زندہ امین پروگرام میں ناانصافی

زندہ امین پروگرام میں ناانصافی

آرٹسٹ فنانشل سپورٹ پروگرام کے تحت غیر مستحق فنکاروں میں رقم کی تقسیم پر پشاور کے فنکاروں اور سماجی کارکنوں کے مظاہرے کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔ مظاہرین کے مطابق زندہ امین پروگرام کے تحت فنکاروں میں اعزازیہ کے تقسیم میں اقرباء پروری اور کرپشن کی گئی یہاں تک کہ کینسر اور دیگر موذی امراض میں مبتلا فنکار بھی حکومتی امداد سے محروم رکھے گئے ہیں۔ مظاہرین نے نظامت ثقافت کیخلاف بھی نعرہ بازی کر کے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ آرٹسٹ فنانشل سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین کو وظائف دینے کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی میں ایسے افراد شامل ہیں جن سے ناانصافی کی توقع نہیں کی جاسکتی لیکن دوسری جانب ان کے فیصلوں پر اعتراض اور احتجاج کرنے والوں کی شکایات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جن تحفظات کا اظہار کیا جاتا ہے اور خاص طور پر کرسی معذوران پر بیٹھے شخص کی مظاہرے میں شرکت اور بیمار افراد کو نظر انداز کرنے کا الزام اس طرح کا معاملہ نہیں کہ اسے نظر انداز کیا جا سکے۔ ہمارے تئیں اس امر کو پوری طرح ذہن نشین کرانے کی ضرورت ہے کہ اعزازیہ دینے کا طریقہ کار اور ترجیحات کیا ہیں اور کن کن افراد کو کن کن بنیادوں پر وظائف دیئے جا سکتے ہیں۔ غلط فہمی کے ازالے اور تنقید سے بچنے کیلئے بہتر ہوگا کہ جن جن افراد کو اعزازیہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ان کے کوائف اور میرٹ سے آگاہی دی جائے۔ ایک غیر جانبدار کمیٹی سے اس فہرست کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے تاکہ اگر کہیں اقرباء پروری کا مظاہرہ کیا گیا ہو تو اس پر نظرثانی کی جائے۔ اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے کہ نظامت ثقافت کے حکام کس حد تک کمیٹی کے فیصلے پر اثر انداز ہوئے اور ان کے ایماء پر کتنے افراد کو شامل فہرست کیا گیا۔ اس امکان کا بھی غیر جانبدارانہ طور پر جائزہ لینا ضروری ہے کہ علاوہ ازیں حکومتی مداخلت کتنی تھی، ہر بار کمیٹی کے فیصلے پر اعتراضات اور احتجاج سے اعزازیہ دینے کی شفافیت پر سوال اُٹھتا ہے اور حکومت کی ایک اچھی کاوش تضادات اور اعتراضات کی نذر ہوجاتی ہے جس سے اعزازیہ دینے کا مقصد متاثر ہوتا ہے۔
عملدرآمد کی زحمت بھی تو کیجئے
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے دفعہ 144 کے تحت عوامی مقامات اور نجی عمارتوں پر پوسٹر چسپاں کرنے پر پابندی عائد کرنے کا اقدام احسن ہے لیکن جب تک اس پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کے اقدامات نہیں کئے جاتے ڈپٹی کمشنر کے اس حکمنامے کا استہزاء جاری رہے گا۔ صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے بڑے شہروں اور قصبہ جات کی دیواروں اور سڑکوں کے کناروں پر مختلف قسم کے پوسٹر آویزاں دیکھے جاسکتے ہیں اور خاص طور پر دیواروں پر جو عجیب وغریب تحریریں نظر آتی ہیں اس سے ہماری ذہنیت اور متعلقہ حکام کی قانون پر عملدرآمد میں بری طرح ناکامی دونوں عیاں ہیں۔ شہر پشاور کے حاکم نے پہلی مرتبہ پابندی نہیں لگائی، پابندی لگاتے وقت اگر اس کی عملدرآمد پر بھی کبھی غور کیا جائے تو آج شہر کی دیواریں اس قدر گندی نہ ہوتیں۔ اب جبکہ انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں تو خاص طور پر اس امر پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے کہ مجاز حکام کی اجازت اور منظوری کے بغیر مقررہ عوامی مقامات پر پوسٹرز اور بینرز لگائے نہ جاسکیں، خاص طور پر جس جماعت کے پرچم پر کلمہ طیبہ تحریر ہے اس جماعت کو خاص طور پر خوف خدا کرنے کی ضرورت ہے کہ ان کے جھنڈے کی بے حرمتی نہ ہو۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے لگائی گئی پابندی پر عملدرآمد اس قدر مشکل امر بھی نہیں۔ حکمنامے کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے دیئے گئے پتے اور فون نمبروں سے باآسانی ان کیخلاف کارروائی ممکن ہے مگر اس طرف کبھی توجہ ہی نہیں دی جاتی۔ متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ وہ صرف حکمنامے کے اجراء کو کافی نہ سمجھیں بلکہ اس فعل بد کی روک تھام کیلئے انتظامی مشینری کو حرکت دیں اور اختیارات کو بروئے کار لا کر اس امر کا عملی احساس دلایا جائے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سنجیدہ کارروائی یقینی ہے۔

اداریہ