Daily Mashriq

ایرانی تیل کی خریداری پر امریکی پابندی، بھارت کی مزید رعایت کے حصول کی کوششیں

ایرانی تیل کی خریداری پر امریکی پابندی، بھارت کی مزید رعایت کے حصول کی کوششیں

نئی دہلی: بھارت، ایران سے 3 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتا ہے جس کے لیے امریکا کے ساتھ پابندیوں سے رعایت کی مدت میں توسیع کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

بین الاقومی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ بھارت نے ایرانی تیل کی خریداری میں کمی ضرور کی ہے لیکن پابندیوں سے رعایت کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔

یہ مذاکرات، حال ہی میں واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان مسئلہ بن کر سامنے آئے اور امریکا نے بھارت کا ترجیحی درجہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے تـحت امریکا کو جانے والی بھارت کی 5 ارب 60 کروڑ ڈالر سے زائد کی برآمدات پر ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کو جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس (جی ایس پی) کا بہت زیادہ فائدہ پہنچتا تھا جو 1970 میں متعارف کروایا گیا تھا اور اب اس کی شمولیت ختم کرنے کا فیصلہ واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک بھارت کے خلاف سب سے سخت اقدام ہے۔

دوسری جانب نئی دہلی کی جانب سے کوششیں جاری ہیں کہ امریکا اسے 12 لاکھ 50 ہزار ٹن ماہانہ کی موجودہ مقدار پر ہی ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دے۔

خیال رہے کہ امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور دیگر 6 ممالک کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے کو ختم کرنے کے بعد گزشتہ برس نومبر میں ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کردیں تھیں۔

تاہم امریکا نے ایرانی تیل کے بڑے خریداروں، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، ترکی، اٹلی اور یونان کو پابندیوں سے رعایت دیتے ہوئے محدود پیمانے پر ایران سے تیل خریدنے کی اجازت دی تھی لیکن امریکا کی جانب سے ان ممالک پر تیل کی خریداری ختم کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

یہ بات مدِ نظر رہے کہ اس پابندی سے رعایت کی مدت 4 مئی کو اختتام پذیر ہوگی۔

دوسری جانب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے شعبہ توانائی کے ترجمان ونسیٹ کیمپوس نے بھارت کی جانب سے کی گئی اس درخواست کی تصدیق نہیں کی لیکن کہا کہ ایرانی تیل کے 8 صارفین کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’ہم اس معاملے پر بھارت سمیت ہر ملک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے‘۔

اس حوالے سے جنوبی کوریا کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ رواں ہفتے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار جنوبی کوریا کا دورہ کررہے ہیں، واضح رہے کہ جنوبی کوریا ایشیا میں ایرانی تیل کا چوتھا بڑا خریدار ہے۔

اس ضمن میں امریکی نائب معاون سیکریٹری برائے انسدادِ مالی خطرات و پابندی، ڈیوڈ پےمین نے جنوبی کوریا کے دفترِ خارجہ میں ماہرِ مشرقِ وسطیٰ اور افریقی امور ہونگ جن ووک سے چند روز قبل ملاقات کی تھی

متعلقہ خبریں