Daily Mashriq

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

ایک اہم ٹی وی چینل کے میزبان حامد میر کیساتھ ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین نے ایک بار پھر 2013ء کے الیکشن کے حوالے سے نئے الزامات لگا کر جو نیا پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی ہے اس نے ملکی سیاسی صورتحال پر ایک بار پھر خصوصاً انتخابی سیاست پر تشکیک کے سائے پھیلا دیئے ہیں، عجیب بات یہ ہے کہ موصوف اس سے پہلے محولہ انتخابات کے حوالے سے جہاں سابق چیف جسٹس افتخارچوہدری پر الزامات لگاتے رہے ہیں وہیں اُس دور کے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ، سینئر صحافی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے موجودہ سربراہ نجم سیٹھی پر بھی دھاندلی میں شریک ہو کر 35پنکچر جیسا الزام لگا چکے ہیں جبکہ انتخابات کے حوالے سے انکوائری کمیشن کیساتھ عدم تعاون کرتے ہوئے مبینہ الزامات کے بارے میں کوئی ثبوت فراہم کرنے میں دست تعاون بھی نہیں بڑھایا اور انکوائری کمیشن نے جب الزامات کو غلط قرار دیا تب سے وہ اب تک چپ رہے اور نجم سیٹھی کی جانب سے ان کے الزامات کے حوالے سے جو دعویٰ عدالت میں دائر کیا گیا اس میں وہ آج تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور اب جبکہ ایک بار پھر موجودہ حکومتوں کی آئینی مدت ختم ہونے کو ہے اور ملک میں نئے عام انتخابات کے انعقاد میں بہت کم عرصہ رہ گیا ہے، موصوف نے ایک نیا پنڈورا باکس کھولتے ہوئے اپنے انٹر ویو میں فوج پر براہ راست الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2013ء کے الیکشن میں فوج نے نواز شریف کی مدد کی تھی۔ جس پر بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا نے (جن پر مبینہ الزام لگایا گیا ہے) اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس حوالے سے خصوصی جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر الزام ثابت نہ ہو تو عمران خان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے (سزا کی نوعیت اخباری بیان میں موجود ہے)۔ انہوں نے کہا کہ فوج بحیثیت ایک ادارہ کام کرتی ہے، ایک بریگیڈیئر اپنے لئے کچھ نہیں کر سکتا، فوج ایسا ادارہ نہیں جہاں ایک بریگیڈیئر اُٹھ کر ملک میں ہونیوالے نتائج کا رخ موڑ دے، 2013ء کے انتخابات میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا، اس وقت کے آرمی چیف نے سختی سے منع کیا تھا کہ سیاسی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی کمیشن کی جانب سے دھاندلی کے الزامات پر تحقیقات کے باوجود سیاسی جماعت کے سربراہ کا الزام لگانا قطعی بے بنیاد ہے۔۔ دہلوی نے کہا تھا
جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا
یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے اکثر سیاسی رہنماء بعض اوقات غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مختلف ناموں سے ایسے اشارے کرتے ہیں جن کا مقصد کچھ اہم اداروں پر غیر ضروری الزامات لگا کر انہیں بدنام کرنا ہوتا ہے، اس ضمن میں جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ان میں فرشتوں کا ہاتھ، نامعلوم قوتوں کی کارفرمائی، غیر مرئی قوتوں کی کارستانی وغیرہ وغیرہ شامل ہیں جبکہ حال ہی میں نواز شریف نے بھی خلائی مخلوق جیسے الفاظ استعمال کر کے اشاروں، کنایوں میں الزام تراشی کی ہے، تاہم جہاں تک محولہ انٹرویو کا تعلق ہے اس میں تو عمران خان نے براہ راست فوج پر الزام تراشی کر کے معاملہ ہی صاف کر دیا ہے حالانکہ موصوف کے اس بیان پر متعلقہ اور مبینہ شخص نے تو جواب دیا ہی ہے جبکہ مسلح افواج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ نے بھی ایک قومی اخبار کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کو غیر ذمہ دارانہ اور موجودہ حالات میں افواج پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عمران خان کے پاس ثبوت ہیں تو سامنے لائیں، خواہ مخواہ الزام تراشی سے فوج جیسے حساس ادارے کیساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔
مرزا اسلم بیگ کے بیان سے بریگیڈیئر (ر) مظفر رانجھا کے اس موقف کی تصدیق ہوتی ہے کہ جنرل کیانی نے سختی سے انتخابات میں مداخلت سے منع کیا تھا۔ ادھر ملک کے ایک انتہائی سینئر صحافی اور تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے اس حوالے سے اتوار کے روز چھپنے والے اپنے کالم میں جو تبصرہ کیا ہے وہ بھی بڑا اہم ہے، انہوں نے لکھا ہے کہ ’’عمران خان کا الزام ہے کہ 2013ء کا انتخاب نواز شریف فوج کی مدد سے جیتے تھے، ایک بریگیڈیئر نے یہ سارا آپریشن پلان کیا تھا، فوج کے پہرے میں عدالتی آر اوز (ریٹرننگ آفیسرز) نے ٹھکا ٹھک مہریں لگائی تھیں، حالانکہ ان انتخابات کے حوالے سے دھاندلی کی شکایات کا جائزہ لینے والے عدالتی کمیشن کے سامنے کوئی شواہد پیش نہیں کئے گئے، نہ ہی اس طرح کے کسی الزام کی تصدیق کی، اس کے باوجود فوج اور عدالت دونوں نشانے پر ہیں۔ نواز شریف کو آنے والے انتخابات میں خلائی مخلوق نظر آرہی ہے، ان کا پُرزور اصرار ہے کہ ان کا مقابلہ عمران خان سے ہے نہ زرداری سے، خلائی مخلوق ان کے مقابل ہے‘‘۔ آگے چل کر مجیب الرحمن شامی لکھتے ہیں ’’یہ گزارش بے جا نہ ہوگی کہ ایسے بیانات اور تبصرہ جات کا سنجیدگی سے نوٹس لیاجائے، جن پر اُنگلیاں اُٹھائی جارہی ہیں، الزامات کی چھان بین اور تحقیق وتفتیش کے بغیر گدلے پن کو دور نہیں کیا جا سکے گا۔ عدالتی اور دفاعی اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنے قومی کردار کی حفاظت کریں کہ انہیں فریق بنانے کی کوشش (خواہ کسی کی طرف سے ہو) اجتماعی مفاد میں نہیں، خاموش تماشائی بن کر بیٹھے رہنے سے تماشا لگانے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی‘‘۔ ان سنجیدہ آراء کی روشنی میں خود سیاسی رہنماؤں پر بھی لازم آتا ہے کہ وہ اپنے لہجوں پر بھی غور کریں اور بلا سوچے سمجھے الزام تراشی کر کے قومی اداروں کو بدنام کرنے سے باز رہیں، کیونکہ ملک وقوم کی دشمن بیرونی قوتیں ویسے بھی ہمارے درپے ہیں اور ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

اداریہ