Daily Mashriq


پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

جب سے سلسلہ وار کالم لکھتے ہوئے قارئین سے ایس ایم ایس کا رابطہ جڑ گیا ہے ایک بات شدت سے محسوس ہونے لگی ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر فرد ظلم وناانصافی سے سخت نالاں ہے، اسے شدت کیساتھ معاشرتی ومعاشی ناانصافیوں کا دکھ ہے، کوئی ایسا فورم نہیں جہاں رجوع کرکے لوگ فوری داد رسی حاصل کرسکیں۔ اپنے نوجوانوں کو اس تکلیف میں دیکھ کر بے بسی کی ایک ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ ایک لمحہ آسمان کو تکتی ہوں۔ اتفاق دیکھئے ابھی میں یہ سطور لکھ ہی رہی تھی کہ خیبر ایجنسی سے ایم ریاض کا ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں انہوں نے خیبر پختونخوا کی حکومت پر سب سے زیادہ توجہ بے روزگاری میں کمی لانے کی کوششوں پر دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کم آمدنی اور بے روزگاری کے باعث باصلاحیت نوجوان وہ حاصل نہیں کرپاتے جو ان کا خواب ہوتا ہے۔ کئی لوگ غربت اور بیروزگاری کے باعث خودکشیاں کرجاتے ہیں اور اپنے پورے خاندان کو اپنے ہاتھوں اُجاڑ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنی مرضی کے منصوبے بنانے کی بجائے خلق خدا کے سنگین مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہئے۔ ایم ریاض اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہیں، جس مایوسی کا اظہار ان کے الفاظ میں ملتا ہے اسے من حیث المجموع نوجوانوں کی نمائندگی قرار دیا جاسکتا ہے۔ میرے پاس نوجوانوں کو ہمت دلانے کے سوا کچھ نہیں ان کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ بس جدوجہد اور بہتر سے بہتر کوششوں کی ضرورت ہے۔ ہر کسی کو پورا جہاں نہیں ملتا کسی کو زمین نہیں تو کسی کو آسماں نہیں ملتا، پر رزق ضرور ملتا ہے۔ یہ اس مالک کی مرضی کہ وہ کس کو کس ذریعے سے روزی دیتا ہے۔ اب تو یہ ایک روایت ہی بن گئی ہے کہ کالم میں نوجوانوں کے مسائل کیساتھ ساتھ این ٹی ایس اور مقابلے کے امتحانات بارے ان کے شکوک وشبہات اور تجربات کا بھی تذکرہ ہو۔ وہی شکایتیں اور حکایتیں ہیں۔ شکایات اور معاملات تو نوشتہ دیوار ہیں لیکن دیواروں سے سر ٹکرائیں آخر کب تک؟ مجھے یقین ہے کہ یہ دن ایسے نہیں رہیں گے دھیرے دھیرے آہستگی وسست روی کیساتھ ہی سہی مگر یہ اندھیرے ضرور چھٹ جائیں گے اور میرٹ کا بول بالا ہوگا۔ شب کی تاریکی کتنی ہی طویل، شدید اور گہری ہو اُجالے کی ایک کرن ہی اسے پھوڑ دینے کیلئے کافی ہوتی ہے۔ سو پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ۔

شاہ حسین درانی ورسک روڈ پشاور سے سکولوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں ٹریفک کی مشکلات سے نالاں ہیں۔ ان کی اس بات سے کسی طوراختلاف کی گنجائش نہیں کہ سکول مالکان ماہانہ لاکھوں کروڑوں کماتے ہیں مگر ان کو سکول آنے والی گاڑیوں کی پارکنگ کی ذرا بھی پرواہ نہیں۔ ساری گاڑیاں سڑک کنارے لگ جاتی ہیں اور راستے گھنٹوں بند رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت اور ٹریفک پولیس کے حکام کو اس مسئلے کے حل میں مزید تساہل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے۔ بعید نہیں کہ تنگ آتے ہوئے مکین عدالت سے رجوع کریں۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین انجمن کے صدر یونس مروت باربار تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ اُٹھانے پر زور دیتے رہتے ہیں، معلوم نہیں ان بے چاروں کی تنخواہوں کا مسئلہ اس قدر کیوں سنگین بنا دیا گیا ہے کہ حکومت اس کا کوئی حل نہیں نکال پاتی یا بے حسی کی روایت اس کا سبب ہے۔ ملازمین کی مستقلی کا بھی مطالبہ ہے۔ ورکرز کے بچوں کی سکول وردی اور کتابوں کیلئے فنڈز کی بھی ضرورت ہے۔ صنعتی کارکنان کو تنخواہیں نہ ملے اور بچوں کو قانون کے مطابق حکومت سہولیات نہ دے اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا۔

لاچی کوہاٹ سے پی ایس ٹیچر فرمان نے ایک بہت اچھا سوال پوچھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی سکول سے غیرحاضری پر اس کی سرزنش کیوں نہیں کرتے اور سکول کے کاموں کو بچوں سے یاد کروانے پر کیوں توجہ نہیں دیتے۔ واقعی آج کل کے ماں باپ بچوں سے لاپرواہی برت رہے ہیں۔ جب سے اینڈرائیڈ موبائلز آگئے ہیں شہروں میں تو صورتحال ہی ابتر ہے۔ دیہات اور قصبوں میں والدین کی اور مجبوریاں ہوں گی مگر جتنی بھی مجبوریاں ہوں اولاد پر نظر، ان کی تربیت اور تعلیم کیلئے وقت نہ نکالنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ اساتذہ کو بھی اپنا فرض ادا کرنا چاہئے اور سکولوں میں بچوں پر خاص توجہ دینے کی ذمہ داری میں کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہئے۔

گورنمنٹ اختر نواز خان شہید ڈگری کالج ہری پورکے لیکچرار جمیل شیراز نے ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ پشاور کے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات میں منظور نظر افراد کے پرائیویٹ کالجوں میں جان بوجھ کر ڈیوٹی لگانے کی شکایت کی ہے جس کے مقاصد کو سمجھنا مشکل نہیں۔ شنید تھی کہ بورڈ میں قرعہ اندازی کے ذریعے عملے کی تقرری عمل میں آتی ہے جس صورت کی نشاندہی کی گئی ہے اگر واقعی ایسا ہے تو یہ بڑا ہی افسوسناک عمل ہے۔

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں کی ایک نرس کے مطابق جتنا فنڈ اس ہسپتال کو ملتاہے اس فنڈ سے ایک اور ہسپتال کے اخراجات بھی پورے کئے جاسکتے ہیں مگر یہاں ایک ایم ایس آتا ہے دوسرا جاتا ہے، ہسپتال میں مریضوں کو علاج معالجے اور ادویات کی فراہمی کا معقول بندوبست کرنے پر کوئی توجہ دینے والا نہیں۔

کالم کی تنگ دامنی آڑے آجاتی ہے وگرنہ بے شمار میسجز آئے ہوتے ہیں، جن میں بہت سارے رہ جاتے ہیں۔ بعض قارئین کو اس کا احساس ہوتا ہے تو سلام لکھ کر اپنے ایس ایم ایس کی طرف توجہ بھی دلاتے ہیں۔ کوشش ہوتی ہے کہ کوتاہی نہ ہو لیکن یہ ممکن نہیں ہوتا کہ سارے ایس ایم ایس شامل کالم کئے جاسکیں۔ کوشش ہو گی کہ ہر قاری کا پیغام ومسئلہ شامل کالم کرسکوں۔

قارئین نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں