Daily Mashriq

اے روشنی طبع۔۔

اے روشنی طبع۔۔

احمد ندیم قاسمی نے اپنی یادداشتوں میں کسی جگہ لکھا ہے کہ انارکلی بازار کے ایک بزرگ دکاندار سے ہم کبھی کبھار شیونگ بلیڈ یا ٹوتھ پیسٹ وغیرہ خریدتے تھے دکاندار کے لمبے کائونٹر کے پرلی طرف خواتین کا ہجوم ہوتا تھا جو اس بزرگ کے صاحبزادے سے میک اپ وغیرہ کا سامان خرید رہی ہوتی تھیںہمیں ٹوتھ پیسٹ یا بلیڈوں کا پیکٹ دیتے ہوئے بزرگ دکاندار خواتین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا تھا : آپ دیکھ رہے ہیں نا؟یہ جوان لڑکیاں اور ان کی مائیں جو میک اپ کا سامان خرید رہی ہیںاس کا اتنا لمبا بل بنے گا کہ اگر ایک عام آدمی کو یہ بل دیا جائے تو وہ غش کھا کر گر پڑے مگر ہماری یہ بیٹیاں اور بہنیں آرائش و زیبائش کے اس سامان کی قیمت یوں سہولت سے ادا کردیں گی کہ نہ ان کے ماتھے پر بل آئے گا اور نہ ان کا ہاتھ کانپے گا ۔ دیکھ لیجیے ہماری نسل کس طرف جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سامان کے بغیر خواتین کی گزر نہیں ہوسکتی ؟میں ہر روز بیسیوں مرتبہ یہ منظر دیکھتا ہوں اور خون کے گھونٹ پی کے رہ جاتا ہوں۔ ایک مرتبہ ہم سے ضبط نہ ہوسکا ہم نے کہا قبلہ ! اگر آپ اپنے نیک جذبات کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہیںکہ دن بھر خون کے گھونٹ پیتے رہتے ہیںتو آپ یہ سامان بیچتے کیوں ہیں؟آپ بیچیں گے نہیں تو کوئی خریدے گا کیا؟ آپ بھی حد کرتے ہیںمیک اپ کے سامان سے آپ کی دکان اٹی پڑی ہے مگر اس سامان کی بکری ہوتی ہے تو آپ کی غیرت بیدار ہوجاتی ہے آپ کی غیرت اس وقت کہاں چلی جاتی ہے جب آپ یہ سامان اپنی دکان میں سجارہے ہوتے ہیں؟دکاندار نے ہماری کھری کھری سن کر ہمیں اس بری طرح گھورا کہ اگر آنکھیں بول سکتیں تو ہمارے لتے لے ڈالتیں۔ پلٹ کے پرلی طرف جاتے ہوئے بولے ، آپ نہیں جانتے صاحب یہ کاروبار کی مجبوریاں ہیں 

کاروبار ہی کے حوالے سے یہ بھی پڑھ لیںایک پیر صاحب یاد آرہے ہیں جو ایک کسان کو اولاد نرینہ کا تعویز دے رہے تھے میں نے عرض کیا کہ اگر اس کسان کا بیٹا نہ ہوا تو وہ کہیں آپ کے خلاف انتقامی کاروائی نہ کر بیٹھے ؟ پیر صاحب مسکرائے اور فرما یا : میرے پاس ہر صورتحال کا شافی جواز موجود ہوتا ہے اگر بیٹا ہوگیا تو ہمارے بھی وارے نیار ے اور اگر نہیں ہوتا تو صاف ظاہرہے کہ اس نے تعویز باوضو ہو کرنہیں باندھا ہوگااور بندھے ہوئے تعویز کی صورت میں بری باتوں سے اجتناب نہیں کیا ہوگا ۔ آپ بے فکر رہیں ہمارا کاروبار سالہا سال سے یوں ہی نہیں چل رہا ہے !دوپہر کے ساڑھے بارہ بجے ہیں جون کا مہینہ ہے سمن آباد میں ایک ڈاکیہ پسینے میں شرابور بوکھلایا ہوا سا پھر رہا ہے محلے کے لوگ بڑی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے ہیں دراصل آج اس کی ڈیوٹی کا پہلا دن ہے وہ کچھ دیر ادھر ادھر دیکھتا ہے پھر ایک پرچون والے کی دکان کے پاس سائیکل کھڑی کرکے دکاندار کی طرف بڑھتا ہے۔ قاتل سپاہی کا گھر کو ن سا ہے ؟ اس نے آہستہ سے پوچھا ۔ دکاندار کے پیروں تلے زمین نکل گئی اس کی آنکھیں خوف سے ابل پڑیں ۔ قق قاتل سپاہی مجھے کیا معلوم ؟اس نے جلدی سے دکان کا شٹر گرادیا۔

ڈاکیہ پھر پریشان ہوگیا اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طریقے سے قاتل سپاہی کا پتہ چل سکے لیکن جو کوئی بھی اس کی بات سنتا چپکے سے کھسک جاتا ۔ ڈاکیہ نیا تھا نہ جان نہ پہچان اور اوپر سے قاتل سپاہی کے نام کی رجسٹری اگر وہ کرے تو کیا کرے کہاں سے ڈھونڈے قاتل سپاہی کو؟اس نے پھر نام پڑھا نام اگرچہ انگلش میں تھا لیکن آخر وہ بھی مڈل پاس تھا تھوڑی بہت انگلش سمجھ سکتا تھا بڑے واضح الفاط میں ! قاتل سپاہی غالب سٹریٹ سمن آباد لکھا ہوا تھا دو گھنٹے تک گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد وہ ہانپنے لگا پہلے روز ہی اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اب وہ اپنے پوسٹ ماسٹر کو کیا منہ دکھائے گا ۔اس کا حلق خشک ہوگیا اور پانی کی طلب محسوس ہوئی وہ بے اختیار آگے بڑھا اور ایک گھر کے دروازے پر لگی گھنٹی پر انگلی رکھ دی ۔ اچانک اسے ایک زوردار جھٹکا لگا جھٹکے کی اصل وجہ یہ نہیں تھی کہ گھنٹی میں کرنٹ تھا بلکہ گھنٹی کے نیچے لگی ہوئی پلیٹ پر انگلش میں قاتل سپاہی لکھا ہوا تھا ! اس کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا اور ایک نوجوان باہر نکلا۔ ڈاکیے نے جلدی سے رجسٹری اس کے سامنے کردی : کیا آپ کا ہی یہ نام ہے ؟نوجوان نے یہ نام پڑھا اور کہا نہیں یہ میرے دادا ہیں ۔ ڈاکیے نے جلدی سے پوچھا کیا نام ہے ان کا ؟نوجوان نے بڑے اطمینا ن سے کہا قتیل شفائی ۔مشہور ادیب ظہیر اختر حیدری مرحوم لکھتے ہیں : ہمارے ایک دوست نے کتابوں کی دکان کھولی تھی دکان کے افتتاح کے لیے ہم مشہور شاعر و ادیب حضرت ابن انشاکو وہاں لے گئے ۔ ابن انشا نے ہم سے کہا کہ کیا آپ کے دوست کوئی اور دکان نہیں کھول سکتے تھے ؟ ہم نے پوچھا کیا مطلب؟وہ بولے بھائی ! کتابوں کی دکان نہیں چلے گی۔ کتابوں کے بجائے جوتوں کی دکان کھلتی تو خوب چلتی ! ہم نے پوچھا کیسے ؟ کہنے لگے ہماری قوم کو کتابوں سے زیادہ جوتوں کی ضرورت ہے اتفاق دیکھیے بعد میں کتابوں کی دکا ن بند ہوگئی اور وہاں جوتوں ہی کی دکان کھلی اور جوتے خوب چلے!

متعلقہ خبریں