Daily Mashriq


تم نے سچ بولنے کی ہمت کی

تم نے سچ بولنے کی ہمت کی

پوری پارٹی کو اس حوصلہ مندی کی ’’داد‘‘ ضرور ملنی چاہئے جو ایک ایسی خاتون کے ہاتھوں لرزہ بر اندام ہے جس کے ہاتھ میں کوئی تیر‘ تفنگ‘ میزائل یا بم نہیں صرف قلم ہے۔ مگر جماعت کے بھونپو بھوکے بھیڑیوں کی طرح دانت تیز کئے اس پر غرا رہے ہیں اوراس کے بخیئے ادھیڑ رہے ہیں۔ اس کاریگری میں انہیں انسانی اقدار کا بھی کوئی احساس نہیں رہا جبکہ وہ نہتی خاتون پوری پارٹی کو ابھی صرف اپنی کتاب کی جھلکیاں دکھا دکھا کر تگنی کا ناچ نچا رہی ہے اور جب کتاب (اگر) چھپ کر آئے گی تو اس وقت پارٹی کی صفوں میں کس قسم کے زلزلے جنم لیں گے۔ بشرطیکہ واقعی کتاب میں وہی کچھ ہو جس کے بارے میں ان دنوں افواہیں پھیلی ہوئی ہیں بلکہ اس صورتحال کو اس ترکیب ’’ سونامی‘‘ سے ہی شاید تعبیر کیا جاسکے گا جو پارٹی کے ’’بیانیہ‘‘ کے طور پر پہلے ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ کتاب چھاپنے پر خاتون کو چار جانب سے دھمکیوں کا سامنا ہے یہاں تک کہ پہلی (سابقہ) خاتون اول بھی میدان میں کود پڑی ہیں کہ اگر کتاب لندن سے چھپی تو وہ اپنے بیٹے کی جانب سے ہتک عزت کا دعویٰ کر دیں گی۔ یوں مصنفہ کو’’سمجھایا‘‘ جا رہا ہے کہ

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی تو ہین ہے عدالت کی

ذرا ماضی میں جھانکتے ہیں اور جس واقعے کی جانب اشارہ کیا جا رہا ہے اس میں بھی بات ایک کتاب ہی کی کرتے ہیں۔ سابق صوبہ سرحد (موجودہ کے پی)کے ایک سابق مرد آہن کے طور پرمشہور ایک سیاستدان عبدالقیوم خان نے جنہیں ان کے حامیوں نے ان کے ’’کارناموں‘‘ کی وجہ سے خان اعظم کا خطاب بھی دے رکھا تھاانگریزوں کے دور میں ایک کتاب لکھی تھی ’’گولڈ اینڈ گنز ان دی فرنٹیئر ریجن‘‘ قیام پاکستان کے بعد صوبے میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی خود اپنی ہی محولہ کتاب پر پابندی لگا دی اور غالباً یہ دنیا کی پہلی کتاب ہے جسے خود اس کے اپنے ہی مصنف نے پابندی لگا کر کچھ حلقوں کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ غالباً اس اقدام سے موصوف اس ممکنہ شرمندگی سے بچنا چاہتے ہوں جو مخالفین اسی کتاب کے حوالے دے دے کر انہیں بعد میں زچ کرتے۔ یعنی وہ اپنے سیاسی مخالفن کی ’’ سیاسی بلیک میلنگ‘‘ سے بچنا چاہتے ہوں۔ یوں خود اپنے ہی بیان کردہ حقائق پر پابندی لگا کر موصوف نے عزیز اعجاز کے اس شعر کی تفسیر پیش کردی تھی کہ

خاموش تھے سب گواہ میرے

وہ اپنا بیاں بدل رہا تھا

اس وقت ملک اور بیرون ملک زیر بحث کتاب میں خدا جانے ایسے کیاحقائق ہیں جن کے سامنے آنے پر ’’ سونامی‘‘ آنے کے امکانات دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ ٹریلر کے طور پر کچھ باتیں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک فرضی نام ’’ وہی وہانوی‘‘ کے نام سے 50ء اور60ء کی دہائی میں چھپنے والی کتابوں کے ساتھ اس آنے والی کتاب کا موازنہ کیا جائے تو شاید وہی وہانوی کی کتابیں بڑی حد تک صاف ستھری قرار دی جائیں حالانکہ اس دور میں جب آنہ لائبریریوں کارواج تھا اور کتابیں ایک آنہ روزکرائے پر دستیاب تھیں وہی وہانوی کی کتابیں’’ بلیک‘‘ میں آٹھ آنے کرائے پر ہاٹ کیک کی طرح نہایت رازداری سے گاہکوں کو فراہم کی جاتی تھیں۔ در اصل یہ کم بخت لفظ ’’بلیک‘‘ اس قدر خطرناک ہے کہ ہرجانب اسی کا چرچا ہورہا ہے۔ خود مصنفہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ میری کتاب میں بلیک بیری کا ذکر ہے اور ’’پارٹی‘‘ اسی سے خوفزدہ ہے۔ گویا بلیک بیری کا دوسرا نام اگر بلیک میلنگ رکھ دیاجائے تو شاید اتنا غلط بھی نہ ہو۔ اور اگرچہ ممکنہ طورپر سامنے آنے والی کتاب ( جسے شائع ہونے سے پہلے ہی پابندیوں کی زد میں لانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے) پران دنوں جو تبصرے جاری ہیں ان میں سب سے عمدہ تبصرہ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے یہ کہہ کر کیا ہے کہ مصنفہ کو ’’پارٹی‘‘ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس نے ان کی کتاب کو چھپنے سے پہلے ہی بیسٹ سیلر بنا دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کا مسودہ اگر کوئی انہیں بھی فراہم کردے تو وہ بھی چسکے لے سکیں گے۔کتاب کی مصنفہ نے اگرچہ یہ بھی کہا ہے کہ کتاب میاں بیوی کی نہیں میری کہانی ہے۔ تاہم جو لوگ اس کتاب کی اشاعت سے خوفزدہ ہیں وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی شخص بھلے سے اپنی ہی کہانی بیان کیوں نہ کرے۔ کہانی میں حالات و واقعات بیان کرتے ہوئے دیگر کرداروں کو نظر انداز تو نہیں کیاجاسکتا اور اگر کہیں کسی موڑ پر ان کا بھی تذکرہ آجائے ( جو یقینا آئے گا) تو انہیں ممکنہ طور پر شرمندگی اٹھانا پڑ سکتی ہے اور اسی شرمندگی سے بچنے کی خاطر کتاب کی اشاعت سے پہلے ہی مصنفہ کو جو چتائونیاں دے کر کتاب شائع کرنے سے منع کرنے کی سعی کی جا رہی ہے وہ دیدنی ہے۔ ان چتائونیوں میں انگلینڈ میں کتاب کے چھپنے کے نتائج سے بھی انہیں آگاہ کیا جا رہا ہے حالانکہ مغربی دنیا میں ایسی نہ جانے کتنی کتابیں چھپتی رہتی ہیں جبکہ ان پر اظہار رائے کے اصولی قانون کے تحت کبھی کوئی پابندی نہیں لگی کہ مغرب میں اظہار رائے کی آزادی کو انتہائی مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ادھر اندرون ملک بھی کتاب کی اشاعت پر حکم امتناعی جاری کرنے سے عدالت کے انکار نے ان حلقوں کے اندر مزید بے چینی پیدا کردی ہے جنہیں کتاب شائع ہونے سے خوف ہے۔

پتوں کارنگ خوف سے پہلے ہی زرد تھا

ظالم ہوا کے ہاتھ میں شہنائی آگئی

متعلقہ خبریں