Daily Mashriq

نیو اسلام آباد ایئر پورٹ

نیو اسلام آباد ایئر پورٹ

ایک طویل انتظار کے بعد بالآخر نئے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا افتتاح کر دیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے نئی ایئر پورٹ کا افتتاح کیا جس کے بعد فلائٹ آپریشن بھی شروع کر د یا گیا ہے۔ نئے ایئر پورٹ پر اُترتے ہی اس کی وسعت اور خوبصورتی دیکھ کر ایک خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ جہاں ایک طرف خوبصورت عمارت آپ کا دل موہ لیتی ہے وہیں پر دوسری جانب مارگلہ کے سرسبز پہاڑ دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں۔ نئے ایئر پورٹ کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ آخرکار دارالحکومت اسلام آباد کو اس کے نام اور خوبصورتی کے مطابق ایئر پورٹ مل گیا ہے۔ اس ایئر پورٹ کی تعمیر سے پہلے ایک طویل عرصے تک ہم چکلالہ ایئر پورٹ کو اسلام آباد ایئر پورٹ کہنے پر مجبور رہے اور یہ ایئر پورٹ دنیا کے بدترین ایئر پورٹس میں شمار ہوتا تھا۔ دنیا کے خراب ترین ایئر پورٹس میں نام آنے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی خواب غفلت سے جاگی اوردارالحکومت کو اس کے شایان شان ایئر پورٹ دینے کی ٹھان لی۔ یہاں پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کریڈٹ ضرور دیا جانا چاہئے کیونکہ اس اتھارٹی نے دیر سے سہی لیکن بہترین کام کیا ہے۔ دوسری جانب اگر ہم چکلالہ ایئر پورٹ کی بات کریں تو اس ایئر پورٹ کے اچھے یا خراب ہونے سے قطع نظر چکلالہ ایئر پورٹ کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور اب یہ خیال آتا ہے کہ نئے ایئر پورٹ کی تعمیر کے بعد جب ساری فلائٹس نئے ایئر پورٹ کی طرف موڑ دی گئی ہیں تو چکلالہ ایئر پورٹ کی کیا صورتحال ہوگی۔ ہم بس یہ اُمید کرسکتے ہیں کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی چکلالہ ایئر پورٹ کی زمین کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تبدیل نہیںکر دے گی جیسا کہ اس کے اردگرد دیگر زمینوں کیساتھ کیا گیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ چکلالہ ایئر پورٹ کی زمین شہر کے وسط میں ہونے کی وجہ سے انتہائی مہنگی ہے اور بہت سے پراپرٹی ٹائیکون اس پر اپنی نظریں جمائے بیٹھے ہوں گے۔ اب دوبارہ نئے ایئرپورٹ کی بات کرتے ہیں، جس کے نام پر ابھی تک اتفاق نہیں ہو پایا ہے، جہاں ایک طرف کچھ حلقے نئے ایئرپورٹ کا نام پرانے ایئرپورٹ کی طرح بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھنے کی تجویز دے رہے ہیں وہیں پر اس تجویز سے اختلاف بھی کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ نئے ایئر پورٹ کے نام کیلئے لیاقت علی خان ایئر پورٹ اور فاطمہ جناح ایئرپورٹ کی تجویز بھی پیش کررہے ہیں۔ اگر اسلام آباد کے ایئر پورٹ کا نام فاطمہ جناح ایئر پورٹ رکھا جاتا ہے تو پاکستان میں جناح ایئرپورٹ کے نام سے دو ایئر پورٹس ہو جائیں گے، ایک کراچی میں اور ایک اسلام آباد میں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ نئے ایئر پورٹ کا نام عبدالستار ایدھی کے نام رکھنے کی تجویز بھی پیش کر رہے ہیں۔ ان سب تجاویز کی وجہ سے وزیراعظم نئے ایئر پورٹ کے نا م کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پا رہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اپنے دور حکومت کے آخری دنوں میں وہ کوئی متنازعہ فیصلہ نہیں کرنا چاہتے۔ اس مسئلے کا حل آن لائن پول کے ذریعے باآسانی نکالا جاسکتا ہے۔ اسلام آباد ایئرپورٹ کا افتتاح انتہائی جلد بازی میں کیا گیا ہے کیونکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نئے ایئرپورٹ کی افتتاحی تختی پر اپنا نام دیکھنا چاہتے تھے۔ جلد بازی کی وجہ سے نئے ایئر پورٹ کے بہت سے کام نامکمل ہیں اور بہت سی خامیاں موجود ہیں لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی پر تنقید کرنے سے پہلے ہمیں تھوڑا وقت ضرور دینا چاہئے کیونکہ اتنے بڑے آپریشن کو سنبھالنا بھی ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوڑے دان بھرے ہوئے ہیں لیکن ان کو خالی کرنے اور صفائی کرنے والا عملہ موجود نہیں ہے، راہداریاں گرد سے اٹی پڑی ہیں اور بہت سی جگہوں پر پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب سے بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے باتھ رومز کی طرح نئے ایئر پورٹس کے باتھ رومز بھی صفائی نہ ہونے کے باعث تیزی سے خراب ہو رہے ہیں اور لوگ واش بیسن میں پاؤں دھو رہے ہیں حالانکہ ایئر پور ٹ کی مسجد کیساتھ ایک باقاعدہ وضو خانہ بھی بنا ہوا ہے۔نئے ایئر پورٹ کی تعمیر میں شیشے کا بہت استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وسعت اور کشادگی کا احساس ہوتا ہے۔ کراچی ایئر پورٹ پر بھی شروع کے دنوں میں ایسی کشادگی کا احسا س ہوتا تھا لیکن بہت جلد ہی اس کشادگی کو ڈبوں میں بند کر دیا گیا تھا۔ سیکورٹی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو اس وقت ایئر پورٹ سیکورٹی فورس ایئرپورٹ کے مختلف دروازوں کو سائیکل لاک سے بند کرتی نظر آتی ہے۔ ایئر پورٹ کی تعمیر کی منصوبہ بندی میں چند خامیاں کھل کر سامنے آئی ہیں جیسا کہ ارائیول لاؤنج میں صرف چار واش رومز کی موجودگی جوکہ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے بالکل ناکافی ہے۔ ان مسائل پر جلد ازجلد قابو پانا نئے ایئر پورٹ کی کامیابی کیلئے بے حد ضروری ہے۔ ایئر پورٹ کی عمارت میں ایئرکنڈیشنگ کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی جو کہ ماحول دشمن ہے۔ اسی طرح ایئر پورٹ پر مقامی ثقافت کا کوئی رنگ بھی نظر نہیں آتا، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان اور اسلام آباد کی ثقافت کو اُجاگر کرنے کیلئے دیواروں پر پینٹنگز اور دیگر تصاویر لگائی جاتیں لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔ اُمید ہے کہ آنے والیدنوں میں ایئر پورٹ کی تعمیر اور روزہ مرہ ورکنگ میں پائی جانیوالی خامیوں پر احسن طریقے سے قابو پا لیا جائے گا اور اسلام آباد کا نیا ایئر پورٹ بین الاقوامی معیار کا ایئرپورٹ بن جائیگا۔
(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون، ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ