Daily Mashriq

نفرتوں سے محبت کاشت نہیں ہوتی

نفرتوں سے محبت کاشت نہیں ہوتی

بند گلی میں راستہ بنتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ہجوم نکاسی کا راستہ بنانے کی ہمت کرنے کی بجائے اس گلی میں دھکیلے جانے والے راستے کی طرف پلٹنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ کوئی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ داخلی راستے سے پلٹنے کی خواہش سے بھگدڑ مچے گی۔ بھگدڑ کا نتیجہ جانتے ہوئے بھی سبھی ایک دوسرے کو کہنیاں مارے جا رہے ہیں۔ گلی سے باہر کا حال یہ ہے کہ ہم الحمدللہ 1980ء کی دہائی والی سیاست کا طوق گلے میں ڈالے فخر سے ایک دوسرے کی بہو بیٹیوں اور بہنوں پر جملے کسنے میں مصروف ہیں۔ لوگوں کو اس صورتحال پر متوجہ کرو تو جواب ملتا ہے' نون لیگ بھی تو یہی کرتی تھی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نوانصافیوں کی اعلیٰ اخلاقیات کو رو رہے تھے کہ سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی کے کچھ حامی بھی اس رنگ میں رنگے دکھائی دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی تمام خرابیوں کے باوجود بہرطور نون لیگ اور تحریک انصاف کے مقابلہ میں ایک قدیم اور سیاسی عمل سے گزری جماعت ہے۔ مجھ سے سچ پوچھئے تو بدزبانی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم مذہبی جماعتوں کے احباب بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ مگر ان سے شکوہ اس لئے نہیں بنتا کہ یہ جماعتیں قائم ہی نفرت کی بنیاد پر ہوئی ہیں ''ہم حق پر اور دوسرے گمراہ ہیں'' کی سوچ پر قائم جماعتیں اصلاح معاشرہ میں کیا کردار ادا کرسکتی ہیں، یہ زمین میں دفن خزانہ نہیں کہ برآمد کرنے کیلئے لاکھ جتن کرنے پڑیں گے۔ یہ بھی سچ ہے کہ سیاسی جماعتیں اب رہی نہیں۔ خاندانی کمپنیوں کے ملازم ہوں یا آستانہ عالیہ آبپارہ شریف کے محبان سب ایک ہی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ پچھلے چند ماہ سے سوشل میڈیا پر صحافیوں کیخلاف منظم انداز سے مہم چل رہی ہے۔ حکومت وقت کے حامی صحافی اور کچھ اداروں کے پرانے لے پالک اپنا اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ گو یہ پہلی بار نہیں ہو رہا ہمیشہ ایسا ہوا حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو جمہوریت' ملک اور حب الوطنی کیخلاف سازش قرار دیا گیا۔ یہ رویہ درست تھا نہ ہے ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ جن اہل صحافت کو ہدف ملامت بنا کر گالیاں دی جا رہی ہیں وہ تقریباً وہی ہیں جنہوں نے 126دن دھرنے میں جمہوریت کی حمایت کرنے کی بجائے دھرنے والوں کی حمایت کی تھی۔ ایک طور تو ہمارے ان دوستوں کیساتھ صحیح ہو رہا ہے، اس ''آزادی'' کو پروان چڑھانے میں یہی پیش پیش تھے۔ کسی دوست کو یاد تو ہوگا کہ بند لفافوں میں ملنے والی رپورٹوں کو انہوں نے کیسے خصوصی تحقیقاتی سٹوری بنا کر لکھا اور پیش کیا۔

پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت سیکورٹی رسک ہوئی، پھر نواز شریف غدار قرار پائے۔ دونوں کاموں میں حصہ ڈالنے والے صحافی دوستوں کو اب منہ بسور کر رونا نہیں چاہئے۔ صحافت کے مجھ سے طالب علم تب بھی عرض کرتے تھے کہ غیرجانبداری ہرگز نہیں ہوتی اس کا دعویٰ ہی منافقت سے عبارت ہے، البتہ خبر' تجزیہ' کالم لکھتے وقت صحافتی اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔ اب بھی یہی عرض ہے کہ تحریک انصاف میں سارے فرشتے ہرگز نہیں، پرانے انصافی تو اب خال خال دکھتے ہیں۔ دوسری جماعتوں سے آئے ہوئے لوگ حکومت پر قابض ہیں اور یہی آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے لے جانے پر بضد بھی ہیں۔ حکومت کی پالیسیوں اور بعض امور پر اختلافات فطری ہیں مگر ہمارے دوستوں کو ذاتی غصے میں اس پروپیگنڈے کو آگے نہیں بڑھانا چاہئے جس سے کچھ شرپسند یہ فائدہ اُٹھا سکیں کہ لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکائیں۔ سینئر تجزیہ نگار تو خیر اس ملک میں پیدائشی ہوتے ہیں ان کی خدمت میں بندہ کیا عرض کرے، البتہ پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کا حصہ بنے دوستوں سے مودبانہ درخواست ہے کہ وہ کم ازکم شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے کو آگے نہ بڑھائیں۔ مذہبی انتہا پسندی کا خمیازہ بہت بھگت چکی یہ قوم' ہر شخص اپنے عقیدے پر عمل اور اس کے اظہار کیلئے کاملاً آزاد ہے۔ البتہ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ دوسرے کے عقیدے پر انگلی اُٹھائے، اس کے جذبات سے کھیلے یا فتویٰ دے۔

سیاست کے میدان میں ہوتی لڑائیوں سے دو دن قبل حیدرآباد سندھ میں ہندوؤں کی ایک مقامی عبادت گاہ میں ایک ڈی ایس پی کی اہلیہ نے جو طوفان بدتمیزی برپا کیا اور جس طرح ہندو برادری کو اپنی عبادت بند کر دینے کیلئے دھمکایا وہ شرمناک ہے۔ سندھ حکومت کا اولین فرض یہ ہے کہ اس افسوسناک واقعہ کا نوٹس لے اور ہندو برادری جو پہلے ہی اپنی بچیوں کے اغواء اور زبردستی تبدیلی مذہب کے واقعات پر سراپا احتجاج ہے اس کی دادرسی کرے تاکہ آنے والے دنوں میں کہیں اور کسی افسر کی اہلیہ کسی کی عبادت میں یہ کہتے ہوئے مداخلت نہ کرے کہ ''بند کرو اپنا یہ ڈرامہ میری نیند خراب ہو رہی ہے۔'' سیاست کے میدان میں ایک ویڈیو ہنگامہ برپا کرچکی، حکومت نے مریم نواز کی پیش کردہ ویڈیو پر جو ردعمل دیا اس کا سنجیدہ تجزیہ یہ سمجھاتا ہے کہ ''دال میں کچھ کالا ہے ضرور'' بہرطور جج صاحب کی تردید نے بحث کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔ سو اب بہت ضروری ہوگیا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اس معاملے کا نوٹس لے اور ویڈیو کے حوالے سے ساری تحقیقات سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے معزز جج کی نگرانی میں ہو تاکہ حقیقت عیاں ہوسکے۔ اس تحقیقات سے قبل اگر مذکورہ جج صاحب کی عدالت میں زیرسماعت مقدمات کے معاملے کو روک یا دوسری عدالت میں منتقل کر دیا جائے تو یہ زیادہ مناسب ہوگا۔ آخری بات افغانستان کے حوالے سے ہے جہاں ایک طرف امن مذاکرات ہو رہے ہیں اور دوسری طرف پچھلے پندرہ دنوں کے د وران چار خودکش حملوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ عجیب سی بات ہے کہ ان چاروں افسوسناک واقعات کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کی، سوال یہ ہے کہ اگر طالبان نے انسانیت کش پروگرام ہی جاری رکھنا ہے تو پھر امن مذاکرات کا ڈھونگ رچانے کی ضرورت کیا ہے؟ طالبان کی قیادت کو بھی سوچنا چاہئے کہ اپنے ہم وطنوں کی نسل کشی سے اسے کیا فائدہ ہوگا اور مستقبل میں نقصان کتنا ہوگا؟

متعلقہ خبریں