Daily Mashriq


تدریسی ہسپتالوں میں تقرریوں کی تحقیقات

تدریسی ہسپتالوں میں تقرریوں کی تحقیقات

صوبے کے خود مختار تدریسی ہسپتالوں کے بورڈ آف گورنرز کی سپریم کورٹ کے احکامات پر برطرفی و تحلیل کے بعد چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی جانب سے عدالت کے احکامات کی تعمیل میں ان میں تین سالوں کے دوران بھرتیوں کی چھان بین احسن اقدام ہے۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ ان ہسپتالوں کو خود مختاری دینے کے فیصلے کے پس پردہ کتنی دیانت داری تھی اور عوام کو علاج معالجے کی سہولتوں کی بہتری اور ہسپتالوں کی حالت زار میں بہتری کا حقیقی جذبہ کس قدر کارفرما تھا۔ اس بارے کچھ کہنا مشکل ہے لیکن ان ہسپتالوں کی خود مختاری کے بعد جس طرح سے میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئیں اور من پسند افراد کے علاوہ نذرانہ لے کر بھرتیاں کی گئیں وہ زبان زد خاص و عام معاملہ ہے جن کی تفصیلی چھان بین ہونی چاہئے۔ ان ہسپتالوں میں صوابی اور نوشہرہ کے نوجوانوں کی میرٹ پر اگر بھرتیاں ثابت ہو جائیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن اگر سابق وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہوں تو ان کے خلاف فوری ایکشن لیا جانا چاہئے۔ ان تقرریوں کا نیب کو بھی ساتھ ہی ساتھ جائزہ لے کر عین متوقع کیس بنانے کی سنجیدگی سے تیاری کرنی چاہئے تاکہ وقت ضائع نہ ہو۔ جن جن نوجوانوں کو میرٹ پر آنے کے باوجود بھرتی نہیں کیاگیا ان نوجوانوں کو باقاعدہ تحریری شکایت لے کر نیب سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی حق تلفی کا نوٹس لیاجاسکے۔

نگران وزیراعلیٰ کی توجہ کے لئے

چترال میں پولیس کے بار بار تھانے بلاکرہراساں کرنے پر نوجوان کی خود سوزی کا واقعہ اس لئے زیادہ سنگین نوعیت کاہے کہ چترال پولیس اب تک اس قسم کے الزامات سے نسبتاً مبرا تھی۔ مگر اب چترال میں بھی پولیس میں ایسے اہلکاروں کی شناخت ہونے لگی ہے جو لوگوں کو روایتی پولیس گردی کاشکار بناتے ہیں۔ چترال میں عموماً چوری اور دیگر جرائم کا ارتکاب نہ ہونے کے برابر رہاہے۔ مگر حالیہ سالوں میں مویشی چوروں کا ایک منظم گروہ عوام کے لئے درد سر بنا رہا۔ منشیات فروشی میں بھی اضافے کی اطلاعات ہیں۔ بہر حال پولیس کی جانب سے لوگوں کو ناجائر تنگ کرنے کے اقدام سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ چترال پولیس سخت گیر سربراہ سے محروم ہے۔ صرف یہی نہیں ڈپٹی کمشنر چترال بھی سرکاری گاڑیوں کے سندھ لے جاکر استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی زد میں ہے۔ نگران وزیر اعلیٰ جسٹس(ر) دوست محمد کو صوبے کے پر امن ضلع میں ہونے والی پولیس گردی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور معاملے کی تحقیقات کے بعد ضروری ہوا تو اصلاح احوال کے اقدامات میں تاخیر نہیںکرنی چاہئے۔

حیات آباد کے مکین سراپا احتجاج کیوں؟

رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں حیات آباد کے مکینوں کی جانب سے آبنوشی کی قلت اور صفائی کی ابتر صورتحال کی شکایت اس بناپر زیادہ سنجیدگی کا حامل معاملہ ہے کہ حیات آباد کے مکین باقاعدگی کے ساتھ پانی ‘ نکاسی آب اور صفائی کی مد میں بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں ۔ پی ڈی اے حیات آباد سے وصول ہونے والے ٹیکس پر الگ سے تصرف رکھتی ہے۔یوں پی ڈی اے شہریوں پر خرچ کرنے والا محکمہ نہیں بلکہ شہریوں ہی کے وسائل اور آمدنی کو شہری سہولیات کی فراہمی کے لئے استعمال کرنے والا ادارہ ہے۔ بد قسمتی سے اس نسبتاً بہتر رہائشی انتظامات رکھنے والے علاقے میں بھی پی ڈی اے حکام کی نا اہلی کے باعث شہری مشکلات کاشکار ہیں اور احتجاج پر مجبور ہیں جس کا نوٹس لے کر تدارک کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں