Daily Mashriq

زرعی اراضی کے تحفظ پر توجہ کی ضرورت

زرعی اراضی کے تحفظ پر توجہ کی ضرورت

ہمارے خصوصی رپورٹر کے مطابق صوبے میں زرعی اراضی پر ہائوسنگ سکیموں کی تعمیر میں مسلسل اضافے، پانی کی قلت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات اور زرعی اراضی کے رقبے کی مسلسل کمی سے زرعی پیداوار اور پھلوں کی پیداوار کا متاثر ہونا باعث تشویش امر ہے جس سے صرف نظر کی مزید گنجائش نہیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق اگر صوبے میں زرعی اراضی میں کمی کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں خیبر پختونخوا گندم کی طرح سبزیوں اور پھلوں کیلئے بھی دوسرے صوبوں کا محتاج ہوجائے گا۔ زرعی ماہرین کے مطابق صوبے کے مرکزی علاقوں میں کافی تعداد میں زرعی اراضی اکنامک زون میں آگئی ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں صوبے کے پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔ دنیا بھر میں کہیں بھی زرعی اراضی اور باغات کے رقبے پر عمارتیں بنانے کا رواج نہیں۔ دنیا میں زرعی اراضی، باغات اور سبزہ کے رقبے میں اضافے پر وسائل خرچ ہوتے ہیں یا پھر کم ازکم ان کا پوری طرح تحفظ ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں الٹا معاملہ ہے جس کی بناء پر شہر پھیلتے جا رہے ہیں اور زرعی اراضی پر عمارتیں کھڑی نظر آتی ہیں۔ صرف صوبائی دارالحکومت پشاور کے رقبے میں2014 میں تین ہزار ایکڑ اراضی کی کمی آئی، زرعی اراضی پر آبادی کی تعمیر کی ممانعت میں قوانین موجود ہیں مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ زرعی اراضی پر گھر تعمیر کرنے کیلئے نہ صرف نقشہ کی منظوری دی جاتی ہے بلکہ بجلی گیس اور پانی کے کنکشن کا حصول بھی کوئی مسئلہ نہیں یا پھر ملی بھگت سے بآسانی ممکن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی کیساتھ باغات، سبزیوں کے کھیت اور زرعی اراضی نابود ہو رہی ہے اور نوبت صوبے کا خوراک کیلئے دوسرے صوبوں پر انحصار بڑھتا جارہا ہے جو صوبے کیلئے بالخصوص اور ملک کیلئے بالعموم مشکلات کا باعث ہو رہا ہے۔ موجودہ قوانین پر عملدرآمد کیساتھ ساتھ زرعی اراضی وباغات کی زمینوں پر تعمیر ہونے والی کسی بھی عمارت کو بجلی گیس اور پانی کا کنکشن ناممکن کی حد تک ممنوع قرار دیکر اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ حکومت نئی بستیاں آباد کرنے پر توجہ دے تاکہ باقی ماندہ زرعی اراضی کو بچایا جاسکے۔

حکومت نجی سکولوں کے متبادل معیاری سکول بنائے

عدالت عظمیٰ کی یہ آبزرویشن بجاطور پر درست اور توجہ کا باعث ہے کہ تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، نجی سکولز ریگولیٹ کرنا بھی ریاست کا کام ہے، نجی سکولوں کے فیسوں میں اضافے سے متعلق موقف سے تو اتفاق ممکن نہیں لیکن نجی سکولوں کے وجود کا جو جواز ان کے وکیل نے پیش کیا ہے اس سے اختلاف ممکن نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نجی سکولوں کے قیام کا جواز ہی عوام کی معیاری تعلیم کی ضرورت اور حکومت کا اس کیلئے انتظامات کرنے میں سراسر اور مکمل ناکامی ہے جس کے باعث نجی سکولوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور وہ عوام کی مجبوری کو جان کر من مانے فیس مقرر کرتے ہیں جس کی ادائیگی پر والدین مجبور ہیں۔ ان کے پاس کوئی متبادل نہیں کہ وہ اس کا سہارا لے سکیں نجی سکولوں کی فیسوں کو عدالت بھی ایک حد تک ہی رکھ سکتی ہے، وگرنہ یہ دو فریقوں کا ایسا معاملہ ہے جس میں کسی فریق کی جانب سے دوسرے فریق کو اس حد تک مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ مجبور ہو۔ معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کا بنیادی فریضہ سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں عالم یہ ہے کہ خود حکمرانوں یہاں تک کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ کے اپنے بچے بھی سرکاری سکولوں میں پڑھنے کیلئے تیار نہیں اور وہ بھاری فیسیں دیکر نجی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جہاں صورتحال اس قسم کی ہو وہاں گلی گلی، محلہ محلہ نجی سکول کھلنا ضرورت بن جاتا ہے۔ اس مسئلے کا واحد حل سرکاری تعلیمی اداروں کی معیاری تعلیم دینے کے مراکز میں تبدیلی ہے جس پر حکومت کی کوشش کے باوجود ناکامی کسی بڑے المیہ سے کم نہیں۔ حکومت جب تک معیاری تعلیم کے متبادل اور تسلی بخش انتظامات نہیں کرتی نجی سکولوں کی من مانیاں اسی طرح جاری رہیں گی۔

متعلقہ خبریں