Daily Mashriq

بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اور پاکستان

بھارت کا بڑھتا ہوا دفاعی بجٹ اور پاکستان

دنیا میں اسلحے کی تیاری، خریداری اور دوسری جنگی سرگرمیوں پر خرچ کرنے والے ملکوں میں امریکہ سرفہرست ہے۔ امریکہ چین سے تین گنا زیادہ بجٹ دفاعی اور جنگی تیاریوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس فہرست میں امریکہ کے بعد چین کا نام آتا ہے جو 2017میں بھارت سے تین گنا زیادہ بجٹ جنگی تیاریوں پر خرچ کرتا تھا۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ نامی ایک تھنک ٹینک نے 2017میں ہی اپنی جاری کردہ رپورٹ میں کہا تھا کہ چین کے فوجی اخراجات 228بلین ڈالر جبکہ اسی سال بھارت کے فوجی اخراجات 64بلین ڈالر تھے۔ اسی سال بھارت نے اپنی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا 2.5فیصد جنگی تیاریوں کیلئے استعمال کیا جبکہ چین نے اپنی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 1.9فیصد حصہ دفاعی سرگرمیوں پر خرچ کیا۔ گویا کہ بھارت چین کی نسبت اپنی مجموعی قومی پیداوار کا زیادہ حصہ جنگی تیاریوں یا دفاعی سرگرمیوں پر خرچ کرتا ہے۔ یہ بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے اور ہر گزرتے دن کیساتھ بھارت میں جنگی سرگرمیوں کو بڑھانے کا جنون بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ رپورٹس بتا رہی ہیں کہ اگر بھارت نے اپنا دفاعی بجٹ بڑھانے کی یہی رفتار جاری رکھی تو 2025,27تک بھارت اپنا دفاعی بجٹ دوگنا یعنی120 سے 130بلین ڈالر کردے گا۔ اس پس منظر میں مودی حکومت نے دوبار منتخب ہونے کے بعد اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ وزیرخزانہ سیتارمن نے بجٹ تقریر میں دفاعی بجٹ میں آٹھ فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔ اس سال دفاع کیلئے 318931کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو گزشتہ سال کی نسبت آٹھ فیصد زیادہ ہے۔ دفاع سے وابستہ افراد کی پنشن وغیرہ اس میں شامل نہیں جس کیلئے 112089کروڑ کی رقم الگ سے رکھی گئی ہے، بجٹ تقریر میں دفاع سے متعلق باقی تفصیلات کو پردۂ اخفا میں رکھا گیا ہے۔ بھارتی خاتون وزیر خزانہ نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند برس میں بھارت امریکہ اور چین کے بعد تیسری بڑی معیشت ہوگا۔ بھارت کے دفاعی بجٹ میں اضافہ اس وقت ہوا ہے جب پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا بلکہ فوج کی طرف سے ملک کے معاشی حالات کے باعث رضاکارانہ طور بجٹ میں اضافے سے دستبرداری ظاہر کی گئی۔ اس کے قطعی برعکس بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافے کا راستہ اپنایا۔ بھارت کا یہی رویہ خطے میں اسلحے کی نہ ختم ہونے والی دوڑ کا باعث بنا ہے۔ بھارت خود کو چین کے ہم پلہ ثابت کرنے کیلئے دفاعی شعبے میں اخراجات اور ترقی کیلئے بگٹٹ دوڑ رہا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ بھارت میں کروڑوں افراد خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت کے عام اور مفلوک الحال شہری کی زندگی کی عکاسی بالی ووڈ کی مشہور فلم ''سلم ڈوگ'' میں کی گئی تھی۔ صحت اور تعلیم پرخرچ ہونے والی رقم اسلحہ ساز کمپنیوں کی تجوریوں میں جائے تو عوام کی یہی درگت بنتی ہے۔ بھارت کیساتھ پاکستان کے کئی مسائل مسلسل سلگتے چلے آرہے ہیں جن میں کشمیر کا مسئلہ سرفہرست ہے۔ اس وجہ سے دونوں ملک مستقل کشیدگی اور آویزش کی حالت میں ہیں۔ بھارت پاکستان کیخلاف نہ صرف یہ کہ خفیہ جارحانہ عزائم رکھتا ہے بلکہ عملی جارحیت سے چوکتا بھی نہیں۔ سقوط ڈھاکہ میں بھارت کے کردار اور ایک اور سقوط کو روکنے کیلئے ہی پاکستان کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا فیصلہ کرنا پڑا۔ بھارت نے خود کو مصنوعی طور پر چین کے ہم پلہ ثابت کرنے کے نام پر اسلحہ کے انبار لگائے مگر چین کیساتھ وہ ایک ہی جنگ لڑ کر تھک گیا اور اس کے بعد عملی تصادم کے کام سے ہمیشہ کیلئے باز آیا حتیٰ کہ حالیہ برسوں جب بھارتی فوج نے ڈوکلام میں پیش قدمی کی تو چینی فوج نے آنکھیں اور مُکے دکھا کر ہی بھارتی فوج کو پسپا کر دیا۔ پاکستان اور بھارت کا معاملہ اس سے قطعی مختلف ہے، بھارت پاکستان کیساتھ کئی جنگیں لڑ چکا ہے اور اب بھی کئی محاذوں پر درپردہ جنگیں یعنی پراکسی وارز چھیڑے ہوئے ہے۔ بالخصوص پاکستان کے ملٹی کلچرل معاشرے میں مختلف قومیتوں کے اندر فالٹ لائنز تلاش کرکے انہیں ایکٹو کر دینا بھارت کا محبوب مشغلہ ہے۔ بھارت کی اس سوچ اور حکمت عملی کے باوجود پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرکے اچھا فیصلہ کیا۔ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی صورت میں کم ازکم ڈیٹرنس پیدا کر چکا ہے۔ اب اسے بھارت کی ہر توپ کے مقابلے میں توپ، ہر میزائل کے مقابلے میں میزائل لانے اور ہر فوجی کے مقابل فوجی کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ پاکستان کی معیشت کو عدم توازن کا شکار کرنا اب بھارت کی خواہش ہو سکتی ہے مگر پاکستان کے پالیسی سازوں کو اب زیادہ توجہ معاشی استحکام پر دینی چاہئے کیونکہ اب معیشت کا عدم استحکام ریاستوں کیلئے بیرونی جارحیت سے زیادہ سنگین چیلنج کی شکل اختیا کرتا جا رہا ہے۔ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارت چین کے مقابلے کے جو خواب دیکھ رہا ہے اسے خواب دیکھنے کیلئے تنہا چھوڑ دینا چاہئے۔ وقت خود اس جنونیت اور عدم توازن کا حساب لیگا مگر پاکستان کو بھارت کی اندھی تقلید کی بجائے اپنے داخلی حالات کے مطابق اپنی دفاعی پالیسی اور بجٹ ترتیب دینا چاہئے اور اب اس کا آغاز ہو چکا ہے۔

متعلقہ خبریں