مشرقیات

مشرقیات

امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ مدینہ منورہ پہنچنے والے مال غنیمت میں سے عام شہری جتنا حصہ وصول کرتے۔ ایک مرتبہ فرمایا: میرے لئے دو جوڑے ہی کافی ہیں‘ ایک سردیوں والا‘ ایک گرمیوں کے لئے‘ خوراک وہ ہو جو ایک عام قریشی کھاتا ہے‘ حج یا عمرہ کرنا ہو تو ایک سواری مل جائے۔ خدا کے مال میں‘ میں اتنا تصرف ہی جائز سمجھتا ہوں جو مال یتیم میں روا ہوتا ہے‘ گنجائش ہوئی تو نہ لیا‘ ضرورت پڑی تو معروف کے مطابق لے لیا۔
سیدنا عمرؓ بیمار پڑے تو طبیب نے شہد تجویز کیا‘ تب بیت المال میں ایک کپی سے زیادہ شہد نہ تھا۔ وہ منبر پر چڑھے اور حاضرین سے کہا: اگر آپ نے مجھے یہ شہد لینے کی اجازت دی تو میں استعمال کروں گا ورنہ یہ مجھ پر حرام رہے گا۔ اپنی جان کے معاملے میں مسلمانوں نے حضرت عمرؓ کی اس قدر شدت پسندی دیکھی توان کی بیٹی ام المومنین حفصہؓ سے رجوع کیا‘ تب بھی ان کا جواب تھا: اے حفصہ‘ تو نے مال غنیمت سے حسب خواہش حظ اٹھانے کا مشورہ دے کر اپنی قوم کی خیر خواہی کی اور اپنے باپ کا برا چاہا۔ میرے مال و دولت میں تو تمہارا حق ہوسکتا ہے میرے دین و ایمان میں نہیں۔
ایک بار کسی بچے کے رونے کی آواز سنی تو اس کی ماں کو غفلت کرنے پر ڈانٹا‘ کچھ رات گزری تو ایک اور بچہ روتا ہوا پایا‘ آخری پہر ہوا تو بھی ایک بچے کا رونا رات کا سکون برباد کر رہا تھا۔ حضرت عمرؓ نے بچے کی ماں سے کہا: تو کیسی ماں ہے؟ تیرے بچے کو رات گزرنے پر بھی رونے سے قرار نہیں آیا۔
اس نے کہا: دودھ کے بجائے روٹی دیتی ہوں اور یہ لیتا نہیں۔ انہوں نے پوچھا: یہ کیوں؟ اس نے بتایا: کیونکہ امیر المومنین صرف دودھ چھڑائے ہوئے بچے کو وظیفہ دیتے ہیں۔ انہوں نے بچے کی عمر پوچھی اور ماں کو دودھ پلائی جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔ فجر کی نماز پڑھانے کے بعد وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ آنکھیں آنسوئوں سے بھری تھیں‘ فرمایا: عمر کوڑی کوڑی کو محتاج ہوجائے! اس نے مسلمانوں کے کتنے ہی بچے مار ڈالے۔ پھر مدینہ میں منا دی کرادی کہ اپنے بچوں کا دودھ جلدی جلدی نہ چھڑائو‘ ہم نے مسلمانوں کے ہر نو مولود کے لئے وظیفہ مقرر کردیا ہے۔ یہی حکم پوری مملکت اسلامیہ میں نافذ کردیاگیا۔ انہی راتوں کا ذکر ہے جب حضرت عمرؓ مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تھے۔ ایک عورت جھوٹ موٹ کی ہنڈیا چڑھا کر روتے ہوئے بچوں کو بہلا رہی تھی۔ ان کو پتا چلا تو فوراً گئے‘ آٹا‘ گھی اور پکانے کا کچھ سامان لے آئے۔ غلام اسلم نے کہا: یہ سامان میں اٹھا لیتا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: کیا روز قیامت بھی میرا بوجھ اٹھائے گا؟ بچے پیٹ بھر کر سو گئے تو وہ لوٹے‘ ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے: بھوک ہی ہے جو بچوں کو سونے نہیں دیتی اور ان کو رلا مارتی ہے۔
(سنہرے واقعات)

اداریہ