Daily Mashriq

جہان نو کی تخلیق، پاکستان

جہان نو کی تخلیق، پاکستان

علامہ محمد اقبالؒنے1930ء میں خطبات الٰہ آباد میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے جس نئے سیٹ اپ کی تجویز پیش کی تھی،وہ اُن کے اس خواب کا ایک حصہ تھا جس کی تعبیر بعد میں ہندوبرہمن کی تنگ نظری کے باعث پاکستان کی صورت میں سامنے آئی۔ علامہ نے پہلی جنگ عظیم کے بعد حالات کودیکھتے ہوئے لیگ آف نیشنز کو چند کفن چوروں کی انجمن کے مترادف قرار دے کر عالم اسلام کو بیداری کا سبق دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت جو حالات فرنگی مقامروں نے پیدا کئے ہیں ، اس کے نتیجے میں بہت جلد دنیا میں بہت بڑی تبدیلیاں بلکہ انقلابات برپا ہونے والے ہیں،

جہان نو ہورہا ہے پیدا وہ عالم پیر مررہا ہے

جسے فرنگی مقامروں نے بنادیا ہے قمارخانہ

اس جہان نو کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر رکھی جانے والی تھی’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا‘‘۔تکمیل دین اُس وقت ہوئی جب دین کی تکمیل، تنفیذ اور اشاعت کے لئے ایک جدا گانہ خطہ(مدینہ منورہ)مل گیا اور ایک آزاد معاشرہ وجود میں آیا۔ ایک آزاد ریاست قائم ہوگئی۔ اس ریاست طیب وپاک کے چودہ سو سال بعد جب پاکستان کے قیام کی صورت جہان نو کی تخلیق ہوئی تو برصغیر کے بہت بڑے عالم دین علامہ شبیر احمدؒ عثمانی نے مدینہ منورہ کی اُس اسلامی ریاست کو’’پہلا پاکستان‘‘ قرار دیتے ہوئے فرمایا’’مشیئت الٰہی کے زبردست ہاتھ نے آخر کار اپنے رسول مقبولؐ کی تاریخی ہجرت سے مدینہ طیبہ میں ایک طرح کا پاکستان قائم کردیا‘‘۔

23مارچ1940ء قرارداد پاکستان لاہور( جو بعد میں قرارداد پاکستان کہلائی)سے لیکر1947ء کی مدت مسلمانان ہند کے سیاسی نصب العین اور آزادوخودمختارریاست کے قیام کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

قیام پاکستان کا نصب العین اور اس کے اہداف اس کے سوا اور کیا تھے کہ مسلمانان ہند کو ایک ایسی ریاست ملے جہاں اللہ اور اُس کے رسولؐ کی شریعت مطہرہ کے مطابق بنی نوع انسان کو انسانیت کا شرف وتکریم ملے۔لیکن ہائے افسوس کے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بعد یہاں بالفصل وہی صورتحال رہی جو اورنگزیب کے دور میں قحط الرجال کی صورت میں پیش آئی تھی اور اُنہوں نے بصد افسوس کہا تھا’’حالا یک کس برائے دیوان بنگالہ بہ حلیہ درستی وکاردانی آراستہ باشدمی خواہم۔ بافتہ نمی شود۔ازنایابی آدم کار آہ آہ‘‘۔ آج ایک شخص جو اصلاح اور صلاحیت کا حامل ہو بنگالی کی دیوانی(حکومت کرنے)کے لئے درکارہے۔ ڈھونڈنے سے نہیں ملتا۔ مردان کار کی نایابی ہائے افسوس ہائے افسوس۔لیکن یہ اللہ کی شان ہے کہ سخت مشکلات کے باوجود پاکستان قائم ودوائم اور رواں دواں ہے اور رہے گا ان شاء اللہ کیونکہ پاکستان کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے مقصد کے لئے کی ہے ۔ یہ معجزہ خداوندی ہے اس لئے اے باشندگان سرزمین پاکستان، استغفار کیجئے اور ساتھ ہی اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ ہمیں پاکستان جیسا خوبصورت اور نعمتوں سے پُر ملک دیا ہے ۔ ستر برسوں میں دو نیم ہوا لیکن پھر بھی سخت جانی ایسی کہ بد ترین دشمنوں کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہے ۔ پچھلے دنوں اللہ تعالیٰ نے جس طرح ایک دفعہ پھر وطن عزیز کی حفاظت اور لاج رکھنے کا ہماری کوتاہیوں اور نالائقیوں کے باوجود ساماں کیا، کیااب بھی عقل کے کورے اور اندھے اس ملک کو تحفہ خداوندی نہیں سمجھتے۔عمران خان جس کے دل میں ایک ولولہ تازہ ہے اور پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کا عزم صمیم رکھتے ہیں اگرچہ ان کی جماعت میں ایسے لوگ کافی ہیں جو آستینوں میں بت رکھتے ہیں لیکن ان کو اس کے باوجود حکم اذان ہے اوروہ دے رہا ہے ۔ امیدواثق ہے کہ ان کی جماعت سے میل کچیل اسی طرح نکلنے والا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی ہے کہ بارش کے پانی پر بہتے وقت اوپر جھاگ اُٹھتا ہے اور بعض چیزوں(سونا چاندی) کو آگ میں ڈالا جاتا ہے تاکہ کوئی دوسری نفع کی چیز حاصل کریں ، اس میں بھی اسی طرح جھاگ ہوتا ہے ۔ سو دونوں مثالوں میں جو جھاگ ہے وہ تو بے فائدہ ہو کر چلا جاتا ہے اور جولوگوں کو نفع دیتا ہے وہ زمین میں ٹھہرجاتا ہے۔اس دنیا میں تمکنت اور باقی رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہی اصول بیان فرمایا ہے کہ فرد اجتماع(قوم) اورریاست اور حکومتیں اُس وقت مضبوط رہتی ہیں جب تک وہ اپنی ذات سے دوسرے لوگوں اور نظام کائنات کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور نفع بخش ثابت ہوتے ہیں ۔ لہٰذا عمران خان کی صف سے بھی وہ لوگ ایک ایک کر کے الگ ہوں گے جن میں نفع رسانی کے بجائے ضرر کا پہلو پایا جاتا ہو۔ فیض الحسن چوہان اس کی تازہ مثال ہے۔ لیکن ابھی اور بھی کئی اس قسم کے لوگ موجود ہیں اور امید ہے کہ بہت جلد وہ بھی اپنی راہ لیں گے اور پاکستان بہت جلد مضبوط معیشت کے لئے قانون کی حکمرانی کی شاہراہ پر ہوگامستقبل پاکستان کا ہے ان شاء اللہ ۔

متعلقہ خبریں