظ نہیں رہے گی۔ حال ہی میں موبائل پر اور خفیہ کیمروں کے ذریعے جو سچے جھوٹے اور مشکوک سکینڈلز مخصوص مقاصد کے تحت سامنے لانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے نجانے اس کا انجام کیا ہو اور یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے؟ اس کا نشانہ کسی نہ کسی طرح خواتین اور خواتین کا بطور جال استعمال ہے۔ خواتین مختلف صورتوں میں اس کا خاص طور پر نشانہ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ، ویب سائٹس، موبائل میسجز اور بلاگس کے استعمال کے دوران چونتیس فیصد خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کی صداقت پر کسی شبے کے اظہار کی بجائے اگر روایتی معاشرے کی صورتحال کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو اس امر کا سوفیصد امکان ہے کہ نیٹ استعمال کرنے وا لی تقریباً ہر خاتون کو ہراساں کرنے کی سعی کا سامنا کرنا پڑے۔ بہرحال خواتین کو نیٹ کی سہولت سے دور رہنے کا تو مشورہ نہیں دیا جا سکتا البتہ ان کو اس کے استعمال سے قبل ہر طرح سے شعور اور محفوظ طریقہ کار سے آگاہی کا مشورہ دینا مناسب ہوگا۔ اگر ناگزیر نہ ہو تو سوشل میڈیا پر تصاویر کی اشاعت کے شوق سے بھی احتراز خود خواتین کے مفاد میں ہوگا۔ رابطے کے دیگر ذرائع کا استعمال احتیاط اور ذمہ داری کیساتھ کیا جائے تو ان کی افادیت اور عدم احتیاط کے نقصانات کے مظاہر کسی سے پوشیدہ امور نہیں۔ طالبات کو سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں اس ضمن میں خاص طور پر احتیاطی اور حفاظتی تدابیر سے آگاہی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی مہم شروع کی جائے گی جس میں طالب علموں اور خاص طور پر اس کے مثبت استعمال کی طرف راغب کرنے پر خصوصی توجہ ہوگی۔

متعلقہ خبریں