Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

حضرت دائود علیہ السلام ایک مقصد کے لئے بنایا ہے؟ حق تعالیٰ نے اس کیڑے کو حکم دیا اور وہ بول اٹھا اور کہا: اے خدا کے نبی! میرا دل ایسا ہے کہ حق تعالیٰ نے اس میں یہ بات ڈال دی ہے کہ ہر روز ایک ہزار بار یہ کلمات پڑھا کروں۔

ترجمہ: ’’ خدا پاک ہے اور اس کی حمد ہے اور خدا تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور وہی سب سے بڑا ہے۔‘‘

پھر اس کیڑے نے کہا کہ میری ہر شب اس طرح گزرتی ہے کہ میرے دل میں حق تعالیٰ نے یہ بات ڈال دی ہے کہ شب کو ایک ہزار بار یہ کلمات مبارکہ ( درود شریف) پڑھا کروں۔

ترجمہ: ’’ خدایا! حضرت محمدؐ پر رحمت فرما اور آپؐ کی آل اور آپؐ کے ( جملہ) اصحابؓ پر۔‘‘

اس کے بعد وہ کیڑا حضرت دائود علیہ السلام سے پوچھنے لگا کہ اب آپ کیا فرماتے ہیں تاکہ میں جناب سے کچھ استفادہ کروں؟

حضرت دائودؑ اس معمولی سے کیڑے کو حقیر جاننے پر شرمندہ ہوئے اور حق تعالیٰ سے ڈر کر توبہ کی اور اسی پر بھروسہ کیا۔

(مکاشفۃ القلوب ص 37 حضرت امام غزالی)

نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں

کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

حضرت عثمان بن عفانؓ کے زمانے میں کھجور کے ایک درخت کی قیمت ایک ہزار درہم تک پہنچ گئی تھی۔ حضرت اسامہؓ کے پاس بھی کھجور کا درخت تھا۔ آپ اسے ایک ہزار درہم میں بیچ سکتے تھے لیکن آپ نے اسے فروخت نہ کیا بلکہ کھوکھلا کرکے اس کا گودا نکال کر اپنی والدہ کو کھلا دیا۔ لوگوں نے آپؓ سے پوچھا:

’’آپ نے ایسا کیوں کیا‘ یعنی یہ درخت تو ہزار درہم کا تھا‘ آپ نے کھوکھلا کرکے اسے ضائع کردیا۔‘‘

انہوں نے فرمایا : ’’ میری والدہ نے مجھ سے کھجور کا گودا مانگا تھا اور میری عادت ہے کہ جب میری والدہ مجھ سے کچھ مانگتی ہیں تو اس چیز کا دینا میرے بس میں ہوتا ہے تو میں ضرور دیتا ہوں۔‘‘

ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو لے کر حضرت عائشہ صدیقہؓ کے پاس آئیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے اسے تین کھجور دیں۔ اس نے ایک کھجور اپنی ایک بیٹی کو دی اور ایک دوسری بیٹی کو۔ تیسری کھجور وہ اپنے منہ میں رکھنے لگی۔ لیکن اسی وقت اس نے دیکھا کہ دونوں بچیوں کی نظر تیسری کھجور پر ہے۔ وہ اسے کھانے سے رک گئی۔ اس نے کھجور کے دو ٹکڑے کئے اور دونوں بیٹیوں کو ایک ایک ٹکڑا دے دیا۔ پھر چلی گئی۔

حضور تشریف لائے تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ نے سن کر فرمایا: وہ اپنی شفقت و سلوک کی وجہ سے جنت میں جائے گی۔‘‘

متعلقہ خبریں