نجی سکولوں کی کمائی کا موسم

نجی سکولوں کی کمائی کا موسم

کے انعقاد کے بعد پرائیویٹ سکول مالکان کی دونوں ہاتھوں سے کمائی ضرور ہوتی ہے لیکن سالانہ بنیادوں پر داخلہ فیس کی وصولی اور ماہانہ فیس میں بھی بے تحاشا اضافے کیساتھ سال میں ایک بار کی بجائے دو بار فیسوں میں اضافہ تعلیم برائے فروخت کے مصداق ہے۔ سندھ میں تو باقاعدہ عدالتی سطح پر اس بارے ایک طریقہ کار طے کر دیا گیا ہے جس میں نجی سکول مالکان اور والدین دونوں ہی کے حقوق کا تعین اور تحفظ کیا گیا ہے مگر خیبر پختونخوا میں پوچھنے والا کوئی نہیں کے مصداق معاملہ ہے۔ ستم بالائے ستم کا حامل معاملہ یہ ہے کہ نجی سکول ہر سال نئی جماعت میں جانے پر طلبہ سے داخلے کے نام پر رقم بٹورتے ہیں حالانکہ وہ ایک مرتبہ پوری فیس دے کر داخل ہو چکے ہوتے ہیں صرف یہی نہیں پرائیویٹ سکولوں کے مالکان یونیفارم اور سٹیشنری بیچ کر نئے طریقے سے پیسے کما رہے ہیں۔ بعض سکولوں کے مالکان نے اپنی کتابیں اور کاپیاں چھپوا کر من مانے نرخ پر فروخت کیلئے سکول میں ہی دکانیں سجا رکھی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان طلباء وطالبات کیلئے سکول میں نام نہاد پارٹیاں منعقد کرکے طلباء وطالبات کے والدین سے ہزاروں روپے کا مطالبہ کرتے ہیں جو مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ہے۔ سرکاری سکولوں کی بے وقعتی اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ خود ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ غریب عوام کے پاس جب کوئی اور چارہ کار باقی نہیں بچتا تبھی وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجتے ہیں جبکہ نجی سکولوں میں بچوں کو بھیجنے والے والدین کی غالب اکثریت پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کی فیس ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود نجی سکولوں میں طرح طرح کے حیلے بہانوں سے رقم بٹورنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ صوبائی حکومت کی صفوں میں تعلیم کا کاروبار کرنیوالے صف اول میں ہیں۔ ایسے میں اس طرح کی صورتحال کی روک تھام اور اس کیلئے ضروری قانون سازی خواب ہی کے زمرے میں آئے گا ۔ تمام تر دعوؤں کے باوجود اس ضمن میںموجودہ حکومت بھی اپنے پیشرؤں سے مختلف ثابت نہ ہو سکی۔ محولہ مشکلات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے میں تعلیم کی تجارت کرنیوالوں کو لگام دینے کیلئے مناسب قانون سازی اور قوانین کے مؤثر نفاذ کی ضرورت ہے۔ حکومت دعوؤں کی بجائے حقیقی معنوں میں اور عملی طور پر اگر سرکاری تعلیمی اداروںکے معیار کو بہتر بنا سکے تو عوام اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھجوانے کو ضرور ترجیح دیں گے اور انہیں نجی تعلیمی اداروں سے اپنے بچوں کیلئے تعلیم خریدنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور والدین پر بھاری فیسوں کا اضافی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔
سرکاری رہائش گاہوں کی غلط الاٹمنٹ
ہمارے خبر نگار کے مطابق حاضر سروس ملازمین کو الاٹ شدہ سرکاری رہائش گاہیں دوسروں کو فراہم کرنے کی شکایات کا حکومت نے نوٹس لیتے ہوئے گزشتہ 6 سالوں میں الاٹ شدہ رہائش گاہوں کی رپورٹ طلب کر لی۔ اس سلسلے میں حکومت کو مختلف ذرائع سے شکایات موصول ہوئیں کہ بعض ملازمین کو الاٹ شدہ سرکاری رہائش گاہوں میں وہ خود رہائش پذیر نہیں ہیں بلکہ وہ دوسروں کو غیر قانونی طور پر فراہم کی گئی ہیں جس کی وجہ سے حق دار ملازمین سرکاری رہائش گاہوں کے حصول سے محروم ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکو مت نے ایسی شکایات پر سٹیٹ آفس سے گزشتہ 6 سالوں میں فراہم کردہ سرکاری رہائش گاہوں کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ سرکاری رہائش گاہوں کی بغیر نمبروار حوالگی بھی اپنی جگہ ایک بڑا مسئلہ چلا آرہا ہے لیکن چونکہ اس میں وزیراعلیٰ کے دفتر تک کے حکام براہ راست ملوث ہوتے ہیں اسلئے اس کا نوٹس اولاً لیا نہیں جاتا اور اگر لیا بھی جائے تو اس کی حیثیت نمائشی ہوتی ہے۔ سرکاری ملازمین ایک مرتبہ جائز ناجائز طریقے سے سرکاری رہائش گاہ حاصل کر پاتے ہیں تو اس کے بعد ٹرانسفر ہو کر دوسرے ضلع میں جانے کے باوجود بھی وہ سرکاری رہائش گاہ واپس کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، بعض کے پاس تو ایک پشاور اور دوسرا متعلقہ ضلع اور علاقے میں غیر دستاویزی طور پر سرکاری رہائش گاہ موجود ہوتی ہے۔ اگر حکومت اس کی تحقیقات کرائے اور اس کا جائزہ لے تو بہت سے حقدار ملازمین کو پشاور میں سرکاری رہائش گاہ مل سکتی ہے۔

اداریہ