Daily Mashriq

امریکی صدر کا ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان

امریکی صدر کا ایران جوہری معاہدے سے الگ ہونے کا اعلان

ویب ڈیسک:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان ، ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا بھی اعلان کردیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے ایران نیوکلیئر ڈیل سے الگ ہونے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی انہوں نے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے ایٹمی تعاون کرنے والی ریاست پر بھی پابندیاں لگائیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران دہشت گرد ملک ہے جو دنیا بھرمیں دہشت گردی میں ملوث ہے وہ شام ، یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے جب کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کےحصول سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ یک طرفہ تھا، یہ معاہدہ ہونا ہی نہیں چاہئیے تھا اور یہ معاہدہ امریکا کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔

 امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے میں ناکام رہا، حقیقت میں ڈیل کے تحت ایران کو یورینیم افزودگی کی اجازت مل گئی اور ایران نے پابندیوں کے بعد بھی میزائل بنانا جاری رکھے جب کہ ڈیل کے بعد ایران نے بجٹ میں 40 فیصد اضافہ کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایرانی عوام کے ساتھ ہے، ایران نے جوہری ہتھیار بنانا بند نہ کیے تو مزید سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے اور اگر اس معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجائے گی جب کہ ہمارے پاس ثبوت ہے کہ ایران کا وعدہ جھوٹا تھا۔

واضح رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی قوتوں نے ایران پر سخت عالمی پابندیاں عائد کی تھیں تاہم 2015 میں ایک معاہدے کے تحت ایران نے جوہری پروگرام کو شفاف اور محدود رکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی جس پر پابندیوں میں نرمی کردی گئی تھی ۔ ایران سے ہونے والے عالمی جوہری معاہدے پر امریکا، برطانیہ، چین، جرمنی، فرانس اور روس نے دستخط کیے تھے۔

متعلقہ خبریں