Daily Mashriq

بھارت کو امن مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ

بھارت کو امن مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ

وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے خطوط کے ذریعے اپنے بھارتی ہم منصبوں کو مبارکباد دیتے ہوئے مسئلہ کشمیر سمیت تمام حل طلب معاملات پر بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں ترقی' امن واستحکام کیلئے باہمی احترام ضروری ہے۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل وتنازعات کو حل کرکے ہی عوام کو غربت وافلاس سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام اور باہمی روابط کے فرغ میں رکاوٹ بننے والے تنازعات ومسائل کا حل تلاش کرکے ہی تعمیر وترقی کی اس منزل کی طرف بڑھا جاسکتا ہے جو سرحد کے دونوں طرف کے لوگوں کیلئے بہت ضروری ہے۔ تنازعات ومسائل کے حل کیلئے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش پہلی مرتبہ بہرطور نہیں دی گئی۔ پاکستان گزرے ماہ وسال کے دوران بھارت کو اس طرف متوجہ کرتا آیا ہے۔ افسوس کہ بھارتی قیادت نے کبھی اس دعوت کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ جب بھی پاکستان کی طرف سے ایسی کوئی پیشکش ہوئی جواباً بھارت کے جنگی جنون میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مثال کے طور پر آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کے پاکستانی فیصلے کے جواب میں بھارت نے اسرائیل کیساتھ فضائیہ کیلئے 6ارب 46 کروڑ روپے کے 100 سپائس بم خریدنے کا معاہدہ کیا۔ طاقت کے عدم توازن سے جن سنگین مسائل کے دروازے کھلے انہیں بھارتی قیادت نے کبھی مدنظر رکھنے کی زحمت نہیں کی۔ غور طلب امر یہ ہے کہ کیا امن صرف پاکستان کی ضرورت ہے؟ کیا بھارت میں مسلسل دوسری بار اقتدار میں آنے والی قیادت اس حقیقت سے لاعلم ہے کہ جنوبی ایشیاء میں خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کی سب سے زیادہ تعداد کا تعلق بھارت سے ہے؟ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادتوں خصوصاً حکمرانوں کو بہرطور ٹھنڈے دل سے سوچنا ہوگا کہ ان کے عوام کو کیا مسائل درپیش ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے 2018ء میں برسراقتدار آنے کے بعد سے اب تک متعدد مواقع پر بھارت کی تنگ نظری اور امن دشمن اقدامات کے باوجود مذاکرات اور باہمی تعاون کی پیشکش کی، جواباً بھارتی طرزعمل کیا رہا یہ کسی سے مخفی نہیں۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ مودی کی جنتا پارٹی جو درحقیقت آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے پاک بھارت مذاکرات کو اکھنڈ بھارت کے اپنے عقیدے کے منافی سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے پچھلے پانچ برسوں کے دوران بھارتی حکومت نے خطے اور عوام کی ضرورتوں کو کبھی مدنظر نہیں رکھا۔ پاک بھارت بہتر تعلقات ہی باہمی تعاون وروابط کیساتھ دیگر امور میں معاونت کرسکتے ہیں۔ البتہ اس امر کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بہتر تعلقات کار کے راستے میں مسئلہ کشمیر کیساتھ چند دیگر سنگین مسائل حائل ہیں۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر تک آزاد عالمی میڈیا کی عدم رسائی کی وجہ سے قابض سیکورٹی فورسز کے جنگی جرائم اورکشمیریوں کی نسل کشی کیساتھ ان کی عزت نفس اور شخصی وقار کے منافی اقدامات دنیا کے سامنے نہیں آسکے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا میں امن وآزادی کے ٹھیکیدار بنے ممالک اور ادارے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے چشم پوشی برتتے ہیں، ممالک کا معاملہ سمجھ میں آتا ہے کہ سو ارب سے زیادہ آبادی والے ملک کی منڈیوں تک رسائی اور معاشی مفادات نے ان بڑی طاقتوں کے ہونٹ سی رکھے ہیں مگر انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی سرد مہری بڑی عجیب ہے۔ اکھنڈ بھارت کے عقیدے کو سیاست کا محور سمجھنے والی جنتا پارٹی کو بھارت میں دوسری بار اقتدار کا حق مل جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارتی عوام میں امن دوستی کی جگہ جنگی جنون کو پذیرائی حاصل ہوئی۔ مگر کیا جنگی جنون اور عدم برداشت کی فہم پر قائم رہ کر بھارت خطے میں کوئی کردار ادا کرسکتاہے؟ خارجہ امور کے بعض بین الاقوامی تجزیہ نگار اس ضمن میں ایک بات یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان اور چین کے درمیان مستحکم معاشی تعاون کی مخالف بعض عالمی قوتیں بھارت کی پشت تھپتھپا رہی ہیں اور ہلہ شیری کا ہی نتیجہ ہے کہ بھارت کی مودی سرکار امن ومذاکرات کی ضرورتوں کو مسلسل نظرانداز کرتی چلی آرہی ہے۔ ہم ایک بار پھر بھارتی قیادت اور عوام کی توجہ اس امر کی جانب دلانا ضروری خیال کرتے ہیں کہ دونوں پڑوسی ملکوں میں بہتر تعلقات کار کے بغیر غربت وافلاس' توہم پرستی' جہالت اور دوسرے تعصبات سے نجات حاصل کرنا ممکن نہیں۔ بھارتی حکومت روایتی ہتھکنڈے آزمانے اور کہہ مکرنیوں کی محبت میں گرفتار رہنے کی بجائے سنجیدگی کیساتھ دوطرفہ تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پاکستان کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو فراخدلانہ طور پر قبول کرتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ایک طرف بھارت بعض عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کے ذریعے پاکستان پر افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کیلئے تجارتی راہداری دینے کیلئے دباؤ ڈلواتا ہے، دوسری طرف دو طرفہ تعلقات کی ضرورتوں کو نظرانداز کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کہ اسے کسی چیز کی پرواہ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا آج کی دنیا میں پڑوسیوں سے کٹی کرکے مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ بھارت پچھلے اکہتر سالوں میں طاقت کے استعمال کا شوق متعدد بار پورا کرچکا۔ مگر اب اسے بھی یہ سوچنا ہوگا کہ دونوں ملک 1971ء سے بہت آگے بڑھ آئے ہیں دونوں پڑوسی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں۔ جنگی جنون سے ہلکی سی چنگاری بھی پھوٹی تو کسی کے پاس اس بات کی ضمانت نہیں ہوگی کہ معاملات غیر روایتی ہتھیاروں کے استعمال تک نہیں جائیں گے۔ یہاں اس امر کا اظہار ضروری ہے کہ خطے میں قیام امن کیلئے پاکستانی اقدامات کی دنیا معترف ہے بعض حالیہ واقعات کے دوران پاکستان نے جوابی طور پر جنگ کا الاؤ بھڑکانے کے جوابی اقدامات کی بجائے امن پسندی کا مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے بھارتی ہم منصبوں کو اگلے روز لکھے گئے خطوط بھی امن پسندی کے شعور سے عبارت ہیں۔ گیند اب بھارت کے کورٹ میں ہے فیصلہ بہرطور بھارت کو ہی کرنا ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء میں عدم تحفظ اور جنگی جنون کو بڑھاوا دیکر دستیاب وسائل بارود کے ڈھیر لگانے پر صرف کرنے کو ہی کامیابی سمجھتا ہے یا پھر اس کے نزدیک عوام کی ترقی وخوشحالی' مضبوط روابط اور امن واستحکام کی اہمیت ہے

متعلقہ خبریں