پاکستان بارے امریکی مؤقف میں تبدیلی کا عندیہ

پاکستان بارے امریکی مؤقف میں تبدیلی کا عندیہ

تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں موجودگی، سرحدوں پر کنٹرول، افغان مہاجرین سے پاکستان کی مشکلات اور افغانستان سے پاکستان کے تعلقات، ایسے چار اہم نکات ہیں جن پر پاکستان کی شکایت کو امریکہ نے جائز قرار دیا ہے اور ان کو رفع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کی پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری ایلس جی ویلز نے افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی وزارتِ خارجہ پاکستان سے باہمی تعلقات بہتر کرنے کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان مختلف وفود کا تبادلہ ہوا ہے جن کا مقصد کسی معاہدے پر پہنچنے کیلئے طریقہ کار وضع کرنا ہے تاکہ باہمی تعلقات کو بہتر کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان سے منہ نہیں موڑ رہے ہیں، پاکستان کی سول اور فوجی قیادت سے وسیع مذاکرات ہوں ۔ طالبان کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ طالبان کی بعض شکایات بھی جائز ہیں جن میں افغانستان میں حکومتی سطح پر پائی جانیوالی کرپشن کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج ایک خودمختار حکومت کی درخواست پر وہاں موجود ہے اور امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی کے بارے میں اسی خودمختار حکومت سے بات کر سکتی ہے۔ ایلس جی ویلز نے جن امور سے اتفاق کیا ہے اگر امریکہ کی بنیادی پالیسی ان کی سوچ اور خیالات کے مطابق استوار کی جائے تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری اور افغانستان میں طالبان سے مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے مگر مشکل یہ ہے کہ یہ اوسط درجے کی امریکی عہدیدار کی سوچ اور خیالات ہیں جن کی امریکی پالیسیوں میں جھلک بھی دکھائی نہیں دیتی۔ امریکی پالیسیاں اور اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی سوچ اس کے بالکل برعکس ہونا ہی بعد کا وہ سبب ہے جس کے باعث امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی دو ممالک اور دو فریقوں کے درمیان اختلافات کے باوجود کم ازکم اس امر کا اتفاق ہی وہ بنیادی مسئلہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ یہ صورت پاک امریکہ تعلقات میں نظر نہیں آتی بلکہ الٹا دونوں ممالک ایک دوسرے کے اقدامات کو چال چلنے اور اس کا محتاط جائزہ لینے میں مصروف رہتے ہیں جس کی بناء پر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہو پاتی بلکہ غلط فہمیوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے دباؤ بڑھا کر موقف منوانے اور دوسرے ملک کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی جو پالیسی ہے جب تک اس پر نظرثانی نہیں کی جاتی معاملات کا آگے بڑھنا مشکل امر ہے۔ امریکہ اگر پاکستان کیساتھ تعلقات میں بہتری کا خواہاں ہے تو اسے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کیساتھ بھی وہی لب ولہجہ اور اعتماد کا اظہار کرنا ہوگا جس طرح وہ خطے کے دیگر ممالک کیساتھ کرتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے اگر امریکہ کو پاکستان کا کردار مطلوب ہے تو ایسا کرنے سے قبل ان عناصر کی موجودگی اور ان کی سرپرستی کا بہتان پاکستان سے ہٹانا ہوگا جو اب تک لگاتے آئے ہیں۔ یہ عجیب سی بات ہوگی کہ امریکہ ایک جانب پاکستان پر ایسے الزامات لگائے کہ وہ ان عناصر کی پشت بانی کرتا ہے جو دہشتگردوں کے زمرے میں آتے ہیں اور ساتھ ہی امریکہ کو پاکستان کے حمایت واعانت بھی درکار ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ پاکستان کے کردار کو اگر ڈبل گیم کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کے اثرات بھی کہیں نہ کہیں نظر آئیں گے۔ ایک مرتبہ اس امر پر اتفاق ہو جائے کہ خطے میں پاکستان‘ امریکہ اور افغانستان ایسے معاملات کو نہیں دہرائیں گے جس سے عدم اعتماد کی کیفیت پیدا ہوتی ہو تو اس کے بعد ہی خطے میں قیام امن اور مذاکرات کیلئے راہ ہموار ہوگی۔ فی الوقت تو اس امر کا تعین باقی ہے کہ پاکستان کو امریکہ کس فریق کے قریب سمجھتا ہے اور اس کے کردار پر کس حد تک اعتماد کرنے کو تیار ہے۔ جہاں تک پاکستان کا افغان طالبان پر اثر ورسوخ کا سوال ہے ایسا سوچنا اب حقیقت پسندانہ امر بہرحال نہیں کہ پاکستان طالبان قیادت پر اب بھی اثر ورسوخ رکھتا ہے۔ ایسا نہیں لیکن بہرحال خطے کے اہم ملک ہونے کے ناتے اور ماضی کے تجربات کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ضرور ادا کر سکتا ہے۔ اس کیلئے دباؤ کی استطاعت نہ رکھنے کے باوجود پاکستان ایسے حالات پیدا کرنے میں ضرور مددگار ثابت ہو سکتا ہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کیلئے روابط پیدا ہو سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اسلامی کے گلبدین حکمتیار کی افغان حکومت سے مفاہمت زیادہ سودمند ثابت نہ ہوئی حالانکہ اس مضبوط وفعال تنظیم کی وساطت سے افغان طالبان سے مذاکرات کا ماحول پیدا ہونا فطری امر تھا جسے افغان حکومت اور امریکی نمائندوں نے ضائع کردیا۔ اب چونکہ حکمتیار گروپ اپنی حیثیت چھوڑ کر افغان حکومت اور معاشرے کا حصہ بن چکا ہے تو اس کی حیثیت بھی تحلیل شدہ ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں اس سے یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ افغانستان میں جب تک طالبان سے معاملت نہیں ہوتی تب تک افغانستان کی صورتحال میں زیادہ مثبت تبدیلی کی اُمید نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام معاملات کو مدنظر رکھنے کے باوجود امریکی عہدیدار پاکستان کے حوالے سے پالیسی بدلنے پر آمادہ نہیں۔ امریکہ کو چاہئے کہ وہ زمینی حقائق سے ہم آہنگ سوچ اپنائے اور ایسی پالیسی مرتب کرے جس سے اعتماد کی فضا قائم ہو اور اس طرح کی فضا تیار کرنے کے بعد ہی جو قدم اُٹھایا جائے گا اس کی کامیابی کی توقع ہوگی۔

اداریہ