Daily Mashriq


دو چاند

دو چاند

چاند سورج کا قرضدار ہے۔ بھلا وہ کیوں؟ ہم نے یہ بات اپنی دادی اماں سے سنی تو بے اختیار ہوکر پوچھ بیٹھے۔ جس کے جواب میں وہ کہنے لگیں کہ سورج دن بھر چاند کا پیچھا کرتے کرتے ڈوب جاتا ہے لیکن چاند اس کے ہاتھ نہیں آتا، یہ بات سن کر ہم اتنا ہی قیاس کر سکے کہ قرض لینے والا قرض واپس کرنے کا تقاضا کرنے والے سے چھپتا پھرتا ہے جبکہ کسی کو قرض دینے والا اس سے اپنا قرضہ واپس لینے کیلئے اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہتا ہے، لیکن چاند سورج کا مقروض ہے اس عجیب وغریب جملے کے جواب میں دادی اماں کی بات سن کر ہم چکرا سے گئے اور

بات پر وہاں زبان کٹتی ہے

وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

کے مصداق خاموش ہورہے۔ ان ہی دنوں ہم نے چاند اور سورج کے متعلق دیگر بہت ساری کہانیاں سن رکھی تھیں۔ جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ چاند کو اپنی والدہ کی دعا ہے جس کی وجہ سے اس کی روشنی میں ٹھنڈک ہے جبکہ سورج نے ماں کا دل دکھایا تھا اس لئے وہ دن بھر جلتا رہتا ہے۔ کون تھی ان دونوں کی ماں ہم سوال در سوال کرکے ایسی باتیں بتانے والی دادی یا نانی اماں سے پوچھ سکتے تھے لیکن خاموش ہو رہے کہ کہیں ہمیں یہ نہ کہہ دیا جائے کہ چپ ہوجا۔ بڑا بولتا ہے۔ گستاخ کہیں کا اور ہم

زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو

کے مصداق چپ کا روزہ نیت لیتے۔ چاند سورج کے متعلق یہ قصے کہانیاں صرف ہمارے لوک ادب میں موجود نہیں بلکہ دنیا کی مختلف تہذیبوں میں مختلف انداز سے سننے کو ملتی رہتی ہیں اور آنکھیں موند کر ان پر یقین کر لینے والوں کے درمیاں سینہ بہ سینہ سفر کرتی رہیں۔ ہمارے ہاں جب تک وی سی آر اور ڈش انٹینا، کیبل اور سی ڈی کے ذریعے گھر گھر پہنچنے والے ٹی وی سکرین پر فلمیں دیکھنے کا کلچر عام نہیں ہوا تھا ہم یہ تک نہ جان پائے تھے کہ ماں بننا کسے کہتے ہیں۔ اگر کسی کے گھر آنگن میں کوئی بچہ جنم لیتا یا کسی کی گود ہری ہوتی تو گھر کے بڑے بزرگ چھوٹے بچوں کو بتاتے کہ نومولود منے یا منی کو دائی اماںکسی دریا سے اٹھا کر لائی ہیں اور بچے بالے نومولود منے یا منی کی آمد کی خوشی میں یہ تک پوچھنا بھول جاتے کہ وہ کون سا دریا یا ندی نالہ ہے جہاں پانی کی بجائے نومولود منے یا منیاں بہتی رہتی ہیں۔ ٹیلی ویژن آنے کے بعد ہر گھر میں سنیما ہال کھل گیا۔ وی سی آر ڈش انٹینا کیبل اور انٹرنیٹ نے ہر بچے کو یہ بتا دیا کہ بچے کہاں سے آتے ہیں اور بنت حوا ماں کیسے بنتی ہے۔ کبھی اس حالت زار کے پیش نظر ہم غالب کی ایک غزل کی پیروڈی لکھتے وقت چیخ اُٹھے تھے کہ

کرامت یہ انڈین ہے فلموں کی شوکت

کہ بچوں کا بچے جنم دیکھتے ہیں

کل تک چاند اور سورج کے متعلق جو من گھڑت کہانیاں ہمیں سنائی جاتی رہیں ان کی قلعی اس وقت کھل گئی جب ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی نے یہ بات بتائی کہ رب کن فیکون کے اشارے اور اس کے حکم سے وجود میں آنے والی یہ کائنات ایک بگ بینگ یا بہت بڑے دھماکے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ چاند سورج اور ستاروں کے متعلق ہم اپنی محدود سوچ اور سمجھ کے مطابق جو قصے اور کہانیاں گڑھتے رہتے ہیں۔ مطالعہ قدرت کرنے والی سائنس ان کہانیوں کی نفی کرکے ہمارے سامنے وہ حقائق پیش کرتی رہتی ہے جن کی سچائی سے انکار کرنا ناممکن نظر نہیں آتا، سائنس کہتی ہے کہ چاند زمین ہی کا ایک حصہ ہے جو زمین سے کٹ تو گیا لیکن اس کی کشش ثقل سے بھاگ نہ سکا اور یوں یہ زمین کے گرد اپنے مدار پر گھومنے لگا، متواتر گھومتے رہنے سے یہ گول ہو گیا اور اس کے اس حصے پر پڑنے والی سورج کی روشنی اسے ہلال سے بدر اور بدر سے ہلال میں تبدیل کرنے لگی۔ قدرت کے لگے بندھے قوانیں کی تعمیل میں ہر مہینے چاند کا چھپ جانا اور پھر ہر مہینے کی چاند رات کو اس کا رونما ہونا سائنس کی دریافت کی گئی اس آنکھ مچولی کی کہانی ہے جو ہماری دادی اور نانی اماں کی روایتی کہانیوں کی نفی کرتی ہے مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ قدم قدیم سے قائم روایتوں کے ابھرتے اور ڈوبتے ستارے اپنا آپ منواتے رہتے ہیں، پشاور میں چاند دیکھنے کی روایت کو قائم رکھنے کیلئے پیپل منڈی اور قصہ خوانی بازار کے سنگم پر واقع مسجد قاسم علی خان نے عالم گیر شہرت حاصل کر رکھی ہے، رمضان یا عید کا چاند کہیں بھی نظر نہ آئے مسجد قاسم علی خان میں نظر آجاتا ہے، جس کا فیصلہ حضرت مفتی پوپلزئی اپنے آباء علیہ رحمت کے نقش قدم پر چل کر اپنے زیرانتظام قائم رویت ہلال کمیٹی کے متفقہ فیصلہ کے مطابق کرتے ہیں جس میں صوبہ بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کو بنیاد بنایا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس وفاقی رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان کی سربراہی میں مبینہ طور پر کم وبیش چالیس لاکھ کے لگ بھگ تخمینہ خرچ کرکے اتنی آسانی سے چاند نہیں دیکھ پاتی جتنی آسانی سے ہمارے سادہ لوح اور ان پڑھ دیہاتی چاند دیکھ کر مسجد قاسم علی خان کو دوڑ پڑتے ہیں اور وہاں جاکر ایسا چاند طلوع کر آتے ہیں جس کی مسجدوں کے لاؤڈ سپیکروں سے ہونے والے اعلان کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے اور ہم آدھی رات کی تاریکیوں کوچیرتے ہوئے اس چاند کو تلاش کرتے رہ جاتے ہیں، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو نظر نہیں آیا اور پھر بے اختیار ہوکر کہہ اٹھتے ہیں کہ چاند ایک نہیں دو ہیں،

اک چاند ہے آوارہ بے تاب فلک تاب

اک چاند ہے آسودگی ہجر کا مارا

متعلقہ خبریں