Daily Mashriq


جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور

جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو جعلی اکاؤنٹس کیس میں عبوری ضمانت دے دی۔

سابق صدر نے نجی کمپنیوں کو غیر قانونی ٹھیکے دینے کے کیس میں عبوری ضمانت کے لیے عدالت عالیہ میں درخواست دائر کی تھی جس میں بیان قلمبند کروانے کے لیے انہیں پہلے ہی قومی احتساب بیورو (نیب) نے آج (9 مئی) کو طلب کر رکھا ہے۔

اپنی درخواست میں آصف زرداری نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے انہیں سندھ حکومت کے شعبہ اسپیشل انیشی ایٹو سے ایم/ایس ہارش کمپنی اور دیگر کو ٹھیکے دینے کے معاملے میں بیان قلمبند کروانے اور دستاویزات تیار کرنے کے لیے 6 مئی کو طلب کیا تھا۔

نوٹس کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کراچی کے علاقے ناظم آباد میں سندھ بینک کی گول مارکیٹ برانچ میں ایم /ایس رائل انٹرنیشنل کے عنوان سے ایک فرضی اکاؤنٹ قاسم علی کے نام پر کھلوایا گیا جو اومنی گروپ کا ایک ملازم تھا۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ مندرجہ بالا اکاؤنٹ سے جون/جولائی 2015 میں غیر قانونی طریقے سے 74 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم عبدالندیم بھٹو کے اکاؤنٹ میں جمع کروائی گئی جو لاڑکانہ میں بھٹو خاندان کے آبائی گھر نوڈیرو ہاؤس کے انچارج تھے۔

اس حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ رقم کو نوڈیرو ہاؤس کے اخراجات کے ادائیگی کے لیے استعمال کیا گیا۔

اس ضمن میں آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف کیس بے بنیاد ہے اور نیب ان کو ہراساں، بدنام کرنا اور انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنانا چاہتا ہے۔

آصف زرداری کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ’اس وقت درخواست گزار کو معلوم نہیں کہ ان کے خلاف کتنے کیسز رجسٹرڈ ہیں اور انہیں طلبی کے کتنے نوٹس بھیجے جائیں گے یا ان کے خلاف نیب کتنے ریفرنس دائر کروائے گا'۔

درخواست کے مطابق اب تک طلبی کے 4 نوٹس دیے جاچکے ہیں اور ممکن ہے کہ جب درخواست گزار نیب حکام کے سامنے پیش ہوں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے۔

جس کے بعد جسٹس امیر فاروق اور جسٹس محسن اختر پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینج نے ابتدائی سماعت کے بعد 5 لاکھ روپے کے عوض آصف زرداری کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔

دوسری جانب جعلی اکاؤنٹس کیس میں اسی بینچ نے سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی بھی عبوری ضمانت میں 21 مئی تک کے لیے توسیع کردی۔

واضح رہے کہ قائم علی شاہ کا نام جعلی اکاؤنٹس کی تفتیش کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں شامل تھا اور وہ ان 172 افراد میں بھی شامل تھے جن کے بیرونِ ملک سفر پر پابندی ہے انہیں نیب نے ٹھٹھہ اور دادو شوگر ملز کی تحقیقات کے لیے طلب کیا تھا۔

متعلقہ خبریں