Daily Mashriq


اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے

اس قدر مہنگا سودا شاید آج تک کسی نے بھی نہیں کیا ہوگا۔ ایک کوا اور ایک دو درختوں کے بدلے دو طیاروں کی تباہی‘ ایک پائلٹ کی گرفتاری اور دوسرے کی جھلسی ہوئی لاش۔ جنگی تاریخ میں ہمیشہ یہ سودا یاد رکھا جائے گا بلکہ عین ممکن ہے کہ آنے والے دور میں دنیا کے مختلف ممالک کے فوجی تربیت کے اداروں میں دوران تربیت اسے نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ اب بھارتی جنگ باز فوجی افسران اور بی جے پی کے رہنما لاکھ کوشش بھی کریں ‘ جعلی تصاویر شیئر کرتے ہوئے جتنے بھی بلند بانگ دعوے کریں‘ جتنی چاہیں بڑھکیں ماریں‘ ان کے جھوٹ کا طومار طشت از بام ہوچکا ہے کہ عالمی ادارے ان تمام تصاویر کو جعلی قرار دے رہے ہیں۔ رائیٹر کے بعد اب بی بی سی نے بھی بالا کوٹ حملے کے تصویری شواہد جھوٹ قرار دے دئیے۔ بی بی سی کے مطابق بھارتی وزیر کی شیئر کی گئی تصاویر گرلز ہائی سکول جابا کی عمارت برسوں پرانی ہیں۔ اس حوالے سے زوم ارتھ کے بانی نے جو وضاحت کی ہے اور گوگل سرچ سے جانچا تو تصاویر برسوں پہلے کی نکلیں۔ اگرچہ بھارتی انٹرنیٹ صارفین نے ان تصاویر کو نیا نام دینے کی کوشش بھی کی مگر بزرگوں نے ویسے ہی تو نہیں کہا کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے‘ اس لئے بی بی سی نے بھی اس جھوٹ کا پول کھول کر رکھ دیا۔ اب یہ پرانا دور تو ہے نہیں کہ کوئی بھی دعویٰ کیا جائے اس کو سچ مان لیا جائے گا۔ سیٹلائیٹ نے دنیا کے کونے کونے کو ایک کلک پر لا کر رکھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رائیٹرز کے سوالوں کا بھارتی وزارت خارجہ اور دفاع نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اب صرف ایک کوے اور ایک آدھ درخت یا چند پودوں کے عوض دو طیارے برباد کروانے والوں کا غصہ بام عروج پر ہے اور بھارت میں اقلیتی خصوصاً کشمیریوں اور دلتوں کے خلاف انتہا پسندوں نے کریک ڈائون شروع کر رکھا ہے اور بے چارے کشمیری نوجوان مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھی جہاں نظر آتے ہیں ان پر آتنک واد یعنی دہشت گرد کا ٹائٹل چسپاں کرکے ان کو زد و کوب کرنا عام سی بات ہے۔ اس حوالے سے فیس بک اور ٹویٹر پر ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جو بعد میں دنیا بھر کے میڈیا چینلز پر بھی لوگوں نے دیکھیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی سربراہ مشعل بیچلیٹ نے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ ملک کے اندر تقسیم کرنے والی پالیسی سے معاشی مفادات کو دھچکہ لگ سکتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مشعل بیچلیٹ نے یہ بات جینیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی سالانہ رپورٹ میں کہی۔ اس قسم کی صورتحال پر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا۔ مگر کیا کیاجائے کہ دنیا بھر میں اٹھنے والی آوازوں پر توجہ دینے کی بجائے بھارتی نتہا پسندوں کا پارہ چڑھتا جا رہا ہے۔ ان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے‘ زبانیں آگ اگل رہی ہیں اور وہ ہر جگہ تلواریں سونت کر پاکستانی شاہینوں کے ہاتھ اپنی افواج کی درگت دیکھ کر غصے سے لال پیلے ہونے کے بعد اقلیتوں پر پل پڑنے کا بہانہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ رہی سہی کسر ان عالمی رپورٹوں نے نکال دی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ (خدانخواستہ) چھڑ گئی تو بھارت کے پاس زیادہ سے زیادہ دس روز تک کا گولہ بارود ہے‘ اس صورتحال پر خود بھارت کے اندر سے بھی اب آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں اور گزشتہ روز ایک ٹی وی چینل پر ایک اینکر کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے ایک واقف حال نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی فضائی قوت کسی طور کامیابی حاصل نہیں کرسکتی کیونکہ پاکستان تو مگ 21طیارے چین کے ساتھ مل کر خود بنا رہا ہے جبکہ بھارت کو طیارے خریدنا پڑتے ہیں اور یہ بھارت کی کمزوری کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ گویا اس نے خود بھارتی حکمرانوں کویہ کہہ کر آئینہ دکھا دیا ہے کہ

ہم بھی ہیں کیا عجیب کڑی دھوپ کے تلے

صحرا خرید لائے ہیں برسات بیچ کر

صورتحال کی گمبھیرتا اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اب بی جے پی کی صفوں میں ایک دوسرے پر جوتے چلنے کی بھی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ اتر پردیش میں بی جے پی کے ایک اجلاس کے دوران تکرار پر رہنمائوں نے ایک دوسرے پر جوتے مارے‘ گریبان پکڑ کر گھونسوں کی بارش کرتے رہے۔ اگرچہ مسئلہ کسی پراجیکٹ کے سنگ بنیاد پر نام نقش کروانے کا تھا مگر حقیقت تو یہی ہے کہ بھارتی حکمران جماعت کے رہنماء موجودہ صورتحال سے سخت دل برداشتہ ہیں اور انہیں آنے والے انتخابات میں بھارتی حزب اختلاف کے سخت جملوں کی وجہ سے اپنی ہار صاف نظر آرہی ہے‘ کیونکہ پاکستانی مسلح افواج نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس منصوبے کو خاک میں ملا دیا ہے جس کے بارے میں وزیر اعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ ہمیں اطلاع تھی کہ مودی کوئی نہ کوئی حرکت کرکے ہمیں جوابی اقدام پر مجبور کرے گا‘ کیونکہ یہ اس کی پرانی عادت ہے کہ انتخابات جیتنے کے لئے وہ پاکستان کے خلاف معاندانہ کارروائی کرکے بھارتی عوام کو بی جے پی کی حمایت پر مجبور کرے۔ ظاہر ہے پاکستان کو بھارت کے اندرونی معاملات سے کیا واسطہ مگر مودی کو اس بات کی اجازت کیونکر دی جاسکتی ہے کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے لئے پاکستان کو ملوث کرے۔ اس لئے جو حالات بھارتی حکمرانوں کو درپیش ہیں ان کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی ہے اور اب وہ ایک دوسرے کی جوتوں سے مرمت کرکے اپنا غصہ اتار رہے ہیں

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں

متعلقہ خبریں