Daily Mashriq

اُنگلی کے پوروں کے جھوٹ

اُنگلی کے پوروں کے جھوٹ

دنیا بھر اور خصوصاً ہم جیسے ترقی پذیر ملکوں میں اظہار رائے کی آزادی کی کمی اور اس کے غلط استعمال کی شکایات روزبروز بڑھ رہی ہیں۔ ملک میں جاری ایک واضح جنگ اس میدان میں بھی لڑی جارہی ہے جس میں برسراقتدار تحریک انصاف کے کارکن، ان کے حامی اداروں کے لوگ اور ان دونوں کے حمایتی اپنے مخالف مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اورکچھ میڈیا اینکرز سے دست بگریبان نظر آرہے ہیں۔ ایک دوسرے کیخلاف بغاوت سے لیکر قتل تک کے فتوؤں اور اپنی صفائی دینے کا عمل جاری ہے۔ ایک دوسرے سے اُلجھے یہ کوئی عام لوگ نہیں بلکہ دونوں جانب کافی صائب الرائے اور اہم لوگ موجود ہیں جن کا اپنا اپنا حلقہ اثر ہے، جس میں ان پر یقین کیا جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے پر الزام لگاتے اور خود کو حق بجانب ثابت کرتے ہوئے یہ ضرور کہتے ہیں کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ اظہاررائے کی آزادی کی جنگ تھی جبکہ ان کے مخالف کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے مقصد کیلئے نام تو اس حق کا استعمال کیا لیکن کام اپنا نکالا۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کا مخالف نہ صرف انسانی حقوق کو پامال کر رہا ہے بلکہ وہ گناہ کا بھی مرتکب ہو رہا ہے۔ وہ دونوں اظہارآزادی کے نام پر اپنی اپنی خدمات اور قربانیوں کے حوالے دے کر لوگوں کو یاد دلا رہے ہیں کہ وہ ٹھیک ہیں اور ان کا مخالف غلط ہے۔

اس جنگ کی بنیاد بننے والے اس حق کو اقوام متحدہ نے 1948 کے انسانی حقوق کے ڈیکلریشن میں بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکہ، فرانس اور جرمنی کے قوانین میں زبانی، لکھے اور بولے جانے والے الفاظ میں یعنی ہر طریقے سے یہ انسان کا بنیادی حق ٹھہرا ہے کہ اسے جمہوری ملک میں جو بھی چیز بری لگے وہ اس کیخلاف سزا کے خوف سے بالاتر ہوکر آواز اُٹھائے اور زبان کھولے۔ ان ممالک میں کہیں پر بھی سنسرشپ کو لوگوں کے بنیادی حقوق سے انحراف کے برابر مانا جاتا ہے اور اسے انتہائی برا سمجھا جاتا ہے۔ ان ممالک میں جہاں آمریت کا راج رہا، وہاں لوگوں کو آزادی اظہاررائے کا یہ حق حاصل نہیں تھا۔ رومن ایمپائر کے دور میں اس حق کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی تو عرب سپرنگ کے نام پر نکلنے والے لوگوں کو بھی اس حق کے استعمال سے روکا گیا۔ آمریت کی ہر قسم میں معلومات کے حصول کیلئے لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی کو بھی شجرممنوعہ قرار دیا جاتا ہے بلکہ اب تو بعض جمہوری ممالک میں بھی اس حق کو استعمال کرنے کی محدود اجازت ہے۔ اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک کی طرح پاکستان کے شہریوں کو حاصل دیگر انسانی حقوق کی طرح اظہارآزادی رائے کا حق بھی حاصل ہونا چاہئے، یہاں بھی ١٩٧٣ کے آئین کے آرٹیکل ١٩ کے مطابق لوگوں کو کسی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار اور اس کیخلاف بلاخوف وخطر آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے لیکن اس حق کے آئین میں شامل ہونے کے باوجود ہمارے ہاں ابھی دانشور طبقے کا ایک بڑا حصہ یہ سمجھتا ہے کہ یہاں پر انسان کو وہ آزادیاں حاصل نہیں جیسی ہونی چاہئے تھیں۔ یہ دانشورکہتے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگوں کو کبھی امن وامان، کبھی اسلام اور کبھی قومی مفاد کے نام پر اس حق کے استعمال سے روک دیا جاتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ابھی یہ بھی طے نہیں ہو پایا کہ اظہاررائے کی آزادی کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں اس کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ ہم جیسوں کو تو تب پتہ چلتا ہے جب بات بہت آگے نکل چکی ہوتی ہے اور میڈیا والوں کو سزا دینے کی ٹرینڈ ٹویٹر پرکافی جگہ پکڑ چکی ہوتی ہے جس میں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ ملک میں لفافہ صحافیوں کو سزائیں ہونی چاہئیں۔

ملک میں اظہاررائے کی کوئی مستند اور متفقہ تعریف نہ ہونے کی بدولت کبھی تو کوئی بڑی سے بڑی بات بھی پکڑ سے بچ جاتی ہے اور کسی کی معمولی بات بھی قابل گردن زدنی ٹھہرتی ہے۔ ایک طرف یہ عمل جاری ہے تو دوسری طرف نفرتوں کے سوداگر بڑی خاموشی اور پوری آزادی سے ہمارے ہاتھوں میں موجود موبائل فونز میں اپنی مرضی کا چورن ڈال رہے ہیں۔ ایک سٹڈی کے مطابق اس وقت پاکستان میں کسی بھی معاملے کو سب سے زیادہ ہوا لوگوں کے ہاتھوں میں موجود ان موبائل فونز کے ذریعے دی جاتی ہے جس کے بل لوگ خود بھر رہے ہوتے ہیں۔ حکومت نے فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب کو تو آمادہ کر لیا کہ وہ اس کیخلاف مواد کو روکتے رہیں لیکن جو سب سے زیادہ خطرناک عمل جاری ہے وہ ہے ایک موبائل سافٹ ویئر واٹس ایپ کا، جس پرکوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ اس سافٹ ویئر کے ذریعے کوئی بھی ایسا فرد جس نے کبھی سکول اور مدرسے کا رخ تک نہ کیا ہو اور اسے اس بات کی سمجھ بھی نہ ہو کہ اس کے موبائل میں آنے والی ویڈیو، آڈیو اور لکھا پیغام کیا تباہی مچا سکتا ہے وہ اسے فارورڈ کر رہا ہوتا ہے۔ ملک بھر میں کوئی پسماندہ گاؤں، قصبہ اور دیہات ایسا نہیں جہاں کے مکینوں کے ہاتھوں میں موبائل فون نہ ہوں، جن کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے کام لیتے ہیں اور یوں وہ یہ مواد بغیر کسی تصدیق اور اخلاقی ضابطے کے اگلے کئی موبائل فونز میں بھیجتا ہے۔ یوں یہ دھندا پڑھے لکھے لوگوں سے لیکر اَن پڑھوں تک کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی کے بھی تیارکردہ مواد کو بھیجنے کے لئے استعمال ہوتا رہے۔

بات جو بھی ہو لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ جب ملک میں اظہاررائے کی آزادی پر قدغن لگتا ہے توگھٹن اور فرسٹریشن بڑھتی ہے اس لئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اب اس مسئلے کو حل کر ہی لیا جائے کیونکہ اس جنگ سے اب عام لوگ اور ہم جیسے صحافی متاثر ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں