Daily Mashriq


ساکھ دھاک

ساکھ دھاک

وی چینلز کا حال ایسا ہی ہے جس کسی بھی ٹی وی فریکونسی کو کھولو تو بات ایک ہی ہے وہ ریحام خان کی کتاب ہے یا پھر کسی بھی اخبار کا ورق الٹ پلٹ کر و تو بھی ریحا م خان اور ان کی کتاب ہی نظر آئے گی گویا کہ پاکستان کے لیے ایک ہی مسئلہ رہ گیا ہے جبکہ پاکستان اس سے زیا دہ مسائل سے دوچار ہے اور کئی اہم معاملا ت ہیں۔ اس بھیڑ چال میں اسد درانی کی کتا ب نے اوٹ لے لی ہے مگر اب ایک نئی اولی پڑ گئی ہے وہ پنجا ب کے نگران وزیر اعلیٰ کی تقرری ہے۔ 

دنیا کے کسی جمہو ری ملک میں نئے عام انتخابات کے لیے کسی نگران یا عبوری حکومت کے قیا م کا تصور نہیں پایا جا تا ہے۔ پاکستان میں عمومی طور پر عام انتخابات کے بارے میں یہ تاثر عام ہو اکہ جمہو ری اداروں سے ہٹ کر بعض طاقتیں بھی ہیں جو انتخابات کو ہائی جیک کر لیتی ہیں چنا نچہ ان خدشات اور اندیشوں سے نمٹنے کے لیے عبوری یا نگران حکومت کی پخ لگائی گئی۔ جنر ل ضیاء الحق کے دور میں کی گئی آئینی ترمیم میں عبوری حکومت کے قیام کا حق صدر پاکستان کو تھا ، مگر اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے یہ اختیا رات اسمبلی میں حزب قائد اور حزب اختلا ف کو تفویض کر دیئے ، پاکستانی سیا ست کا جو رنگ ڈھنگ ہے کہ حزب اختلاف میں کبھی ملکی مفاد کا چاہے کتنا ہی تقاضا ہو آپس میں ہم آہنگی قائم نہیں ہو نے دی جا ئے گی چنا نچہ ان خدشات کے پیش نظر یہ بھی طے کیا گیا کہ اگر پا رلیما نی قائدین کے مابین کچھ طے نہ ہوپائے تو فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کر ے وہ بھی نا کا م رہے تو پھر پا رلیما نی کمیٹی کے تجو یز کر دہ نا مو ں میں سے کسی ایک کی تقرری الیکشن کمیشن کر دے ۔ اس مر تبہ صورت حال کوئی خوش گوار نہیں رہی ۔

نگر ان وزیر اعظم کا قضیہ تو احسن طریق سے طے پا گیا کیو ں کہ یہ فیصلہ مسلم لیگ ن اور پی پی نے کر نا تھا۔ دونو ں جما عتیں منجھی ہو ئی ہیں ، کوئی خاص دشواری نہیں رہی البتہ صوبائی سطح پر معاملات میں جہا ں تحریک انصاف کا عمل دخل تھا وہاں سختی آئی۔ پنجا ب میں مسلم لیگ ن او ر پی ٹی آئی نے پہلے نا صر کھو سہ کا چنا ؤ کیا مگر یکا یک پی ٹی آئی انکا ری ہو گئی۔ یہ صورت حال دیکھ کر نا صر کھو سہ نے بھی ایک برد بار فر د کی حیثیت سے ذمہ داری سے ہا تھ اٹھا لیا۔ چنا نچہ معاملہ اپنے مر احل طے کر تا ہو ا الیکشن کمیشن کے گھر پہنچ گیا جہا ں سے پر وانہ ملک کے معروف پر وفیسر ، مضمو ن وکا لم نگار حسن عسکر ی رضوی کے نا م نکلا۔ ان کا نا م منظر عام ہو تے ہی مسلم لیگ نے اس کو کھلے عام رد کر دیا اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا ، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کی نگرانی میں انتخابات کرائے گئے تو وہ شفاف نہیں بلکہ مشکو ک ہوں گے۔ مسلم لیگی رہنماؤں کے علا وہ پی پی کی تہمینہ گھرکی نے بھی حسن عسکر ی کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے ہیں لیکن ساتھ ہی امید بھی ظاہر کی ہے کہ انتخابات شفاف ہو ں گے۔

الیکشن کمیشن نے اپنی طرف سے کسی کو نا مزد نہیںکیا ان کو پا رلیمانی کمیٹی کی جا نب سے نا م بھجوائے گئے تھے انہی میں سے چنا ؤ ہو اہے بات کا فی حد تک درست ہے مگر کچھ اخلا قی تقاضے بھی ہو تے ہیں کیا چار نا مو ں میں سے صرف حسن عسکر ی اہل تھے ، اورکیو ں تھے ؟ جبکہ ان کے نظریا ت کے بارے میں ہر کس وناکس جانتا ہے کہ جمہو ریت کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے ، وہ مسلم لیگ ن کے بارے میں کیا سیا سی نظریا ت رکھتے ہیں ہر شب ٹی وی ٹاک شوز پر وہ مسلم لیگ ن پر تبّر ا بھیجتے ہیں۔ اخلا قی تقاضا یہ تھا کہ الیکشن کمیشن ایسے فرد کا چنا ؤ کرتا جو انتخاب میں حصہ لینے والی پا رٹی کے لیے فریق نہ ہو تا۔اپنی تقرری سے ایک دو روز قبل ہی حسن عسکر ی نے ٹی وی ٹاک شو میں انتخا بات کے التواء کی تجو یز دی اورمثال دی کے ما ضی میں ایسا ہو تا رہا ہے انہو ں نے جنرل ضیا الحق کے نو ے دن کے لیے انتخابات گیا رہ سال تک ملتو ی ہو نے کی بھی مثال دی مگراعلیٰ درجے کے تعلیمیا فتہ ہو نے کے باوجود وہ لا علم رہے کہ جنر ل ضیا الحق کے دور میں آئین معطل تھا اور وہ ڈکٹیٹر کا فیصلہ تھا اب آئین نا فذ ہے جمہوریت روبہ عمل ہے ایسے میں انتخابات نہ کر انا ، طویل مدت کے لیے ایک غیر آئینی حکومت کو معر ض وجو د میں لا نا کسی گوار کا نظریہ تو ہو سکتا ہے ، با اصول کا نہیں ، نا صر کھو سہ نے جس طر ح ایک شاندار اصولی فیصلہ کیا کہ متنا زعہ شخصیت بننے کی بجا ئے وزیر اعلیٰ بننے سے معذرت کر لی حالات کا تقاضا حالات حسن عسکر ی سے بھی تھا مگر انہو ں نے ردعمل میں کہا کہ نہیں وہ غیر جا نبدار رہیں گے اور شفا ف انتخابات کر ائیں گے۔ شاید یہ وضاحت کر تے ہو ئے وہ مسلم لیگ ن کے خلا ف اپنی مہم جو ئی کو نظر انداز کر بیٹھے۔

ما ضی میں ایک عمدہ مثال مو جو د ہے کہ واپڈا کے سابق چیئر مین شمس الملک کو صوبہ کے پی کے کا نگران وزیر اعلیٰ مقر ر کیا گیا ، وہ کا لا باغ ڈیم کے سب سے بڑے حامی ہیں اور اب بھی اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مہم میں شامل ہیں ، ان کی تقرری پر اے این پی کو اندیشہ ہو ا کہ کہیں شمس الملک اپنے اس عہد ے سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے صوبے کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی منظوری نہ دیدیں۔

چونکہ شمس الملک کی تقرری پر اے این پی نے اعتراض نہیں اٹھایا تھا اس لیے شمس الملک نے ا پنی ذمہ داری بحیثیت وزیراعلیٰ نبھائی۔ انہو ں نے ایک مرتبہ اس بارے میںتبصرہ کر تے ہو ئے کہا کہ اے این پی کے اعتراض کے بعد انہو ں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو نے کا فیصلہ کیا مگر استعفیٰ سے یہ الجھائو پیدا ہوجاتا کہ ان کی تقرری کا لا باغ ڈیم کے پس منظر میں ہوتی مگر اے این پی نے عدم اعتما د کا اظہا ر نہیں کیا بلکہ ایک طر ح سے اعتما د کیا چنا نچہ وہ کا م کر تے رہے ۔ حسن عسکر ی کی شخصیت کے بارے میںبہت کچھ کہا جاسکتا ہے مختصر اًیہ کہ ان کا شما ر پاکستان کے اعلیٰ درجے کے دانشور و ں میں کیا جا تا ہے چنا نچہ وہ ایسا فیصلہ کریں کہ ان شہر ت اور نیک نا می گہنا نہ جا ئے ۔ویسے بھی سانچ کو آنچ نہیں۔

متعلقہ خبریں