Daily Mashriq


اُف یہ عدالتیں

اُف یہ عدالتیں

عدالت جہاں عدل وانصاف کا بول بالا ہوتا ہے، جہاں اصول قواعد راہ ودستور کی عملداری ہوتی ہے، جہاںحق دار کو اس کا حق ملتا ہے، جہاں ظالم کو سزا اور مظلوم کو جزا دی جاتی ہے، قانون اور انصاف کے موضوع پر ماہرانہ رائے دینے یا اس پر بات کرنے کا حق قانون دان ہی ادا کر سکتے ہیں کیونکہ اس دشت کی سیاحی میں انہوں نے اپنی پوری کی پوری زندگی وقف کی ہوتی ہے۔ قانونی نکتوں کو سمجھنے اور ان کے عملی اطلاقات کو زیر استعمال لانے کیلئے دفتروں کے دفتر کنگالے ہوتے ہیں۔ اتنا آسان نہیں قانون دان بننا، کبھی کسی قانون دان کو یہ بات بھی کہتے سنا تھا کہ جتنا مشکل ہے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنا اتنا ہی آسان ہے ڈاکٹر بن کر اپنا کلینک کھول لینا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل بہت سے غیر مستند ڈاکٹر بھی جگہ جگہ کلینک لگائے اپنے طور پر دکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ایک قانون دان کیلئے قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے باوجود بھی اپنے آپ کو اچھا قانون دان منوانا آسان نہیں۔ بات صرف اتنی سی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ قانون کے حوالے سے مجھ جیسے ان پڑھ یا کورے ذہن وشعور کے مالک کو بات کرنے کا کوئی حق نہیں، ہم جو زیرنظر کالم میں انصاف اور قانون یا عدالت کے موضوع پر بات چھیڑ بیٹھے ہیں تو اس کی وجہ آپ فیض احمد فیض کی وہ نصیحت سمجھ لیجئے گا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

میں یہاں آپ کو صرف اتنا بتا دینا چاہتا ہوں کہ عدالتیں صرف ان روایتی اداروں کا نام نہیں جن کی ایماء پرکوئی ریاست یا ریاستی نظام چلتا رہتا ہے، جرائم کی بیخ کنی کی جاتی ہے یا مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاتا ہے۔ ہم اپنے مذہبی نکتہ نظر سے اس عدالت کے وجود پر ایمان رکھتے ہیں جس کا چیف جسٹس خالق کن فیکون ہے۔ جس کی گرفت سے کوئی مجرم بچ نہیں سکتا، جس کی لاٹھی میں آواز نہیں، جس کی ذات گرامی کیلئے چیف جسٹس کا لفظ بہت چھوٹا ہے، وہ مالک ہے وہ حاکم ہے۔ ہم اس کی وحدانیت اور اس کے بھیجے ہوئے نبی آخرالزماںﷺ کا کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا دعویٰ کرنے لگتے ہیں، وہ ہمارا معبود ہے ہم اپنے آپ کو اس کے بندے کہتے ہیں اور حق بندگی ادا کرتے ہوئے نماز پنجگانہ میں اس کی حمد وثناء پیش کرتے ہیں اور بارگاہ ایزدی میں التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سیدھے راستے پر گامزن کرے، وہ راستہ جس پر چلنے کے بعد ہم پر اس کی رحمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ہم پر انعامات واکرام کی بارشیں ہونے لگتی ہیں اور ہم زندگی کی ان شاہراہوں پر رواں دواں اور کشاں کشاں چل نکلتے ہیں جو ہمیں زندگی کی تاریکیوں سے نکال کر اس چاندنی چوک میں پہنچا دیتی ہیں جہاں پہنچنے کا آرزو مند ہر قلب ونظر اور فہم وشعور کے مالک کو ہونا چاہئے۔ جب صراط مستقیم پر چلنے کا رسیا اللہ کی رسی کو تھام کر زندگی کی شاہراہوں کے چاندنی چوک میں پہنچتا ہے تو وہ اپنے اندر قائم ہونیوالی ایک عدالت کا وجود محسوس کرتا ہے۔ اس عدالت کو آپ احتساب عدالت کے نام سے یاد کرسکتے ہیں۔ آپ اس عدالت کے قاعدے اور قوانین کو خود احتسابی کا نام دے سکتے ہیں۔ اس عدالت کے وکیل، منشی، محرر، پولیس، القصہ سارا عملہ بلکہ جج یا منصف تک بھی آپ خود ہوجاتے ہیں اور اپنے اندر احتساب عدالت لگا کر اپنے بہت سے مقدموں کا فیصلہ کر نے لگتے ہیں۔ اگر آپ ایسی عدالت قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اس دوران آپ اپنے ساتھ ایک اور وجود کو محسوس کریں گے۔ اپنے منصف مزاج ساتھی کا وجود جس کو آپ اپنا ہمزاد بھی کہہ سکتے ہیں، جس کا احترام کرنا آپ پر واجب ہوگا اور راز کی بات عرض کردوں کہ آپ کا یہی ہمزاد آپ کے اندر کی عدالت کا جج ہوگا۔ ہمارے اندر کی اس عدالت کا جج جس کی پہچان میں نے آپ کے ہمزاد کے نام سے کرائی ہے کوئی کم شہرت کی ہستی نہیں، آپ تو آپ ساری دنیا والے اسے ضمیر کے نام سے جانتے ہیں۔ شنید ہے کہ نیکی کے راستوں سے ہٹ جانیوالے لوگوں کے ضمیر ’جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سوجا‘ جیسے راگ الاپتے ان کی قسمت کیساتھ گلے لگ کر سوجاتے ہیں اور خود احتسابی کی پاسداری نہ کرنیوالوں کو کھلی چھٹی دے کر ان کو اپنی من مانیاں کرنے کی آزادی دے دیتے ہیں اور یوں خود احتسابی کا سامنا نہ کرنیوالا ہر کس وناکس سے بے ضمیر کہلانے کا طعنہ سہنے کے علاوہ جرگہ، پنچایت، ہجرہ، بیٹھک یہاں تک کہ ماماجی کی عدالت جیسی جانے کتنی عدالتوں کے علاوہ سرکاری سطح پر قائم ہونے والی احتساب عدالتوں کی پیشیاں بھگت بھگت کر جہاں بھر کی بدنامیاں اور رسوائیاں سمیٹنے لگتا ہے۔ یہ سب ان کے کرتوتوں اور خود احتسابی کی عدالت سے صرف نظر کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جو لوگ ان بدنامیوں اور رسوائیوں سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں وہ اپنے ضمیر کو بیدار رکھتے ہوئے من آنم کہ من دانم کے دعویدار رہتے ہیں اور احتساب عدالتوں کی پیشیاں بھگتنے سے پہلے برائی، ظلم، زیادتی، چوری چکاری، لوٹ مار، دھوکہ فراڈ جیسی بہت سی قباحتوں سے اپنی ذات گرامی کو بچا کر ضمیر کی عدالت میں سرخرو اور سرفراز ٹھہرتے ہیں اور یوں ان کیخلاف قائم ہونے والی کوئی بھی احتساب عدالت ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتی مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہماری اس بات کے جواب میں سلیم کوثر بول اُٹھے کہ

تم نے سچ بولنے کی جرأت کی

یہ بھی توہین ہے عدالت کی

متعلقہ خبریں