Daily Mashriq


الیکشن بارے خدشات و تحفظات کامعاملہ

الیکشن بارے خدشات و تحفظات کامعاملہ

مسلم لیگ ن نے پروفیسرحسن عسکری کی بطورنگران وزیراعلیٰ پنجاب تقرری مستردکردی ہے جبکہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پرڈٹ گیا ہے اورن لیگ کے اعتراضات مستردکردیئے ہیں ۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن)کے رہنمائوں کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نگران وزیراعلیٰ کا غیرجانبدار ہونا لازمی ہے ، پنجاب کیلئے ہماری جانب سے دیئے گئے نام معروف ہیں لیکن الیکشن کمیشن نے ایک ایسے شخص کو نگران وزیراعلیٰ پنجاب مقررکردیا جو غیر جانبدار نہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے نے انتخابات کو شبہ میں ڈال دیا ہے، پاکستان کے عوام ان انتخابات کورد کریں گے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ26 اپریل 2018 کو حسن عسکری نے آرٹیکل میں الیکشن میں تاخیر کی بات کی اور کہا گرمی کی وجہ سے الیکشن میں تاخیر ہوسکتی ہے، نگرانوزیراعلیٰ کا فیصلہ پورے الیکشن کو شبہ میں ڈال دے گا الیکشن ہم نے لڑنا ہے نگران حکومت نے نہیں۔گوکہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تحریروں اور تجزیات کی روشنی میں مسلم لیگ(ن) کاحسن عسکری کی بطور نگران وزیر اعلیٰ نامزدگی پر اعتراض بے جا نہیں لیکن اب اس کے تحفظات کے باوجود ان کا تقرر ہو چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبوں کے نگران وزائے اعلیٰ کے ناموں پر عدم اتفاق سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ سیاست اور جمہوریت کی بھی ناکامی ٹھہرتی ہے جو محض دو ماہ کے لئے نگران عہدے کے لئے کسی نام پر متفق نہیں ہوسکتے البتہ نگران وزیر اعظم کے معاملے میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے رہنمائوں کا اتفاق رائے ان جماعتوں کی بالغ نظری اور سیاسی سنجیدگی کا مظہر ہے جبکہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقرری کے معاملے پر تحریک انصاف کا از خود نام تجویز کرکے اس پر اتفاق ہونے کے بعد اپنے ہی تجویز کردہ نام کی واپسی جگ ہنسائی کا باعث بنا ۔ حسن عسکری کا نام بھی تحریک انصاف نے دیا تھا۔ نگران حکومت کا الیکشن کی شفافیت میں کتنا دخل ہوتا ہے اس بارے تو وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب اتفاق سے وہ بھی اسی پیشے ہی سے متعلق تھے پی ٹی آئی نے ان پر پینتیس پنکچر لگانے کا الزام لگایا مگر عدالت سے کوئی الزام ثابت نہ ہوا۔ لیکن بہر حال اس امر کا امکان سیاسی رہنمائوں کے ذہنوں میں بہر حال موجود ہے اور ممکن ہے یہ تجربے کی بنیاد پر بھی ہو کہ نگران حکومت ا نتخابی نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ عسکری اداروں کے بارے میں بھی اس قسم کی سوچ موجود ہے لیکن انتخابی نظام کا جائزہ لیا جائے تو مداخلت اور نتائج میں تبدیلی کا امکان زیادہ دکھائی نہیں دیتا۔ نگران وزیر اعظم کی شک و شبے سے بالا تر تقرری اور سیاسی جماعتوں کا اس پر اتفاق و اعتماد ایک ایسا مثبت اور حوصلہ افزاء امر ہے جس سے سیاسی جماعتوں کو حوصلہ ملنا اور انتخابی عمل پر اعتماد ہونا چاہئے۔ نگران وزیر اعظم انتخابات میں فوج کی تعیناتی کے حوالے سے بھی شاید اس لئے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے تحفظات کی نوبت نہ آئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حسن عسکری کے تبصروں اور تجزیوں سے قطع نظر اور ان کی ایک جماعت سے کدورت اپنی جگہ لیکن جب ایک منصب پر وہ فائز ہوگئے تو عمر بھر کی عزت وہ ایک انتخابات کی نذر کرنے پر کیوں کر تیار ہوں گے۔ بہر حال محولہ جماعت کے تحفظات اپنی جگہ ان کے پس پردہ اس جماعت کے سیاسی مقاصد بھی ہوسکتے ہیں جس کا مقصد عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہو۔ مشکل صورتحال یہ ہے کہ اب اعلیٰ مناصب پر فائز افراد کا کردار و عمل جانبدارانہ ہونے پر شکوک و شبہات کی فضا کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اگر کسی جانب سے یہ کہا جائے کہ میں فلاں جماعت کو ووٹ دوں گا یا پھر عہدے پر رہتے ہوئے ان کی حمایت کرے تو پھر غیر جانبداری اور اعتماد کا کھو دینا فطری امر ہوگا۔ اس طرح کی عدم احتیاط کا ملک کی مجموعی فضا پر اثر انداز ہونا فطری امر ہوگا۔جہاں تک ووٹرزکے مزاج اور رائے کا سوال ہے تجربات سے ثابت ہے کہ عوام کبھی بھی خواص کی مرضی پر ووٹ نہیں دیتے بلکہ ان کی مخالفت ہی میں ووٹ دیتے ہیں گویا انتخابات میں یہ حریف ہوں اور عوام و خواص کا مقابلہ ہو عوام مقتدر عناصر کی مداخلت بھی پسند نہیں کرتے لیکن سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان میں حصول اقتدار کے لئے صرف عوام کی حمایت ہی کافی نہیں عوام کی حمایت کو مکمل حمایت میں بدلنے اور جیتنے اور حکومت سازی کے قابل ہونے کے لئے کئی مروجہ فارمولے اختیار کرنے کی بدعت موجود ہے اور اب تک آنے والی حکومتوں کا دامن اس سے پاک نہیں۔ اس ساری صورتحال کے تناظر میں ملک کے سب سے بڑے اور اقتدار میں سنگھا سن تک پہنچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے صوبے میں جانبدار نگران حکومت کا قیام احسن امر نہیں اس سے پیدا ہونے والے تضادات کا لا محالہ انتخابی ماحول پر اثر ہوگا اور انتخابی نتائج کو تسلیم نہ کرنے کی راہ ہموار ہوگی اور ملک میں انتخابی نتائج کو متنازعہ بنانے کی ایک اور راہ ہموار ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ نگران وزیر اعلیٰ کے خیالات سے مکمل طور پر آگاہی کے باوجود الیکشن کمیشن کا ان کی تقرری کی سفارش خود الیکشن کمیشن کے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سے بااعتماد ادارہ تسلیم نہیں ۔انتخابات کی عدم شفافیت کا عالمی تجزیہ کاروں کی جانب سے بھی اعتراف ہوتا رہا ہے۔ ایسے میں جس ماحول میں پنجاب میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں وہ کوئی اچھی صورتحال نہیں۔ خیبر پختونخوا میں اس مرتبہ بہتر صورتحال کی توقع ہے اورسندھ میں بھی ہم آہنگی ہے مگر بلوچستان میں حالیہ سینیٹ انتخابات اور اس سے قبل کی صورتحال کے تناظر میں نگران حکومت سے کسی خیر کی توقع کم ہی ہے۔ بہر حال اس قسم کے مخالفانہ خیالات کا اظہار اپنی جگہ لیکن پنجاب میں صورتحال مختلف ہے اور اعتراضات میں وزن ہے جس کے ازالے کے لئے پنجاب میں نگران حکومت کو خاص طور پر غیر جانبدار ہونے کا عملی ثبوت دینا ہوگا تاکہ انتخابات کی شفافیت پر انگشت نمائی نہ ہوسکے۔ الیکشن کمیشن کو عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا کردار و عمل دبائو اور جھکائو سے بالاتر ہے تب جا کر انتخابات کی وقعت ہوگی بصورت دیگر تضادات و الزامات کا ایک نیا باب کھل جائے گا جس سے آنے والی حکومت اور جمہوریت دونوں کمزوری کا شکار رہیں گے۔

متعلقہ خبریں