Daily Mashriq


ایک ’’مبینہ ‘‘کتاب کا سیاپا

ایک ’’مبینہ ‘‘کتاب کا سیاپا

ابھی شائع نہیں ہوئی لیکن شور و غل ایسا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔بالی عمریا میں چار سیاسی جماعتیں تبدیل کرنے والے فواد چودھری کے پاس نجانے کونسی گیدڑ سنگھی ہے کہ جہاں جاتے ہیں ترجمان درجہ اول ٹھہرتے ہیں۔ فقیر راحموں کچھ کھسر پھسر کے ذریعے بتانا چاہتے ہیں لیکن دو دن ہوتے ہیں یہ فیصلہ کئے ہوئے کہ اس کی کوئی بات نہیں ماننی۔ 60 میں سے ایک برس کم تو نہیں ہوتا ہمزاد کے دکھائے راستوں پر چلنے اور باتوں پر ایمان لانے کے لئے۔ اس پر مستقل مزاجی سے اس کی بات نہیں مانی جائے گی۔ ارے صاحب کون اس عمر میں خوار ہو۔ گرمی دیکھ رہے ہیں کتنی شدید ہے۔ مجھے اپنے دوست محسن داوڑ کی فکر ہے لیکن اس کے لئے لکھنے بولنے سے قاصر ہوں۔ ابھی چند دن پہلے کچھ عرصہ قبل سندھ کے ضلع دادو میں کھیلی گئی خون کی ایک ہولی پر کالم لکھا تھا۔ دادا‘ بیٹا اور جوانسال پوتا تین زندہ افراد اس ہولی کی بھینٹ چڑھے۔ قاتلوں کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔ منصوبہ ساز پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے سردار چانڈیو تھے۔ سندھ میں فل فرائی اور ہاف فرائی کے موجد ایس پی پیر محمد شاہ نے انصاف کو کالے بوٹوں سے روندا اور موقع کی شہادتیں ضائع کرکے سردار چانڈیو اور اس کے بھائی کا نام ایف آئی آر سے نکال دیا۔ 3جون کو دادو کے علاقے مہیڑ میں ہزاروں مرد و زن نے دھرنا دیا نتیجہ کیا نکلا‘ کچھ نہیں۔ مقتولین کے گھروں سے نوحے بلند ہوتے ہیں قاتلوں کے بنگلوں سے قہقہے۔ یہی وہ وجہ ہے جو فقیر راحموں کی باتیں ماننے سے مانع ہے۔ ہم ایک کتاب کی بات کر رہے تھے جو ابھی شائع نہیں ہوئی ایک طبقہ اس کتاب کا مسودہ لئے ٹی وی چینلوں پر سیاپا ڈالے ہوئے ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیائی مجاہدین کے لشکر ہیں‘ تلواریں‘ بھالے نیزے سنبھالے ایک دوسرے کو زخمی کر رہے ہیں۔ ان دونوں کے بیچوں بیچ ہمارے کامریڈ نواز شریف کی نون لیگ کے چند مستانے اور مستانیاں ہیں جو وقفہ وقفہ سے کہتے ہیں‘ کتاب چھپی ہی نہیں تحریک انصاف نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ 

دوڑتے بھاگتے مسودے بارے ریحام خان کہتی ہیں کہ جب یہ میری کتاب ہی نہیں تو تائید یا تردید کیوں کروں۔ سیاپا فروشوں اور نونیوں کو لذت دہن کا سامان مل گیا۔ لگے رہو منے بھائیو۔ رہا کتاب کا سوال یا مبینہ کتاب کی مصنفہ ریحام خان کا تو اس بارے کیا کہا جائے ابھی تو دوڑائی گئی کہانیاں ہیں بھونڈے الزام جن کو رزق چسکے باز فراہم کررہے ہیں۔ مبینہ کتابی مسودے کے جن حصوں پر اب تک بحث کا طوفان برپا ہے ان اقتباسات پر اعتبار کوئی کیسے کرے۔ اور اگر یہ اقتباسات درست ہیں تو پھر کس بے شرمی سے بحث ہو رہی ہے ‘ کیا جن سطروں اورالفاظ یا الزامات پر گرفت کی جا رہی ہے گرفت کرنے والے انہیں اپنے گھر کے صحن میں با آواز بلند پڑھ سکتے ہیں؟

یہاں ہمیں دو اور باتیں بھی ذہن میں رکھنا ہوں گی اولاً یہ کہ مبینہ مسودے کے تحریر کنندگان کے طور پر جاتی امراء کے چند وفاداروں کا نام آرہا ہے مثلاً بڑے پیر زادہ صاحب‘ عرفان صدیقی‘ بچہ جمہورا‘ دعویٰ کرنے والے تو کہہ رہے ہیں انگریزی ترجمہ چھوٹے پیر زادے نے کیا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ کتاب اصل میں مالکوں نے لکھوائی ہے۔ ہر دو آرا رکھنے والے دلائل کاانبار لگاتے چلے جا رہے ہیں۔ ان ساری باتوں اور ملاکھڑوں کے درمیان ریحام خان ایک بار پھر یہ کہہ اٹھیں کہ انصافی ان کی کتاب ضرور پڑھیں تاکہ اپنے لیڈرکو جان سکیں۔ چند روز قبل کی ایک شام ان کا کہنا تھا ’’ جو مسودہ میرا ہے ہی نہیں اس کی تائید یا تردید کیوں کروں‘‘۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کتاب ابھی پبلشر کے پاس گئی ہی نہیں۔ دوسری طرف ایک اور موقف اور تیسری جانب بھارتی ٹی وی کو دیاگیا انٹرویو ہے جس میں کی گئی گفتگو سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ جس مسودے اور مندرجات پر بحث ہو رہی ہے وہی اصل مسودہ ہے۔ ریحام اصل میں کتاب کی اشاعت یا مارکیٹ میں آنے تک مشہوری مشہوری کھیل رہی ہیں۔

9 یا دس ماہ عمران کے ساتھ گزار کر وہ کتاب لکھ چکیں کیا اس کتاب میں وہ متحدہ عرب امارات والے بندھن اور ترک تعلق کی قیمت بارے بھی کچھ روشنی ڈالیں گی۔ وہ تعلق اور اس سے جڑی کہانی غلط تھی تو انہوں نے مقدمہ کیوں نہ کیا۔ اس تاثر کی بھی انہوں نے کبھی تردید نہیں کی۔ انہیں ایک پاکستانی ٹی وی چینل میں نوکری دلوانے میں قابلیت سے زیادہ ماروی میمن کا کمال تھا۔ ماروی میمن نے اپنے بدلے کی بھائو ناکے لئے ان کا انتخاب کیا۔ یا یہ کہ وہ کتاب لکھ کر وہ محنتانہ پورا کرنا چاہتی ہیں جو نون لیگ نے پیش کیا۔ ان ساری باتوں سے ادھر یہ بھی عرض کردوں کہ ریحام خان‘ نون لیگ اور کتاب میں تعلق کی کڑیاں ملانے والے تو جو کہتے ہیں وہ ان کا معاملہ ہے لیکن خود ریحام خان کتاب کے حوالے سے صبح میں ایک بات کرتی ہیں شام کو دوسری۔ آخری بات یہ ہے کہ ان (ریحام خان) کے پاس عمران سے تعلق کے 9ماہ اور ایک طلاق نامہ ہے۔ کتاب مارکیٹ میں آنے کے بعد انہیں ایک سوال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ سوال یہ ہے کہ 2014ء کے محرم الحرام میں جب عمران خان سے ان کاخاموشی سے نکاح ہوا تھا تو اس کے پیچھے ایک ویڈیو کی طاقت کار فرما تھی وہ ویڈیو کیا تھی نیز یہ کہ نکاح نامہ رجسٹرڈ کیوں نہ ہوسکا۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دھول اڑتی ہے تو سوار کا چہرہ بھی مٹی سے اٹ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں