Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

محمد بن واسع ازدیؒ کا تعلق بنوامیہ کے امراء میں سے صرف یزدی بن مہلب اور قنیبہ بن مسلم باہلی کے ساتھ ہی نہیں رہا بلکہ ان کے علاوہ بھی کئی ایک گورنروںاور سربراہوں کے ساتھ تعلقات رہے۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں اور قابل رشک تعلقات بصرہ کے گورنر بلال بن ابی بردہ کے ساتھ رہے۔محمد بن واسع ازدیؒ کو کئی مرتبہ قاضی کا عہدہ پیش کیا گیا لیکن آپؒ نے یہ منصب قبول کرنے سے صاف انکار کردیا اور اس انکار کی وجہ سے اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلا کرنا گوارا کرلیا۔ ایک مرتبہ بصرہ کی پولیس کے سربراہ محمدبن منذر نے انہیں اپنے پاس بلایا۔ آپؒ تشریف لے گئے اس نے کہا: عراق کے گورنر کا ابھی ابھی پیغام آیا ہے کہ میں آپ کو قاضی کے منصب پر فائز کروں۔آپؒ نے فرمایا: مجھے یہ منصب پسند نہیں میں معافی چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ پر کرم کرے۔اس نے دو تین مرتبہ اپنا مطالبہ دھرایالیکن آپ نے بڑی شدت سے اس کا انکار کیا۔ پولیس کے سربراہ نے تنگ آکر کہا: اللہ کی قسم آپ کو یہ عہدہ قبول کرنا پڑے گا ورنہ میں آپ کو سرعام کوڑے لگاکر رسوا کروں گا۔ آپ نے بڑے اطمینان سے فرمایا: میرے ساتھ یہ سلوک کرنا پسند کرتے ہیں تو بڑی خوشی سے شوق پورا کیجئے ٗمیرے نزدیک دنیا کی تکلیف آخرت کی تکلیف سے کہیں بہتر ہے۔ پولیس کا سربراہ یہ جواب سن کر شرمندہ ہوا اور انہیں ادب و احترام اور حسن سلوک سے رخصت کیا ۔٭حضرت جنید بغدادیؒ اپنی زندگی کا ایک عجیب واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’ایک دن میرا گزر کوفے کی طرف ہوا۔ وہاں میں نے ایک عالی شان مکان دیکھا جو کسی بڑے رئیس کی ملکیت معلوم ہوتا تھا۔ اس مکان کے کئی دروازے تھے اور ہر دروازے پر نوکروں اور غلاموں کا ہجوم نظر آرہا تھا۔ ابھی میںدل ہی دل میں ان لوگوں کی بدمستی اور بے خبری پر افسوس کر رہا تھا کہ اچانک ایک خوش گلو عورت کی آواز سنائی دی۔’’اے مکان! تیری چار دیواری کے اندر کبھی کوئی غم نہ آئے‘‘۔ ’’ اور تیرے رہنے والوں کے ساتھ یہ ظالم زمانہ کبھی مذاق نہ کرے‘‘۔حضرت جنید بغدادیؒ نے عورت کے اشعار سنے تو یہ کہتے ہوئے آگے تشریف لے گئے ’’ان لوگوں کی حالت بہت نازک اور سنگین ہے۔ یہ دنیا اور اس کی رنگینیوں میں مکمل طور پر غرق ہوچکے ہیں‘‘۔ پھر ایک مدت کے بعد اتفاق سے حضرت جنید بغدادیؒ کا گزر اسی محل نما مکان کی طرف سے ہوا۔ آپ نے حیران ہو کر اس عشرت کدے پر نظر ڈالی۔ کوئی نوکر اور غلام وہاں موجود نہیں تھا۔ در و دیوار انتہائی خستہ ہوچکے تھے اور جگہ جگہ سے اینٹیں گر رہی تھیں۔ اس کی ساری خوبیاں جاتی رہیں اور رنج و الم نمایاں ہوگئے۔ زمانے کا یہی مزاج ہے کہ وہ ایسے کسی مکان کو صحیح و سالم نہیں چھوڑے گا‘‘۔ ’’لہٰذا اس مکان کے اندر جو انس( محبت) پایا جاتا تھا اسے وحشت میں بدل دیا گیا اور کیف و سرور کی جگہ شور ماتم برپا کردیاگیا‘‘۔قانون قدرت ہے کہ دنیا کی کوئی شے باقی نہیں رہے گی سوائے ذات باری تعالیٰ کے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی ۔

متعلقہ خبریں