نئی حلقہ بندیاں

نئی حلقہ بندیاں

اگرچہ ہم سب جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں مگر جمہوری نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی سعی نہیں کرتے۔ جب بھی اس ملک میں الیکشن ہوئے مخالفین نے دھاندلی کا الزام ضرور لگایا۔ الیکشن کمیشن کہنے کو ایک غیرجانبدار ادارہ ہے مگر نئی حلقہ بندیوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ حکومتی اثر ورسوخ بروئے کار آیا ہے۔ جیسے سینیٹ الیکشن میں دولت کے استعمال کا ٹھوس ثبوت تلاش کرنا مشکل ہے بعینہ اس الزام کا ثبوت بھی مشکل ہے کہ الیکشن کمیشن میں ہونیوالی حلقہ بندیوں میں حکومت کے لوگ اثر انداز ہوئے ہیں۔ تاہم نئی حلقہ بندیوں کو دیکھنے سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ حکمران جماعت کے اکثر اُمیدوار ایڈجسٹ ہوئے ہیں جبکہ مخالف جماعتوں کے اُمیدوار افراتفری کا شکار ہو گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں سب سے پہلا ردِعمل آفتاب شیرپاؤ کا سامنے آیا جس میں انہوں نے نئی حلقہ بندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو خوش کرنے کیلئے جانبداری اور بدنیتی سے کام لیا گیا۔ الیکشن کمیشن پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اُس نے سیاسی جماعتوں کی عدم مشاورت سے حلقہ بندیوں کا ڈرافٹ تیار کیا ہے اور جان بوجھ کر ایسے حلقے تیار کئے ہیں تاکہ مشکلات اور پیچیدگیاں پیدا ہوں۔
کون اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہے کہ پاکستان میں الیکشن مینج کرنے کی ایک تاریخ ہے۔ حلقہ بندیاں دھاندلی کا نکتہ آغاز ہوتی ہیں۔ قبل ازیں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایسی حلقہ بندیاں کی گئیں تاکہ کنگز پارٹی کے زیادہ سے زیادہ ووٹ اکاموڈیٹ ہو سکیں۔ ان حلقہ بندیوں کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو یہ لالے پڑ گئے کہ کس حلقے سے ان کا اُمیدوار کون ہوگا۔ آج الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی مشاورت کے بغیر حلقہ بندیوں کا جو ڈرافٹ تیار کیا ہے وہ ماضی کے تجربے سے مختلف نہیں دکھائی دیتا۔ لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔
ان حلقہ بندیوں کے بعد تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی سمیت اپوزیشن کی اکثر جماعتوں کو یہ فکر لاحق ہوگی کہ کس حلقے سے ان کا کون سا اُمیدوار انتخابی میدان میں اُترے گا۔ یہ اپنے تئیں ایک مشکل ایکسرسائز ہے چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان حلقہ بندیوں نے اپوزیشن جماعتوں کو نئے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ جہاں تک حکمران کا تعلق ہے تو اس ضمن میں میرا احساس یہ ہے کہ کسی نہ کسی مرحلے پر خواہ وہ ریجنل الیکشن کمشنرز کی سطح پر ہو یا الیکشن کمیشن کا مرکزی دفتر اس میں ملوث ہو مسلم لیگ ن کے متوقع اُمیدواروں کی حلقہ بندیوں کے عمل تک رسائی رہی ہے لہٰذا حلقے ان کی مرضی ومنشاء کے مطابق ہیں۔ اس رسائی کی ایک جھلک مجھے راولپنڈی میں دکھائی دی ہے جہاں مسلم لیگ ن کے دو متحارب فریقین کو قومی اسمبلی کے دو الگ حلقوں میں اکاموڈیٹ کرنے کا انتظام ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
قبل ازیں راولپنڈی شہر قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 55اور این اے 56میں تقسیم تھا۔ یہاں مسلم لیگ ن کے سابق ممبر قومی اسمبلی محمد حنیف عباسی اور سینیٹر چوہدری تنویرخان کے بیٹے چوہدری دانیال کے مابین حلقہ این اے 56کے ٹکٹ کا مقابلہ تھا۔ نئی حلقہ بندیوں میں یہ مسئلہ حل کر دیا گیا ہے۔ اب راولپنڈی شہر کی آٹھ یونین کونسلوں کو چکلالہ کینٹ کیساتھ ملا کر ایک نیا قومی اسمبلی کا حلقہ بنا دیا گیا جو ہر طرح سینیٹر چوہدری تنویر خان کو سوٹ کرتا ہے جبکہ دوسرے شہری حلقے میں حنیف عباسی مسلم لیگ ن کے اُمیدوار بن جائیں گے۔ راولپنڈی شہر کی دونوں نشستیں 2013ء میں تحریک انصاف نے جیتی تھیں لیکن اب نئے بنائے گئے حلقوں میں شیخ رشید اور تحریک انصاف کیلئے لامحالہ مشکلات ہوں گی۔
دوسری طرف راولپنڈی شہر کی چھ یونین کونسلیں راولپنڈی کینٹ کیساتھ لگا کر اس بات کا اہتمام کیا گیا ہے کہ راولپنڈی کینٹ کی نشست پر تحریک انصاف کو واک اوور نہ ملے۔ 2013ء کے الیکشن میں اس نشست پرتحریک انصاف کی خاتون اُمیدوار حنا منظور نے انسٹھ ہزار ووٹ لیکر سب کو حیران کر دیا تھا۔ اس بار یہ سیٹ تحریک انصاف کے پاس جانے کے قوی امکانات تھے لیکن راولپنڈی شہر کی چھ یونین کونسلوں کو اس حلقے کیساتھ ملانا کسی اور گیم پلان کو ظاہر کرتا ہے۔
راولپنڈی میں ان حلقہ بندیوں کو دیکھ کر میں تشویش میں مبتلا ہو چکا ہوں، چونکہ مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ 2013ء کی طرح 2018ء کے الیکشن کو بھی مینج کرنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ الیکشن میں پری پول رگنگ شروع ہو چکی ہے باقی لوازمات وقت کیساتھ بتدریج سامنے آتے جائیں گے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے دھاندلی کے بارے میں اگرچہ شور بہت ڈالا مگر عملی طور پر الیکشن کمیشن کی ہیئت کو بدلنے اور اس کی کارکردگی معیاری بنانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ الیکشن 2013ء کی بدانتظامی میں سب سے برا کردار ریٹرننگ افسروں کا تھا۔ ریٹرننگ افسروں کی بے ضابطگی کو قابل گرفت بنانے کیلئے کیا قانون سازی کی گئی ہے؟ اگر نہیں کی گئی تو تحریک انصاف متوقع دھاندلی روکنے کیلئے کیا اور کس قسم کی پیش بندی کر رہی ہے؟ ابھی بھی نئی قانون سازی ہو سکتی ہے اور ریٹرننگ افسروں کو ضابطے پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ میری رائے میں جب تک ریٹرننگ افسروں کی کاکردگی کو قابلِ مواخذہ نہیں بنایا جاتا انتخابی عمل ہمیشہ پراگندہ رہے گا اور طاقتور حلقے الیکشنز کو مینج کرتے رہیں گے۔

اداریہ