ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

ہارس ٹریڈنگ کے الزامات

الیکشن کمیشن نے 3مارچ کے سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی خرید وفروخت انگریزی محاورے کے مطابق ہارس ٹریڈنگ کے الزامات عائد کرنے والے متعدد پارٹیوں کے لیڈروں کو 14مارچ کو پیش ہونے کے نوٹس جاری کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ ووٹوں کی خرید و فروخت کے ثبوت بھی ساتھ لے کر آئیں۔ ان میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی شامل ہیں اور حکمران مسلم لیگ کی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی جو تقریباً ہر بیان میں عمران خان کو جھوٹا قرار دیتی ہیں۔ لیکن سینیٹ کے انتخاب میں ووٹوں کی خریدو فروخت کے الزام کے حوالے سے متفق دکھائی دیتی ہیں۔ عمران خان کافی دن پہلے سے کہہ رہے تھے کہ سینیٹ کے انتخاب کے لیے سودے بازی ہو رہی ہے۔ انہوں نے انتخاب کے بعد اپنی پارٹی کے ایسے ارکان کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ووٹ فروخت کیے۔ الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کے کسی رکن کو نوٹس جاری نہیں کیا تاہم پیپلز پارٹی پر بالعموم بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہارس ٹریڈنگ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی۔ حکمران ن لیگ کے قائد نواز شریف نے ہارس ٹریڈنگ کا الزام تو عائد نہیں کیا البتہ اسے مسترد بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر سینیٹ کے انتخاب میں پیسہ چلا ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے سوا تمام بڑی پارٹیوں کی طرف سے سینیٹ کے انتخاب میں ووٹوں کی خرید وفروخت کے الزام سے الیکشن کمیشن کی بھی بدنامی ہوئی ہے کیونکہ کمیشن کا کام ہی شفاف انتخابات کروانا ہے۔ اکیلے پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن کے یہ کہنے سے تو الیکشن کمیشن سرخرو نہیں ہوجاتا کہ کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوئی۔ جبکہ بالعموم یہ کہا جا رہا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ زیادہ تر پیپلز پارٹی نے کی ہے۔ اسی لیے الیکشن کمیشن نے الزام لگانے والوں سے کہا ہے کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کے ثبوت ساتھ لے کر آئیں۔ تحریک انصاف نے اس حوالے سے کچھ کام کیا ہے اور جیسے کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کچھ ارکان صوبائی اسمبلی کی فہرست تیار کی ہے جن پرووٹ فروخت کرنے کا الزام ہے۔پرویز خٹک نے یہ فہرست کس بنیاد پرتیار کی ہے یہ قابلِ فہم نہیں ہے۔ کون اقرار کرے گا کہ اس نے ووٹ بیچا ہے اور کون اقرار کرے گا کہ اس نے خریدا ہے۔ اگر کوئی یہ کہنے پرتیار بھی ہو گیا کہ اس نے ووٹ بیچا ہے تو یہ اس وقت تک الزام ہی رہے گا جب تک خریدار یہ نہ کہے کہ اس نے ووٹ خریدا ہے۔ ظاہر ہے ایسے معاملات میں تو رسید وغیرہ تو جاری نہیں کی جاتی۔ اگر کہیں سے یہ معلوم بھی کر لیا جائے کہ فلاں کے بنک اکاؤنٹ میں ان دنوں کے دوران کوئی بھاری رقم آئی ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ رقم ووٹ فروخت کرنے کی ہے۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جتنے الزام لگانے والے الیکشن کمیشن نے طلب کیے ہیں وہ یہ الزام ثابت نہیں کر سکیں گے اور محض واقعاتی شہادتیں پیش کر سکیں گے جن کی بنیاد پر شکوک و شبہات ابھرے ہیں۔ مثلاً پنجاب سے چوہدری سرور کیوں جیت گئے جب کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اتنے ووٹ نہیں تھے وہ کامیاب ہو سکتے۔ یہ کہ خیبر پختونخوا سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کیوں کامیاب ہو گئے جب کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں ن لیگ کے ارکان کی مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔ لیکن یہ ہارس ٹریڈنگ کا کوئی ثبوت نہیں ہو گا۔ اس لیے الیکشن کمیشن لگتا ہے کہ عدم ثبوت کی بنا پر سرخرو ہو جائے گا۔ تاہم ان الزامات کی وجہ سے سینیٹ کی نیک نامی پر تو حرف آئے گا جو ہمارے جمہوری نظام میں کسی خامی کی نشاندہی کرے گا۔ سینیٹ کا احترام مجروح ہو گا جب کہ ہماری بیشتر سیاسی پارٹیاں کہتی ہیں کہ پارلیمنٹ بالادست ہے جس کا ایوان بالا سینیٹ ہے۔ ابھی عام انتخابات ہونے والے ہیں ، ان میں بھی شفافیت کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن کا فرض ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات کی شفافیت پر تحریک انصاف کے عمران خان نے اعتراض اٹھایا تھا ، انہیں دھاندلی زدہ کہا تھا اور 126دن کا دھرنا دیا تھا۔ اس وقت جو جماعتیں اس دھرنے میں شامل نہیں تھیں انہوں نے بھی کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ خود حکمران مسلم لیگ ن کے اس وقت سربراہ نواز شریف نے کہا تھا کہ سب سے بڑی دھاندلی تو ان کے ساتھ ہوئی ہے۔ ان کے اتحادی جمعیت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ دھاندلی نہیں دھاندلہ ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی آج تک کہتی ہے کہ 2013ء کے انتخاب ریٹرننگ افسروں کے انتخابات تھے۔ اب جب 2018ء کے انتخابات ہوں گے تو ان میں کیااحتیاطیں اختیار کی جائیں گی کہ اس بار دھاندلی نہ ہو۔ اور ریٹرننگ افسر کوئی ایسا کام نہ کر سکیں جیسے کام کا الزام 2013ء کے عام انتخابات کے حوالے سے دیا جاتا ہے۔ اب سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن ہارس ٹریڈنگ کے الزام لگانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے یہ اہم ہوگا ۔ اگر یہ لوگ جنہیں طلب کیا گیا ہے الزام ثابت نہ کر سکے تو ان کے ساتھ اور ان کی پارٹیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا ۔کیاان لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ الزامات واپس لینے کا اعلان کریں اور الیکشن کمیشن سے معافی مانگیں۔ اوراگر یہ الزام لگانے والے اس پر آمادہ نہ ہوں تو کیا الیکشن کمیشن ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرے گا۔ انہیں عدالتوں سے سزا دلواکے اپنی سر خروئی کا بندوبست کرے گا اور اس طرح سینیٹ کے انتخابات کے شفاف ہونے کا ثابت کرے گا۔ الزامات کے ٹھوس ثبوت تو لگتا ہے فراہم نہیں کیے جا سکیں گے ۔ لیکن وہ شہادتیں کہ ایسے لوگ کامیاب ہو گئے جن کی پارٹیوں کے ارکان کی تعداد کم تھی اپنی جگہ موجود رہیں گی۔ کیا عدم ثبوت کی بنا پر سرخروئی الیکشن کمیشن اور سینیٹ کے لیے کے لیے کافی ہوگی؟ ۔

اداریہ