Daily Mashriq


کیا اکثریت کو اقلیت میں بدلنا جمہوریت ہے؟

کیا اکثریت کو اقلیت میں بدلنا جمہوریت ہے؟

سینیٹ کے بروقت انتخابات کے انعقاد سے ایک جمہوری سنگ میل عبور ہوا ہے۔ عام انتخابات کی راہ میں نہ پہلے کوئی رکاوٹ تھی نہ آئندہ ہونے کا کوئی خدشہ ہے۔ سینیٹ الیکشن کے کم وبیش وہی نتائج سامنے آئے ہیں جن کی توقع کی جارہی تھی۔ سینیٹ انتخابات میں سب سے زیادہ توجہ پنجاب پر تھی‘ جہاں ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ رہے تھے‘ دوسرے مسلم لیگ (ن) کے اندر انتشار کی افواہیں بھی تھیں۔ مسلم لیگ (ن) نے 12میں سے 11نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے جہاں پارٹی اتحاد اور مضبوطی کا اظہار کیا‘ وہیں 38ارکان کی طرف سے ڈسپلن کی خلاف ورزی بھی سامنے آئی، تاہم پارٹی کو بڑا ڈینٹ نہیں پڑا۔ چودھری سرور کی کامیابی پنجاب میں ایک طرح کا اپ سیٹ ضرور ہے مگر خیبر پی کے میں تحریک انصاف کو اس سے بڑے اپ سیٹ کا سامنا کرنا پڑا جہاں پی ٹی آئی دو سیٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ عمران خان اسی پر برہم دکھائی دیتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ طوطا فال والوں کو مایوسی ہوئی‘ واضح ہو گیا کہ مسلم لیگ سب سے بڑی جماعت ہے‘ عام انتخابات بھی جیتیں گے۔ اب تک ہونیوالے بیشتر ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی حاصل ہوئی‘ سینیٹ الیکشن کو آئندہ کے انتخابات کیلئے بیرومیٹر قرار دیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے پارٹی صدارت کیلئے ایک دانشمندانہ فیصلہ سامنے آیا۔ لیگی قیادت نے کئی ماہ نفع ونقصان کا حساب لگانے کے بعد شہباز شریف کو پارٹی صدر بنانے کا فیصلہ کیا۔ یہ مسلم لیگ (ن) کی مضبوطی اور اتحاد کیلئے بھی مناسب فیصلہ ہے۔ قیادت اس کے علاوہ جو بھی فیصلہ کرتی‘ وہ مہم جوئی ثابت ہو سکتی تھی۔ ایک بڑی پارٹی کو سنبھالنے کیلئے شہباز شریف جیسے منتظم کی ہی ضرورت تھی ورنہ تو متحدہ قومی موومنٹ کی حالت سب کے سامنے ہے۔ وہ بمشکل ایک سینیٹر کو منتخب کرا سکی ہے۔ کمزور لیڈرشپ سے کوئی بھی پارٹی بکھر سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو عدالتی فیصلوںکے باعث نامساعد حالات کا سامنا ہے مگر پارٹی چونکہ مضبوط ہاتھوں میں ہے‘ اس لئے پہلے سے بھی مضبوط نظر آرہی ہے۔ہارس ٹریڈنگ پر عمومی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بھی کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے۔ عمران خان تو باقاعدہ اشتعال میں ہیں، انہوں نے اپنے دورہ کراچی کے دوران واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ ہمارے اراکین اسمبلی بھی سینیٹ الیکشن کے دوران بکے اس کی تحقیقات کی جائے گی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب اوران کے دیرینہ ساتھی شیخ رشید اسمبلی اپنا ووٹ تک کاسٹ کرنے نہیں گئے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی سینیٹ الیکشن میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کا الزام لگایا، انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ ان کے 14سے زیادہ اراکین اسمبلی فروخت ہوگئے۔ کم وبیش اسی قسم کے الزامات پنجاب میں بھی ن لیگ کی جانب سے سامنے آرہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے چیف جسٹس سے سینیٹ الیکشن میں بدترین ہارس ٹریڈنگ کا سوموٹو لینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے عوام وخواص کو ضرور سوچنا ہوگا کہ آیا خصوصاً عوام کو ضرور اپنے منتخب کردہ اراکین اسمبلی سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کیوں کیا۔عام انتخابات اب زیادہ دور نہیں‘ اس میں جو نتائج آئیںگے سو آئیں گے‘ جیتنے والی پارٹی یا پارٹیاں حکومت بنائیں گی مگر اب سینیٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ اگلے مرحلے میں چیئرمین سینیٹ کے الیکشن ہونے ہیں‘ مسلم لیگ (ن) اتحادی جماعتوں سے مل کر آسانی سے اپنا چیئرمین منتخب کرا سکتی ہے مگر پاکستان پیپلز پارٹی اپنا چیئرمین بنوانے کیلئے سرگرم ہوگئی ہے۔ خورشید شاہ کہتے ہیں کہ چیئرمین ان کی پارٹی کا ہوگا۔ اس کیساتھ ہی پی پی پی کا وفد جوڑ توڑ کیلئے کوئٹہ پہنچ گیا ہے۔ ہارس ٹریڈنگ چیئرمین کے الیکشن میں بھی ہو سکتی ہے۔ پی پی بلوچستان میں جیتنے والے سینیٹرز کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرے گی۔ سینیٹ میں آزاد اُمیدواروں کی تعداد 15 ہے جبکہ پنجاب سے کامیاب ہونیوالے مسلم لیگ (ن) کے اُمیدوار بھی بوجوہ آزاد حیثیت میں ایوان میں جائیںگے۔ یوں ہارس ٹریڈنگ کا ایک کھلا میدان موجود ہے۔متحدہ کے سربراہ فاروق ستار نے برملا کہا ہے کہ ان کے 14ارکان نے پی پی پی کے اُمیدوار کو ووٹ دیئے‘ دیگر پارٹیاں بھی ارکان کی خرید وفروخت کے ثبوت متعلقہ اداروں کے سامنے رکھیں۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر سیکرٹ کے بجائے اوپن ووٹنگ ہوتی تو کیا پھر بھی اسی طرح ہارس ٹریڈنگ ہوتی؟ سیاسی پارٹیاں اوپن ووٹنگ پر غور کریں۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں بھی ہارس ٹریڈنگ سے بچنے کیلئے سیکرٹ کے بجائے اوپن بیلٹ کا طریقہ کار اختیار کیا جا سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو سینیٹ میں برتری حاصل ہے‘ پیپلز پارٹی اور دیگر پارٹیاں اس حقیقت کو تسلیم کریں۔ اس کے چیئرمین کے انتخاب کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں۔ جمہوریت میں ارکان اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے میں آزاد ہیں۔ ضمیر خریدنا کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ انجینئرڈ طریقے سے کسی کی بھی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش جمہوریت کی خدمت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں