Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

عورت کوعورت رہنے دو اس کا حقیقی مقام دو

عالمی یوم نسواں کے موقع پر کہا گیا کہ ترقی کرنی ہے تو عورت کو آگے بڑھانا ہوگا کوئی یہ نہیں کہتا کہ عورت کو عورت کا مقام دینا ہوگا۔ ہمارے معاشرے میں دیکھا جائے تو بعض جگہوں پر عورت اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ اس کی قدآوری کے سامنے مرد بائونے نظر آتے ہیں۔ مجھے اس خاتون اعلیٰ سرکاری افسر کی وہ بات نہیں بھولی جس کے بارے میں اس کے ایم ایم سی کے مرد ساتھیوں نے ریمارکس دئیے تھے کہ ان کے سامنے ہم آدھے مرد ہیں۔ دیکھا جائے تو شہروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ عورت کا قد مردوں سے بہت اونچا ہوچکا ہے۔ آج کی عورت تعلیم اور اعلیٰ ملازمتوں سے لے کر اوسط ملازمتوں طب غرض ہر ہر شعبے میں مرد پر سبقت لے جا چکی ہے اور سبقت کا یہ سفر تیزی سے جاری ہے۔ شہروں میں کچھ حالات کی بناء پر اور کچھ دیگر وجوہات کے باعث عورت کی خود مختاری اور فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں آنا معاشرتی ضرورت کی صورت میں سامنے ہے۔ اس کے باوجود جو چیخے چلانے کا فیشن ہے ان کو کون جا کر کہے کہ بی بی اب حقوق مردان کی بات کرنے کا وقت ہے۔ چلیں یہ وقت بھی آئے گا اس پر مردوں کے عالمی دن پر بات ہوگی فی الوقت ان خواتین اور ان عورتوں کا رونا روتے ہیں جو قصبات و دیہات میں مردوں کی ہمسری کا تو سوچ بھی نہیں سکتیں مرد ان کو بس انسان اور اشرف المخلوقات ہی سمجھیں تو ان کی مہربانی ہوگی۔ ہمارے دیہات کی عورت بیچاری مردوں کے ذمے کے کام بھی کرتی ہے زنانہ کام تو ان کا ہے ہی۔ شہروں‘ قصبات اور دیہات میں ورکنگ ویمن کا طبقہ بھی کچھ کم مظلوم نہیں۔ کہنے کو تو یہ تعلیم یافتہ و بر سر روزگار و خود مختار عورت ہے لیکن اس کے دکھ دیکھیں تو دوہرے۔ یہ عورت فجر کی اذان سے بھی قبل اٹھتی ہے ناشتہ تیار کرتی ہے بچوں کو سکول بھجواتی ہے بھاگ بھاگ کر ہر کام نمٹا کر اپنے روزگار کے لئے نکلتی ہے۔ گاڑی کی سہولت ہو یا گھر کے نزدیک روزگار ہو تو قدرے بہتر نہ ہو تو دھکے اور جس مشکل طریقے سے وہ دفتر‘ سکول ‘کالج ‘یونیورسٹی ‘ہسپتال غرض اپنے کام کی جگہ پر جس طرح پہنچتی ہے اور جن نظروں و مشکلات کا ان کو سامنا ہوتاہے ان کے لئے اس پہاڑ کو عبور کرنا ہی کافی تھا مگر اب اس نے ڈیوٹی بھی کرنی ہوتی ہے واپس گھر آتے ہوئے ایک اور دریا کو عبور کرنا ہوتا ہے گھر آکر بچوں اور خاوند کو بھی سنبھالنا ہوتا ہے ۔ رات گئے فارغ ہو کر تھکن سے نڈھال چور چور بدن لئے اگلے دن سویرے اٹھنے کا قصد کرکے سو جاتی ہے۔ آج کی جو عورتیں مقتدر ہیں وہ چیختی چلاتی ہیں اور جو مظلوم ہیں وہ آہ بھی نہیں کرتیں۔ بہتر ہے کہ عورت کو عورت رہنے دو مگر اس کو حق دو آرام دو جینے دو اور بس۔عالمی یوم نسواں کے موقع پر اگر خواجہ سرائوں کیلئے بھی ایک عالمی دن مقرر کرنے کی بات ہو تو کیسا رہے گا؟وہ بھی تو اسی خالق کی مخلوق ہیں۔

متعلقہ خبریں