Daily Mashriq


ایف بی آر کی جگہ نئے ادارے کی نہیں اصلاحات کی ضرورت ہے

ایف بی آر کی جگہ نئے ادارے کی نہیں اصلاحات کی ضرورت ہے

وزیراعظم عمران خان ایک جانب خبردار کررہے ہیں کہ اگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے موثر انداز میں کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو نیا ادارہ تشکیل دے دیں گے۔تاہم دوسری جانب وہ خود اس امر کا اعتراف کر رہے ہیں کہ ایف بی آر میں اصلاحات سے ٹیکس نیٹ بہتر ہوگا۔انہوں نے تاجربرادری سے مخاطب ہو کر کہا کہ ٹیکس کے بغیر کوئی معاشرہ کامیاب نہیں ہو سکتاتاہم اداروں میں بہتری کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔انہوں نے عندیہ دیا کہ ملک میں سرمایہ کاری لانے کی کوشش کررہے ہیں اور اگلے چند برسوں میں متعدد ممالک کی جانب سے سرمایہ کاری آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے منشور میں تعلیم اور صحت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاہم اس حقیقت کو بھی سمجھنا چاہیے کہ ملک میں انسانوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیوکی جگہ نیا ادارہ بنانے کی تجویز یا دھمکی قابل عمل امر نہیں۔ ادارہ موجود ہے ایف بی آر فعال ہے لیکن اتنا فعال نہیں کہ محصولات کا طے شدہ ہدف حاصل کرسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس امر کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور وجوہات کا تعین کرکے ان کو دور کرنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہر سال ٹیکسوں کی وصولی کا ہدف ممکن کیوں نہیں ہوتا۔ آیا ٹیکسوں کی وصولی کا مقرر شدہ ہدف حقیقت پسندانہ نہیں ہوتا اور خواہ مخواہ ایک بھاری بھر کم ہدف دے کر بجٹ میں فرض کرلیاجاتا ہے کہ اتنی رقم محصولات کی مد میں آئے گی جس کا تعاقب کرتے کرتے ایف بی آر کی ہمت جواب دے جاتی ہے کمر ٹوٹنے کا اعتراف ہوتا ہے تو لازمی طور پر وفاقی میزانیہ کا توزان بگڑ جاتا ہے اور اس کا بھاری بھر کم حجم جب عدم وصولیوں اور اہداف کے حصول میں ناکامی کے بعد خزانہ پر آگرتا ہے تو خزانہ اس کے بھاری بوجھ تلے دب جاتا ہے جس کے بعد ترقیاتی منصوبوں یہاں تک کہ سکیموں تک کو فنڈز کی فراہمی رک جاتی ہے۔ اس وقت تو صورتحال یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے سات ماہ کے دوران دو تین منی بجٹ پیش کئے۔ ترقیاتی منصوبوں پر کام تقریباً بند ہوچکا ہے‘ سرکاری سکیموں کے لئے بھی رقم دستیاب نہیں۔ خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے سے رقم کی سوات ایکسپریس وے کو منتقلی کی نیم مصدقہ اطلاعات ہیں۔ مختلف ترقیاتی منصوبے اور سکیمیں لپیٹ دینے کی شنید ہے۔ وفاقی حکومت بھی ان سات ماہ کے دوران بھاری قرضے لینے کے باوجود کسی بڑے منصوبے کی نوید نہیں دے سکی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک میں کاروبار روزگار کے ذرائع متاثر ہو چکے ہیں۔ ڈالر کی راکٹ کی رفتار سے بڑھتی قیمت بجلی و گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روز افزوں اضافہ جیسی صورتحال میں ہم کارپوریٹ سیکٹر سے کس طرح ایسی توقعات وابستہ کرسکتے ہیں جس سے کوئی ایسا معجزہ رونما ہو کہ ایف بی آر ٹیکس اہداف حاصل کرے۔ اس بارے دوسری رائے نہیں کہ ایف بی آر کی ناکامی کے محولہ حالات کے علاوہ بھی بڑی وجوہات ہیں جن میں سیاسی دبائو با اثر افراد کا ٹیکس کی ادائیگی سے گریز ٹیکس سے بچائو کے نت نئے طریقوں اور چور راستوں کا استعمال شامل ہے۔ ان سارے حالات کے ایف بی آر کی کارکردگی پر اثرات فطری امر ہیں۔ وزیر اعظم بجائے اس کے ایک نیا ادارہ قائم کرکے اسے پروان چڑھاتے اگر ایف بی آر کی فعالیت کے راستے کے پتھر ہٹاتے اور اسقام دور کریں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ایک ایف بی آر ہی پر کیا موقوف اگر بغور جائزہ لیا جائے تو وزیر اعظم کے ارد گرد کے پالیسی سازوں نے وزیر اعظم کو ٹاسک فورسز بنانے اور ان سے رپورٹ و سفارشات کی طلبی نئے ادارے قائم کرنے جیسے امور میں الجھا دیا ہے حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری اور سخت اقدامات کے ذریعے سرکاری اداروں اور بیورو کریسی کا قبلہ درست کیاجائے۔ اس مقصد کے لئے اہل افراد کا میرٹ پر تقرر اور ان کو ہدف دے کر اس کے حصول کے لئے پوری طرح سر پرستی کی جو ضرورت ہے۔ موجودہ دور حکومت میں اس کی بجا طور پر توقع ہونے کے باوجود عملدرآمد مایوس کن ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف ایف بی آر کی اصلاح کا فی نہیں بلکہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لئے پست سے پست سطح پر بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے جس میں حکومت کو دعوئوں کے باوجود کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ پاکستان میں ٹیکسوں کے اہداف کے حصول کے لئے ٹیکس نظام میں اصلاحات ٹیکسوں کے پیچیدہ نظام کی جگہ سادہ نظام اور ٹیکس دہندگان کو ہراساں یا ملی بھگت کے بغیر ٹیکس ادائیگی کے مواقع کی فراہمی ہے۔ پاکستان میں ٹیکس نادہندگی کی شرح اور صورتحال کا رونا تو بہت رویا جاتا ہے لیکن مختلف ٹیکسز کو ملا کر پاکستان میں سال میں سینتالیس مرتبہ ٹیکس ادائیگی ہوتی ہے جو مختلف ناموں سے رائج ہیں اور وصولیاں ہو رہی ہیں۔ ایک عام شخص بھی ٹیلی فون بجلی و گیس کے بلوں سے لے کر جنرل سیلز ٹیکس کی صورت میں ٹیکس دیتا ہے یہاں تک کہ بچوں سے بھی ان کے کھانے پینے اور استعمال کی چیزوں پر ٹیکسوں کی وصولی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر ہدف حاصل نہیں ہوتا تو اس ہدف کے مقرر کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ عوام کو اورکتنا نچوڑ سکتے ہیں۔ جب تک زیریں سطح پر ٹیکس کے معاملات کو حقیقت پسندانہ اور ایف بی آر کی کارکردگی کو زیریں کی بجائے اعلیٰ متوسط اور بالائی سطح پر ٹیکسوں کی وصولی کے قابل نہیں بنایا جاتا اس وقت تک مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں