Daily Mashriq


رمضان اور مہنگائی

رمضان اور مہنگائی

وفاقی کابینہ نے نہ صرف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کی توثیق کی ہے بلکہ بجلی بھی مزید مہنگی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ حکومت کو اب دوسو ارب روپے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ماہوار ملیں گے، اس کیساتھ بھی عوام کا امتحان ختم نہیں ہوگا بلکہ پاور اور گیس سیکٹر میں سبسڈیز ختم ہونے سے بھی عام آدمی مزید متاثر ہوگا۔ آئی ایم ایف کیساتھ بیل آؤٹ پیکج کی شرائط میں آئندہ بجٹ میں تین سو پچاس ارب روپے کا ٹیکس استشنیٰ بھی ختم کرنا پڑے گا اور ریونیو ہدف کو پانچ ہزار پانچ سو پچاس ارب روپے کرنا پڑے گا یہ سارے حالات ملک میں واضح طور پر مہنگائی اور عوام پر اضافی بوجھ کا باعث بنیں گے اور عوام کو مزید مشکلات کیلئے تیار رہنا ہوگا۔ رمضان میں سخت مہنگائی کا سامنا ہے، تقریباً تمام ضروریات زندگی گوشت، گھی، کھانے پکانے کا تیل، آٹا، پیاز، چکن اور پھلوں کی قیمتیں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی جیسی وجوہات کو پسِ پشت ڈال کر اگر صرف پھلوں اور سبزیوں کی رمضان کی آمد سے چھ روز قبل اور پہلے روزے والے دن کی سرکاری قیمتوں پر نظر ڈالیں تو پتہ یہ چلتا ہے کہ یہ قیمتیں سرکاری سطح پر پہلے ہی نو سے پچاس فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ ابھی رمضان تقریباً پورا باقی ہے ضلعی انتظامیہ کے نرخ ناموں کے مطابق سب سے تازہ آلو کی سرکاری قیمتِ فروخت یکم مئی کو 18 روپے فی کلو گرام تھی جو پہلے روزے کے دن کو 24 روپے رہی، یعنی انتہائی بنیادی سبزی کی قیمت میں لگ بھگ33 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ادنی معیار کے سیب کی سرکاری قیمتِ فروخت145روپے تھی جو چھ روز کے اندر اندر180روپے ہو چکی ہے یعنی تقریباً25 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح ٹماٹر کی قیمت میں 18 فیصد اضافہ، لہسن50 فیصد، پیاز نو فیصد، کیلا 17 فیصد جبکہ امرود آٹھ فیصد تک مہنگے ہو چکے ہیں۔ مہنگائی ہر دور حکومت میں رہی ہے اسے کسی ایک حکومت کیساتھ جوڑنا زیادہ مناسب نہ ہوگا تاہم موجودہ دور حکومت میں مہنگائی میں بار بار اضافہ کے حالات کے باعث مہنگائی زیادہ ہونے کا شدت سے احساس فطری امر ہے۔ روپے کی قیمت میں کمی اور ڈالر کی قیمت میں اضافہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار اضافہ آئی ایم ایف سے معاملات اور بار بار بجٹ پیش کرنا مہنگائی میں مزید اضافی کے عوامل ہیں ان معاملات سے قطع نظر صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے مہنگائی کی روک تھام کے حوالے سے جس قسم کی سخت گیری کی ضرورت تھی وہ نظر نہیں آتی خاص طور پر رمضان المبارک کی آمد پر بازاروں میں مجسڑیٹس کے بڑھتے چھاپے اور کارروائیاں گرفتاریاں اور جیل بھجوانے کے جس قسم کے اقدامات ہوتے تھے وہ نظر نہیں آتے۔ ضلع کے ڈپٹی کمشنروں کا ایک آدھ مرتبہ کسی بازار کا دورہ کافی نہیں اور نہ ہی یہ وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کی ذمہ داری ہے کہ وہ مجسٹریٹ کا کام سنھبال لیں وہ علامتی طور پر دورہ اور جائزہ ہی لے سکتے ہیں، اصل کام متعلقہ مجسٹریٹس اور ان کے عملے کا ہے کہ وہ تسلسل کیساتھ بازاروںکا دورہ کریں۔ اس ضمن میں صوبے میں خود تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت کے ابتدائی سال کی مثال ہمارے سامنے ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر بازاروں پر لگنے والے چھاپے اور کارروائیاں مؤثر ہوتی تھیں اور عوام کو کم ازکم مصنوعی مہنگائی سے محفوظ ہونے کا احساس دلایا گیا تھا۔ اس طرزعمل کا اعادہ کیا جائے تو بڑھتی قیمتوں کو لگام لگ جائے مہنگائی کی ایک دلچسپ وجہ سرکاری نرخناموں کی عدم پابندی نہیں بلکہ غیرحقیقت پسندانہ نرخوں کا تعین ہے اور یہ اس قدر غیرحقیقت پسندانہ اور اندھا دھند طے ہوتے ہیں کہ سرکاری نرخنامے کے مطابق مقررہ قیمت فروخت پر تھوک کے حساب سے بھی اشیائے صرف اور اشیائے خور ودنوش اور تاجروں کو دیگر مصنوعات واشیاء نہیں ایسے میں ان سے کیسے توقع کی جائے کہ وہ سرکاری نرخنامے کی پابندی کر پائیں گے۔ اس ساری صورتحال کا مارکیٹ میں اگر حکومتی اقدامات کے ذریعے مقابلہ قرار دیا جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ حکومت نے یوٹیلیٹی سٹورز پر رمضان پیکج کے تحت انہیں اشیاء کی نرخوں میں سبسڈی دے دی لیکن یہ اشیاء سٹورز پر ناپید ہیں جبکہ سستے بازاروں کے انعقاد کو بھی ایک ذریعہ سمجھا گیا لیکن سستا بازار تاجروں اور گاہکوں دونوں سے خالی ہیں کوئی بھی تاجر سستا بازار میں سٹال لگانے کو تیار نہیں حکام دورے اور افتتاح کے بعد دفاتر اور گھروں کو چلے گئے یہ کسی ایک جگہ کی کہانی نہیں بلکہ صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں یوٹیلٹی سٹوروں اور سستے بازاروں کی یہی صورتحال ہے۔ جہاں اس طرح کی صورتحال ہو وہاں سٹور مالکان سے خاص طور پر لندن اور دیگر مغربی ممالک کی طرز پر رمضان پیکج کے تحت اشیاء کی رعایتی نرخوں پر فروخت کی توقع ہی عبث ہے۔ پشاور میں کم ہی سٹور والے ہیں جہاں رمضان المبارک کو مہنگائی کا ذریعہ بنانے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ان تمام عوامل کیساتھ ساتھ خود صارفین کا رویہ بھی مہنگائی میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔ رمضان المبارک کی آمد پر ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ ضرورت سے زائد خریداری کی جائے جس سے طلب ورسد کے توازن میں فرق آتا ہے اور ایشاء مہنگی ہوجاتی ہیں۔ علاوہ ازیں صارف کا یہ رویہ بھی ازخود نرخوں میںاضافے کی ایک وجہ ہے۔ صارفین کی جانب سے کسی چیز کے مہنگے ہونے پر اس کی خریداری سے گریز اور استعمال ترک نہ کرنے کا رویہ بھی مہنگائی کی ایک وجہ ہے، مثال کے طور پر لیموں کے ہزار روپے کلو فروخت ہونے پر اگر صارفین ہاتھ کھینچ لیتے تو قیمت کم ہوجاتی۔ مہنگائی کی عالمی، حکومتی تجارتی اور عوامی وجوہات کا جائزہ اور حقیقت پسندانہ جائزے کے بعد تدارک میں ہر فریق کو اپنی ذمہ داری اور کردار کا احساس ہو تو شدید مہنگائی کی لہر کو صرف مہنگائی کی سطح تک لایا جا سکتا ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے مہنگائی میں قدرے کمی لانا ممکن ہے، اس بے قابو جن کا مستقل کوئی علاج نہیں۔

متعلقہ خبریں