Daily Mashriq


زراعت کا شعبہ زوال پذیر کیوں؟

زراعت کا شعبہ زوال پذیر کیوں؟

پاکستان کی آبادی تقریباً 21کروڑ ہے جبکہ پاکستان کے تقریباً 60 فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ہیں۔ موجودہ اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی ٹوٹل ورک فورس یعنی مختلف شعبوں میں کام کرنیوالے لوگوں کی تعداد تقریباً 7کروڑ ہے اور اس میں 4کروڑ زراعت سے وابستہ ہیں۔ زراعت کے شعبہ سے وابستہ پاکستان کے چار کروڑ لوگوں کو روزگار تو میسر ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ وطن عزیز میں زراعت پر وہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے جو پاکستان جیسے ملک کو دینی چاہئے۔ پاکستان خوبانی کی پیداوار میں دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے، کاٹن یعنی روئی کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر، دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر، کھجور کی پیداوار میں پانچویں نمبر، پیاز کی پیداوار میں ساتویں نمبر پر، کینو کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر، گندم میں ساتویں نمبر پر چاول کی پیداوار میں 11ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ معیار کا تمباکو اور ورجینیا بھی صوابی اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوتا ہے۔ دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر ہونے کے باوجود بھی پاکستان کے لوگ پیکٹ کا دودھ پیتے ہیں۔ پاکستان کا گنا بھی دنیا میں اعلیٰ قسم کا ہے مگر جوس ڈبوں کا پیتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان کا کل رقبہ 8لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔ جس میں صرف 2 یا ڈھائی لاکھ مربع کلو میٹر پاکستان کے شہر اور زرعی زمینیں ہیں جبکہ 5لاکھ مربع کلو میٹر سے زیادہ رقبہ بنجر ہے یا اس میں پہاڑ ہیں۔ اگر پاکستان کے کل رقبے یعنی زمین کو زیر کاشت لایا گیا تو پاکستان پورے ایشیاء کی آبادی کی خوراک کا انتظام کر سکتا ہے۔ سندھ میں لوگ گنا جلاتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں لوگ تمباکو کو ضائع کرتے ہیں اور پنجاب میں زمینداروں سے گندم نہیں لی جاتی۔ اگر غور کیا جائے تو پاکستان کے حکمرانوں کو نہ تو پاکستان اور نہ ان کے کسانوں اور کاشتکاروں سے کوئی ہمدردی اور دلچسپی ہے۔ بھارت اپنے ملک کی کل آمدنی کا 2.5فیصد جبکہ پاکستان اپنی ملک کی کل آمدنی کا 0.4فیصد زراعت پر خرچ کر رہا ہے جو بھارت سے 7گنا کم ہے۔ بھارت اپنے کسانوں کو 40ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کی زرعی پیداوار کی قیمتیں پاکستان کی نسبت 15سے لیکر 20 فیصد تک کم ہیں اور پاکستان بھارت کی کم لاگت پر حا صل کی گئی زرعی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بھار ت میںکسانوں کو ٹیوب ویلوں کیلئے مفت بجلی دی جاتی ہے۔ بھارت میں ڈی اے پی کھادکی قیمت 1100روپے ہے جبکہ پاکستان میں 3000روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں زراعت کیلئے بجلی، کھاد، بیج بہت مہنگے ہیں اور اس پر باالوسطہ طور پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے کسان اور زمیندار پر مزید بوجھ پڑتا ہے۔ پاکستان میں زراعت کی طرف توجہ نہ دینے کی صورت میں زرعی زمینیں ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور پاکستان کے تمام شہروں میں پراپرٹی کی قیمتوں میں انتہائی اضافہ ہوا ہے کیونکہ پاکستان کے کسانوں کو زراعت میں کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی زمینوں کو پراپرٹی کے بزنس میں تبدیل کر رہے ہیں پاکستان کے 60فیصد پارلیمنٹیرینز کا تعلق دیہاتی علاقوں سے ہے مگر بدقسمتی سے یہی قانون ساز دیہاتی علاقوں اور زراعت سے وابستہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ نہیںکر رہے ہیں۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو پاکستان کی مینوفیکچرنگ اور زرعی صنعتیں موجودہ حکومت کی منفی پالیسیوں کی وجہ سے زوال اور ابتری کا شکار ہیں۔ پاکستان باہر سے بالخصوص چین اور بھارت سے زرعی اشیاء اور اشیائے خورد ونوش منگوا رہا ہے۔ جب تک پاکستان کی حکومت کسانوں کو سبسڈی نہیں دے گی اس وقت تک پاکستان کی زرعی مصنوعات کی قیمتیں کبھی کم نہیں ہوںگی اور ہم اپنے پڑوسیوں اور بالخصوص بھارت سے کبھی بھی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حاکموں کو چاہئے کہ وہ کسانوں کو سبسڈائزڈ ریٹس پر کھاد اور دوسری ضروری اشیاء مہیا کرے اور بجلی، پٹرول اور ٹریکٹر کی قیمتوں میں کمی کریں تاکہ زراعت سے وابستہ لوگ اس پیشے اور صنعت سے نہ بھاگیں اور اپنی زمینوں کو پلازوں اور پلاٹوں میں تبدیل کرنے سے باز رہیں۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے کسانوں کو زراعت پر 300ارب ڈالر سالانہ سبسڈی دے رہے ہیں اور پاکستان جیسے غریب ممالک اپنے کسانوں کو اس قسم کی سبسڈی نہیں دے سکتے جس کی وجہ سے ان ترقی پذیر ممالک کے کسانوں کو نقصان ہوتا ہے کیونکہ جب ترقی پذیر ممالک عالمی مارکیٹ میں سستی چیزیں سپلائی کریں گے تو وہاں پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کیسے ترقی یافتہ ممالک کی زرعی پیداوار کا مقابلہ کر سکیں گے جس کی وجہ سے چھوٹے اور غریب ممالک کی مارکیٹ پر برا اثر پڑتا ہے۔ بھارت پاکستان کو سالانہ ڈھائی ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کرتا ہے جس میں زیادہ تر زرعی اجناس شامل ہیں جبکہ اس کے برعکس پاکستان بھارت کو صرف 50کروڑ ڈالر کی اشیاء برآمد کرتا ہے جو بھارت کے مقابلے میں بہت کم ہے حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ زرعی مد میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دے اور ان کو مجبور نہ کرے کہ وہ اس اہم پیشے کو چھوڑیں۔

متعلقہ خبریں