Daily Mashriq

فریاد کریں تو کس کے در پر؟

فریاد کریں تو کس کے در پر؟

منگل کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد دی گئی پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی سے حکومت نے 7ارب روپے بچائے (غالباً حکومتی ترجمان کہنا یہ چاہ رہے ہوں گے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کی جانے والی مفت ادویات کی فراہمی ختم کرکے 7ارب روپے بچائے گئے) ادویات کی قیمتیں کس شہر میں کم ہوئیں کوئی یہ بھی بتلا دے تو نیکی ہوگی تاکہ غریب اور سفید پوش طبقات کے مریضوں کے لواحقین ہی اس یا ان شہروں سے ادویات منگوا لیا کریں۔ صاف سامنے کی بات یہ ہے کہ صرف ایک کمپنی (بی ایس کے) نے قیمتوں میں کمی کی ہے۔ ہزاروں ادویات کی قیمتیں آج بھی وہی ہیں جو پندرہ سے انیس فیصد اضافے کے نوٹیفکیشن کی آڑ میں ایک سو پچاس سے دو سو فیصد تک بڑھا لی گئی تھیں۔ اس دوران ایک تماشا یہ ہوا کہ بڑے معالجین نے اپنی معائنہ فیسوں میں پانچ سو روپے سے ایک ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا۔ بیس پچیس دن قبل حکومت نے کہا تھا کہ ادویات کی بڑھی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے معاملہ طے پا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ابتر صورتحال کا ذمہ دار وفاقی وزیر صحت کو ٹھہراتے ہوئے انہیں رخصت بھی کر دیا۔تحقیقات کروانا حکومت کا فرض تھا۔ سادہ سا سوال یہ ہے کہ آخر اس معاملے کی تحقیقات کیوں نہ کروائی گئی۔ کیا عوام یہ حق نہیں رکھتے کہ وہ جان پائیں اس شخص کے بارے میں جس نے چند کروڑ روپے کے عوض ادویہ ساز اداروں کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا؟۔ بہرطور بہت ضروری ہے کہ ادویات کی قیمتیں کم کروائی جائیں، طے شدہ معاہدہ کے مطابق 15 سے 20فیصد اضافے سے زائد رقم ان ادویہ ساز اداروں سے وصول کی جائے اور اس امر کی تحقیقات بھی کہ کیسے نئی قیمتوں والی ادویات نوٹیفکیشن کے 24گھنٹے کے اندر میڈیکل سٹورز پر پہنچا دی گئیں۔منگل کی شام افطاری کے بعد جناب نواز شریف ایک جلوس کی شکل میں اپنے گھر جاتی امراء سے کوٹ لکھپت جیل کیلئے روانہ ہوئے اور رات بارہ بجے کے بعد جیل پہنچ گئے۔ سپریم کورٹ نے علاج معالجے کیلئے دی گئی چھ ہفتوں کی ضمانت میں مزید توسیع کرنے سے انکار کرتے ہوئے انہیں 7مئی کو خود کو قانون کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔ مسلم لیگ نون پچھلے دو تین دن سے لاہور اور ملحقہ شہروں میں سرگرم عمل رہی، بلاشبہ نواز شریف ایک بڑے جلوس کے ہمراہ گھر سے جیل کیلئے روانہ ہوئے مگر یہ جلوس وسطی پنجاب میں نواز شریف کی مقبولیت کے حساب سے شاندار ہرگز نہیں تھا۔ رمضان المبارک اور حبس کے اس موسم میں ایک اچھا پاورشو بہرطور کر لیا گیا۔ تھوڑی سی محنت اور کی جاتی تو زیادہ بہتر اور متاثر کن پاورشو کیا جا سکتا تھا۔ نواز شریف کے واپس جیل جانے اور ویڈیو پیغام نے ڈیل کی باتوں کو رد کر دیا، البتہ سیاسی امور پر ان کی خاموشی کچھ سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ نواز شریف نے ایک بار پھر اپنا سوال دہرایا کہ انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ دوسری طرف مسلم لیگ(ن) میں تنظیمی طور پر ہونے والی نامزدگیوں کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ دروغ برگردن راوی اس ساری کھیچل نے پیچھے ہمارے ملتانی مخدوم شاہ محمود قریشی ہیں جو اس عمل کو اپنی پارٹی کے اندر بطور ہتھیار استعمال کرکے جہانگیر ترین کی گرفت کے پر کاٹنا چاہتے ہیں۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ اس سوال کا جواب جناب عمران خان کی ان کوششوں میں بھی پوشیدہ ہے جو انہوں نے حالیہ دنوں کے دوران شاہ محمود اور جہانگیر ترین کے درمیان صلح کیلئے کیں۔ عمران خان سمجھتے ہیں کہ اگر پارٹی کے ان دو بڑوں کے درمیان لڑائی جاری رہی تو اس سے پنجاب میں اقتدار مستحکم کرنے کی ان کوششوں کو نقصان ہوگا جو کامیابی سے چند قدموں کے فاصلے پر ہیں۔ مختصراً عرض کئے دیتا ہوں کہ پنجاب کے گورنر‘ شاہ محمود اور جہانگیر ترین تینوں شخصیات اپنی اپنی جگہ نون لیگ کی پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی میں نقب لگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چودھری سرور کا دعویٰ ہے کہ وہ 20نون لیگی ارکان سے رابطے میں ہیں جلد ہی یہ تعداد 28سے30 ہوجائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کرپشن سے پاک پاکستان کا نعرہ لگانے والے کیا نون لیگ میں فارورڈ بلاک بنوانے کی کوششوں کو کرپشن نہیں سمجھتے یا ان کے خیال میں فارورڈ بلاک باضمیر محب وطن ارکان بناتے ہیں؟۔اب چلتے چلتے یہ بھی پڑھ لیجئے کہ پنجاب کے معصوم اور سادہ وزیراعلیٰ نے خاتون محتسب پنجاب کے کنٹریکٹ میں ایک سال کے اضافے کی سمری پہلے مسترد کردی اور پھر تین دن بعد اس کی منظوری دیدی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے جب سمری مسترد کی تو ان کی میز پر رکھی فائل کیساتھ ایک رپورٹ بھی تھی جس میں خاتون محتسب کے دفتر میں گرم رشوت ستانی کے بازار اور اس مافیا کے بارے میں تفصیلات موجود تھیں جو ہراساں کئے جانے کی درخواستوں کا باقاعدہ کاروبار کر رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خاتون محتسب کی مدت ملازمت میں ایک سال کے مزید کنٹریکٹ کے اضافے کی سمری مسترد کی تو بھونچال برپا ہو گیا۔ پنجاب حکومت کے ایک ترجمان اور افسر شاہی کے دو تین کل پرزوں نے مہارت کیساتھ نئی سمری تیار کی اور ڈاکٹر شہباز گل (یہ موصوف ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ کا درجہ رکھتے ہیں) نے وزیراعلیٰ سے ذاتی طور پر فائل پر دستخط کروائے۔ خاتون محتسب کی اولین تعیناتی بھی غیرقانونی تھی کیونکہ وہ جج بننے کی اہلیت رکھتی ہیں نا ہی قانون کی طالبہ رہی ہیں۔ پہلی تعیناتی خواجہ حسان نے کروائی تھی کیونکہ خاتون محتسب کے شوہر شیخ امین نواز شریف کے پسندیدہ سرکاری افسر تھے اور ایل ڈی اے میں اپنی تعیناتی کے دوران انہوں نے بہت خدمت کی تھی۔ یہ وہی موصوف تھے جنہوں نے پنجاب گورنمنٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے ایک نئے فیز کیلئے رائے ونڈ روڈ پر سینکڑوں ایکڑ اراضی ایکوائر کروائی بعد ازاں حکومتی نوٹیفکیشن منسوخ ہو جانے پر یہ اراضی کوڑیوں کے مول شریف خاندان نے خرید لی۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کے مہا فنکاروں کا ڈاکٹر شہباز گل سے کیا تعلق ہے اور کیوں نئی تعیناتی ہوئی؟۔

متعلقہ خبریں