Daily Mashriq

اسلامی ممالک میں آمریت وجمہوریت

اسلامی ممالک میں آمریت وجمہوریت

قرآن وحدیث میں نظام حکومت کے حوالے سے کسی مخصوص شکل وصورت کی طرز حکومت کا تفصیلی وصریح ذکر یا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ البتہ قرآن وسنت میں مختلف مقامات پر اسلامی نظام حکومت کی صفات وخصائص کا ذکر ضرور موجود ہے۔ مفسرین کرام اور فقہاء نے قرآن وسنت کی اس قسم کی تعلیمات سے حکمران کی صفات وشرائط اور طرز حکومت کا استنباط کرتے ہوئے اس موضوع پر تصنیفات وتالیفات کے انبار لگا دئیے ہیں۔ ان کتب میں قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ اساسی حیثیت رکھتی ہے (ترجمہ) ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جما دیں تو یہ پوری پابندی سے نماز قائم کریں اور زکواتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں‘‘۔ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی حکومت (اسلامی حکومت) کے اغراض ومقاصد اور اہداف بیان ہوئے ہیں اور جو لوگ ایمان لانے کے بعد آیت بالا میں مذکور امور کی انجام دہی اخلاص کیساتھ کرتے ہیں ان کیساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کو زمین کی خلافت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان لوگوں سے پہلے لوگوں کو خلافت عطا فرمائی تھی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قرآن وسنت میں مسلمانوں کیلئے خلافت بطور نظام حکومت پسند کیا گیا ہے۔ بعض علماء نے اس وعدہ کو خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کیساتھ خاص قرار دیا ہے لیکن بعض نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ عام ہونے کی بناء پر ایمان اور عمل صالح کیساتھ مشروط ہیں اور عہد خلافت راشدہ اور عہد خیرالقرون میں اس وعدہ الٰہی کا تمام وکمال ظہور ہوا اور آج بھی مسلمانوں کیلئے خلافت ارضی کے حصول اور دین اسلام کے عروج کیلئے یہی شرائط ہیں اور قیامت تک یہی رہیں گی اور کوئی راستہ قرآن وسنت میں نہیں پایا جاتا۔
اسلامی تاریخ میں بعض لوگ مشاورت اور شوریٰ کے اس حکم اور تاکید سے ملوکیت کی تردید اور جمہوریت کا اثبات کرتے ہیں حالانکہ مشاورت کا اہتمام ملوکیت میں بھی ہوتا ہے۔ بادشاہ کی بھی مجلس مشاورت ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں آج کی سیکولر مغربی جمہوریت اور پھر اسلامی ممالک میں جیسی جمہوریت رائج ہے اس کو مشاورت قرآن یا اسلامی شورائی نظام کے ہم معنی سمجھنا یکسر غلط ہے۔ مشاورت ہر کہ مہ سے نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشاورت کا مطلب ان لوگوں سے مشورہ کرنا ہوتا ہے جو اس معاملے کی نزاکتوں کو جانتے ہوں۔ بلڈنگ اور پل وغیرہ بنانا ہو تو کسی تانگہ بان‘ درزی یا رکشہ ڈرائیور سے نہیں کسی انجینئر سے مشورہ کیا جاتا ہے جبکہ آج کی جمہوریت میں ہر بالغ شخص کو مشورے (ووٹ کے ذریعے) کا اہل سمجھا جاتا ہے چاہے وہ کورا ان پڑھ‘ بے شعور اور امور حکومت وسلطنت کی نزاکتوں سے یکسر بے خبر ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ مغربی جمہوریت بھی کوئی ایسا کامل اور جامع نظام نہیں جسے ہر خطہ زمین اور مختلف الخیال اور مزاج کے لوگ یکساں طور پر پسند کریں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں چین‘ روس اور مشرق وسطیٰ اور سنٹرل ایشیا اور افریقہ وغیرہ میں بادشاہتیں اور آمریتیں قائم ہیں اور چل رہی ہیں لیکن اسلامی ملکوں میں آمریت کو پروان چڑھانے میں امریکہ اور مغربی جمہوری ملکوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ مغربی طاقتوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جب تک آمریت میں ان کے مفادات (سیاسی ومعاشی) محفوظ ہیں تو ان کے نظام حکومت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کیونکہ آمریت میں ایک آدمی سے معاملات طے کرنا آسان بھی ہوتا ہے۔ 1950ء اور 1960ء کے عشروں کے مرد ہائے آہن مصر کے جمال عبدالناصر‘ الجزائر کے حواری بومدین‘ شام کے حافظ الاسد‘ لیبیا کے قذافی اور عراق کے صدام حسین‘ ایران کے رضا شاہ اور اپنے وطن عزیز کے ایوب خان سب نے اپنے ملک میں جاری نظام کی جگہ ملک ومعیشت کو مضبوط کرنے کیلئے اور عوام کے حقوق کے نام پر آمریتیں مسلط کیں اور انہوں نے چند ایسے اقدامات کئے بھی لیکن ہر ملک میں وہ انقلابی لہر بہت جلد کمزور پا کر مطلق العنانیت میں تبدیل ہوگئی۔ مصر اور شام میں تو حسنی مبارک اور اسد نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا تھا۔ لیبیا وعراق میں معاشی فارغ البالی کے سبب تھوڑا بہت معاملہ اچھا رہا لیکن یہ حقیقت اب کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مطلق العنان حکمران ملک کو حقیقی استحکام اور معاشی خوشحالی سے کبھی ہمکنار نہیں کرسکتے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان ممالک کا حال بد سے بدتر کی طرف گامزن ہے۔ اندازہ لگا ئیے کہ حسنی مبارک کی جگہ جنرل فتح السیسی نے لے لی ہے اور سعودی عرب جیسے اہم ترین اسلامی ملک میں محمد بن سلمان اب بادشاہت میں مغربی جمہوریت کی آزادیوں کا پیوند لگاتے ہوئے نئے تجربات کریں گے لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آمریت اور مطلق العنان حکومتوں کے حوالے سے صرف مسلمان ہی مسائل کا شکار نہیں ہیں‘ روس‘ کیوبا‘ وینز ویلا‘ سنگا پور اور براعظم افرقہ کے بیشتر ممالک میں یہی کشمکش جاری ہے لیکن ہمارا کنسرن تو اسلامی دنیا ہے جو اس وقت شدید مخمصے کا شکار ہے اور کسی ایسے نظام کی راہ تک رہی ہے جس میں حکومت کو فکر انساں ہو۔

اداریہ