حکومت کے آخری دن، فاٹا اصلاحات کا نفاذ ناممکن؟

حکومت کے آخری دن، فاٹا اصلاحات کا نفاذ ناممکن؟

فاٹا اصلاحات کے معاملے پر وزیراعظم کی صدارت میں ہونیوالا پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس کے بے نتیجہ اختتام کے بعد موجودہ دور حکومت میں فاٹا اصلاحات کی عملی شکل دیکھنے کا اب کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اس معاملے پر بار بار کی مشاورت واجلاس کا جو نتیجہ اب تک برآمد ہوتا رہا ہے اس کے پیش نظر طلب کردہ اجلاس میں سے بھی کسی پیشرفت کی اُمید نہیںکی جاسکتی بہرحال وزیراعظم نے ایک اور اجلاس ضرور طلب کر لیا ہے جس میں اس معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق فاٹا اصلاحات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات تاحال برقرار ہیں۔ گزشتہ روز کے اجلاس میں نگران حکومت کے قائم ہونے سے پہلے فاٹا اصلاحات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے پر تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ اجلاس میں فاٹا اصلاحات پر جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی حسب سابق اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے کیونکہ اکرم درانی نے انکشاف کیا کہ حکومت نے جے یو آئی (ف) کیساتھ پانچ سال تک فاٹا کی حیثیت تبدیل نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ حکومت اجلاس میں مکمل طور پر بے بس دکھائی دی۔ ثابت ہو گیا مولانا فضل الرحمان اور محمود اچکزئی فاٹا اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اجلاس میں متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) بھی واضح طور پر تقسیم نظر آئی۔ جماعت اسلامی نے فاٹا اصلاحات کی حمایت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکرم درانی نے کہا کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں، فاٹا کا انضمام کرنا ہے تو فاٹا کے عوام کی رائے ضرور لیں۔ ایم ایم اے میں پہلے طے کر لیا تھا کہ فاٹا پر موقف اپنا اپنا ہوگا، اتنی جلد بازی اسلئے کی جا رہی ہے کہ پیچھے سے دباؤ ہے۔ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں، اس ضمن میں حکومت کے دو اتحادی جماعتوں کا موقف نہایت سخت اور ناقابل تبدیل رہا ہے جبکہ تحریک انصاف حزب اختلاف کی سب سے متنازعہ جماعت ہونے کے باوجود فاٹا انضمام کے معاملے پر حکومت کی ہم خیال ہے۔ اس معاملے کی سنجید گی کا اس امر سے اندازہ لگایا جانا چاہئے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی ایک اتحاد کے پلیٹ فارم پر ہونے کے باوجود اس ضمن میں مختلف الخیالی اور الگ رائے رکھنے کی گنجائش رکھنے کا پہلے ہی طے کر چکے ہیں۔ جے یو آئی (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے اس موقف کی گنجائش ضرور موجود ہے کہ انضمام یا علیحدہ صوبہ بنانے سے قبل قبائلی عوام سے رائے لی جائے اور ان کی اکثریت کے فیصلے کی روشنی میں فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ ہونا چاہئے مگر سوال یہ ہے کہ ایسا ہوگا کب؟ یہ عمل کب شروع ہوگا، قبائلی عوام کو اصلاحات کے نام پر ایک عرصے سے بہلایا جاتا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو قبائلی اصلاحات کے کئی مواقع آئے اور ضائع گئے۔2006ء صاحبزادہ امتیاز احمد رپورٹ کو فاٹا میں انتظامی اصلاحات میں پہلی جامع کوشش قرار دیا جاتا ہے لیکن آئین سے متعلق ترامیم پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔ 2008ء جسٹس (ر) میاں محمد اجمل رپورٹ میں برطانوی راج سے نافذ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن میں ترامیم تجویز کی گئیں لیکن ایف سی آر 2011 میں سب کو شامل نہ کیا گیا۔ 2011 میں صدر آصف علی زرداری نے سیاسی جماعتوں کو سرگرمیوں کی اجازت دی اور لوکل باڈیز ریگولیشن بھی تیار کیا گیا لیکن سیکورٹی صورتحال کی وجہ سے ان پر آج تک عمل درآمد نہ ہوسکا۔ 2015ء میں گورنر خیبر پختونخوا نے فاٹا ریفارمز کمیشن تشکیل دیا جس کی سفارشات پر بھی جزوی عمل درآمد ممکن ہو سکا۔ اب بالآخر 2018ء میں ایک اُمید ہو چلی تھی مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ موقع بھی ضائع ہی گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی عوام جو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں دے کر اور نہایت مشکل حالات سے گزر کر اب جا کر آنکھوں میں اُمید کا دیا جلائے اپنے علاقوں کو واپس جا چکے ہیں، ستم ہائے زمانہ نے اب ان کو اس قدر سرد وگرم چشیدہ بنا دیا ہے کہ اب وہ پہلے کی طرح سادہ لوح قبائلی نہیں بلکہ تجربات گردوں سے آشنا ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان نسل جہاں تعلیم، شعور وآگہی سے روشناس ہو چکی ہے وہاں بیروزگاری اور احساس محرومی کے باعث ان میں انتہا پسندانہ جذبات بھی دکھائی دیتے ہیں اور اس کا اظہار بھی سامنے آرہا ہے جس کا حل ان کے سر پر دست شفقت رکھنا اور ان کو باور کرانا ہے کہ انہیں اپنے اسلاف کی طرح زیادہ عرصہ اب اس فرسودہ نظام اور پولیٹیکل حکام کے مظالم کا شکار نہیں ہونا پڑے گا۔ فاٹا کا انضمام عوام کی مشاورت کرنے کی تجویز میں بھلائی کا پہلو ضرور ہے لیکن اس کو ممکن بنانے میں تاخیر در تاخیر اور دکھاوے کے اجلاسوں اور اقدامات، قبائلی بھائیوں کیساتھ مذاق سے کم نہیں۔ طریقہ کار جو بھی اختیار کیا جائے فاٹا کے عوام اب جلد سے جلد فرنگی نظام سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، اگر اس بنیادی نکتے پر کوئی اختلاف نہیں تو پھر طریقہ کار اختیار کرنے میں اس قدر تاخیر کی کیا ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو بیک وقت متعارف کرانے کی بجائے پہلے عدالتی مشینری کی فعالیت کا اہتمام کیا جائے، اس کے بعد ہی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشنز کا ٹائم فریم ضروری اقدامات کی تکمیل کے بعد دیا جائے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں میں مشاورت اور اتفاق رائے ہی کافی نہ ہوگا بلکہ قبائلی عوام اور ان کے نمائندوں کی تجاویز کو بھی سمونے کی ضرورت پڑے گی جس کیلئے وقت درکار ہوگا۔ فاٹا کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے پولیٹیکل انتظامیہ کی جگہ سول انتظامیہ کو وجود میں لانا بھی بتدریج اور مرحلہ وار ہی ممکن ہوگا۔ اس وقت جبکہ قبائلی علاقہ جات میں قیام امن کے بعد استحکام امن اور بنیادی اساس کی بحالی کا مرحلہ ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے اس پر پوری توجہ دے کر اس کو یقینی بنایا جائے۔ فاٹا کے عوام کے بنیادی مسائل اور خاص طور پر کاروبار کی بحالی کو اولیت دی جائے تاکہ نظام کی تبدیلی روبہ عمل لایا جائے تو فاٹا کے عوام کو اس نظام میں ڈھلنے میں مشکلات کی بجائے راحت کا احساس ہوگا۔ فاٹا اصلاحات کا بنیادی مقصد ہی عوام کی فلاح اور مسائل کا خاتمہ ہونا چاہئے اسے جلد سے جلد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

اداریہ