Daily Mashriq


امانت و صداقت کا جنازہ

امانت و صداقت کا جنازہ

اس وقت تحریک انصاف پر عوام کا اعتماد مزید مستحکم ہوا تھا جب اس نے اپنے ایک صوبائی وزیر کو بدعنوانی اور کرپشن کے الزام میں برطرف کر دیا تھا۔ اس لمحہ یہ ایک انتہائی عمدہ مثال قائم ہوئی تھی اور یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ آج کے بعد کسی کی لوٹ کھسوٹ کی ہمت نہیں ہوگی مگر یہ امر خوش فہمی کا شکار ہو کر رہ گیا، اس عمل کے بعد سے صوبائی ادارہ ایسا عضو معطل ہوا کہ اب تک اس کی رگوں میں خون منجمند ہے۔ عمران خان کی ہمت بندھ ہی نہیں پا رہی کہ وہ لوٹ مار، چوری چکاری کیخلاف ہاتھ بڑھا سکیں البتہ وہ دن رات ایک ہی تسبیح گھوما رہے ہیں کہ نواز شریف چور ہے، پہلے تو ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور آصف زرداری دونوں پاکستان کے سب سے بڑے چور اور ڈاکو ہیں۔ آئندہ برسر اقتدارآرہے ہیں اور ان ڈاکوؤں سے قوم کا لوٹا ہوا پیسہ نکلوائیں گے اور جرائم پیشہ افراد کیلئے ا ن کو نشان عبرت بنا دیں گے، تحریک انصاف کے ایک کارکن کی شاہ محمود سے گفتگو کی آڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ شاہ صاحب سے خوشامد کر رہے ہیں کہ ذرا عمر ان خان کے گوش گزار کر دیں کے ان کے پاس صوبہ کے پی کے سب سے اہم عہد ے پر فائز کی کرپشن کے ثبوت کی فائلیں موجود ہیں، ان کو ملاقات کا وقت دیدیں تاکہ یہ فائلیں خان صاحب کے حوالے کر دیں مگر نہ تو شاہ صاحب کان دھر رہے ہیں اور نہ عمران خان متوجہ ہو رہے ہیں مگر کیا ہوا انصاف کا بول بالا کرنیوالی جماعت اور مصدقہ صادق وامین جماعت کی امانت اور دیانت کا بھانڈہ سینیٹ کے انتخابات میں پھوٹ گیا، عمران خان صداقت دیانت، اما نت کیلئے جو قافلہ لیکر چلے ہیں اس کا لبادہ ہی اُتر گیا۔سینیٹ کے جو پہلے انتخابات ہو ئے تھے اس میں پیسہ چلنے کا ذکر دور دور تک نہیں تھا حالانکہ اس زمانے میں جتنی پارٹیوں نے سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیا تھا ان میں کسی کے پاس صادق وامین ہونے کا سرٹیفیکیٹ نہیں تھا ، پہلی سینیٹ میں سب سے زیادہ بھروسے والے ارکان عوامی نیشنل پارٹی کے تھے، عوامی نیشنل پارٹی نے ایسے افراد کو ٹکٹ دئیے تھے جن کی دیانتداری، ایمانداری، اخلاقی اقدار ہر کسی بحث سے مبرا تھی اور ٹکٹ کیلئے جو میرٹ مقرر کیا تھا وہ یہ تھا کہ سینیٹ چونکہ صوبوں کی نمائندگی کرتا ہے تو اس کیلئے ایسے افراد کا انتخاب ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اپنے شعبوں کے ماہر ہوں تاکہ کسی صوبے کی قانون سازی اور دیگر امور میں حق تلفی نہ ہو۔سینیٹ کے انتخابات کا جائزہ لیا جا ئے تو یہ بات کھلتی ہے کہ ہارس ٹریڈنگ میں دو جماعتیں سرفہرست قرار پائی ہیں حالانکہ اس کو ہارس ٹریڈنگ نہیں کہنا چاہئے خر ٹریڈنگ کہا جانا چاہئے کیونکہ معاشر ے میں گدھے کی بہ نسبت گھوڑے کو زیادہ عزت حاصل ہے، اتفاق دیکھئے کہ جن جماعتوں پر ہارس ٹریڈنگ کے الزاما ت لگے ہیں ان کا لیڈر سند یافتہ صادق وامین قرار پائے ہیں۔ عمران خان کو یہ سند ملک کی سب سے بڑی عدالت نے عطا کر دیا ہے تاہم آصف زرداری کی سند نیازی صاحب سے کم درجے کی ہے کہ وہ نیب جیسے ادارے سے سند یافتہ ہیں اب سوچنے کا مقام ہے کہ صادقین اور امین رہنماؤں کے قافلے کا یہ حال ہے تو جو مستند صادق وامین نہیں ٹھہرے ہیں بلکہ کاذب وبے ایمان اور خائن ٹھہرے ہیں ان کے قافلے کی حالت کیا ہے۔ ان تمام کے باوجود مستند صادق وامین رہنماء عمران خان نیازی کے حوصلے کو داد دیجئے کہ انہوں نے اپنے قافلے کے کرتوت کو تسلیم کیا اور ان کے بارے میں تحقیق اور تفتیش کا دائرہ کھینچا۔ توقع ہے کہ ثابت ہو جانے پر ان کیخلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ارکان پارلیمان کی ہارس ٹریڈنگ کے بارے میں یہ ہی تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ پارٹی فیصلے کی خلا ف ورزی ہے اور اس تاثر سے ایسے کاروبار کے جرم کو نحیف جرم سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ جرم قتل اور یہ ایسے سنگین جرائم سے بھی زیادہ سنگین ہے بلکہ قوم سے غداری کے مترادف ہے، اس طرح ارکان پارلیمنٹ کے بکنے والے اور خریدنے والے دونوں برابر کے مجرم ہیں جن افراد کو بکنے کا الزام دیا جا رہا ہے ان کیخلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے، زیادہ سے زیادہ ان کا پارٹی سے اخراج عمل میں لایا جا سکتا ہے ویسے بھی موجودہ اسمبلیوں کی اُلٹی گنتی شروع ہوگئی ہے، چند دنوں کی بات تو ہے۔یہاں یہ سوال ہے کہ جو ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے کیا وہ صرف یہ جرم ہے کہ پارٹی فیصلے پر عمل نہیں کیا گیا اور چاندی کی چمک سے آنکھیں خیرہ کر لیں، ایسی بات نہیں ہے یہ پارٹی سے غداری نہیں بلکہ عوام سے غداری ہے۔ صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں جو ارکان براجمان ہیں وہ بنیادی طور پر پارٹی کے نمائندے نہیں بلکہ عوام کے نمائندے ہیں، ان کو عوام نے اپنا نمائندہ چن کر پارلیمان میں بھیجا ہے تاکہ عوام کی نمائندگی کا حق ادا کریں پارٹی کا حق ادا کرنے کیلئے نہیں اور سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ بھی اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو عوام کی جانب سے یہ اختیار دیا گیا کہ وہ سینیٹ کیلئے عوام کی جانب سے عوام کیلئے نمائندے مقرر کریں چنانچہ عوام نے ان کو عوامی نمائندگی کے اصول بھی آئین اور قانون کے علاوہ معروف اخلاقی اقدار کی صورت میں فراہم کر دیئے ہیں جس کے دائرے سے باہر یہ کوئی قدم اُٹھانے کے مجاز نہیں ہیں اور ایسی سنگین غداری پر یہ سب آئین کے آرٹیکل62 اور 63کی زد میں آتے ہیں۔ جہاں تک ان کے لیڈروں کا تعلق ہے تو وہ بھی اس جرم کے مرتکب قرار پاتے ہیں کہ انہوں نے ایسے افراد کو انتخاب کیلئے پیش کیوں کیا جن کی صادقت اور امانت مشکوک پا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں