Daily Mashriq


میں نے یہ کب کہا پس دیوار آپ تھے

میں نے یہ کب کہا پس دیوار آپ تھے

ہور چوپو‘ وہ جو وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے رویت ہلال کمیٹی ختم کرکے قمری کیلینڈر کی تیاری کیلئے کمیٹی بنانے کی تجویز دی تھی بلکہ اب تو اس سلسلے میں نوٹیفکیشن بھی جاری کروا دیا ہے جو آئندہ پانچ سال کیلئے رمضان ‘ عید اور محرم کی تاریخوں کا تعین ٹیکنالوجی کی مدد سے کریگی تو اس پر اعتراضات سامنے آرہے ہیں اور نہ صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب‘ مسجد قاسم علی خان رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی بلکہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم یہ جو کالم کے آغاز میں ہور چوپو کے الفاظ ہم نے لکھے ہیں تو اس کا کارن کچھ اور ہے اور وہ یہ کہ فواد چوہدری کو مسکت جواب دیتے ہوئے (سرکاری روزے کے پہلے ہی روز یعنی منگل کے دن مفتی منیب الرحمن نے ماضی کے برعکس اچانک نہ صرف فطرہ بلکہ فدیہ صوم اورکفارہ صوم کے نصاب کا اعلان کرتے ہوئے چوہدری صاحب موصوف کو ایک طرح سے گویا چیلنج کردیا ہے کہ وہ اپنے تکنیکی ماہرین اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مسائل کا بھی حل بتا دیں تو جانیں!!اب فواد چوہدری غلام محمد قاصر کے اس شعر پر گزارا کریں کہ

لفظوں کا بیوپار نہ آیا اس کو کسی مہنگائی میں

کل بھی قاصرؔ کم قیمت تھا‘ آج بھی قاصرؔ سستا ہے

مفتی منیب الرحمن یا کوئی بھی دوسرے مفتیان عظام ہوں وہ فطرہ یا فطرانہ کے حوالے سے عموماً رمضان کے پندرہویں سے لیکر آخری ہفتے کے دوران نصاب کا اعلان کرتے ہیں تاکہ صاحب استطاعت افراد غریبوں‘ مسکینوں کی مدد کرسکیں۔ اس حوالے سے نہ صرف گندم کے مقررہ وزن کا عام مارکیٹ میں ریٹ لیکر فیصلہ کیا جاتا ہے بلکہ کھجور اور کشمش کے مقررہ اوزان کے حساب سے چونکہ رقم زیادہ بنتی ہے اسلئے علمائے کرام زیادہ مالدار لوگوں کو یہی مشورہ دیتے ہیں کہ اگر وہ مذکورہ دونوں اشیاء کے مقررہ اوزان کے مطابق فطرہ ادا کریں تو بہتر ہے البتہ عام متوسط طبقے کے افراد کیلئے گندم کے مقررہ وزن کے مطابق ادائیگی لازمی قرار دی جاتی ہے جو نسبتاً کم ہوتی ہے‘ اب چونکہ اس سارے نظام کا تعلق اسلامی اصولوں کے مطابق ہوتا ہے جو ٹیکنالوجی کے دائرے میں نہیں آتا اسلئے مفتی صاحب نے فواد چوہدری کو ان کی ’’مذہبی استطاعت‘‘ کھول کر بیان کردی ہے۔ سو فواد چوہدری اپنے بیان کی روشنی میں ’’ہور چوپنے‘‘ پر غور ضرور کریں، بقول شاعر

ہم نے جا کر دیکھ لیا ہے حد نظر سے آگے بھی

حد نظر ہی حد نظر ہے‘ حد نظر سے آگے بھی

دراصل فواد چوہدری کا معاملہ روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر والا ہے اور جب سے وزارت اطلاعات ونشریات کو ان سے چھٹکارہ نصیب ہوا ہے یا چلیںیوں کہہ لیں انہیں اطلاعات ونشریات کی وزارت سے فارغ کیا گیا ہے‘ بے چارے کوئی نہ کوئی موقع ڈھونڈتے رہتے ہیں تاکہ کسی نہ کسی طور خبروں میں رہیں‘ بالکل اس شخص کی طرح جو گاؤں کی مسجد بنانے والے ایک خدا ترس بندے کی ہر جگہ‘ ہر محفل اور ہر گوشے میں لوگوں کے منہ پر تعریفیں سن سن کر عاجز آگیا اور اس نے سوچا کہ آخر وہ ایسی کیا حرکت کرے کہ لوگ اس کا ذکر بھی اس خدا ترس شخص کیساتھ کیا کریں‘ باقی کہانی تو بہت سوں کو معلوم ہی ہے جس کے بعد ایک جانب مسجد تعمیر کرنے والے کی تعریفیں ہوتی تھیں تو دوسری جانب اگلے ہی لمحے مسجد میں منفی سرگرمی کو عملی صورت دینے والے کو برے الفاظ سے یاد کرکے اس پر ملامت کے ڈونگرے برسائے جاتے تھے‘ مگر وہ پھر بھی یہ سوچ کر خوش تھا کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا؟ سو ہوا یہ کہ فواد چوہدری نے غلطی سے بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ دے دیا ہے حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی پر موصوف فخر کر رہے ہیں ہر سال محکمہ موسمیات کے ماہرین اسی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے رویت ہلال (رمضان اور عیدالفظر) کے بارے میں اکثر وبیشتر غلط پیشگوئیاں کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ اس بار ہوا اور جس روز سرکار سے بھی فیس بک اور ٹویٹر پر ہلال رمضان کی جو تصویریں پوسٹ کی گئیں وہ واضح طور دوسرے روز کا چاند تھا حالانکہ موسمیات والوں کے مطابق وہی پہلے روزکا چاند ہونا چاہئے تھا‘ یعنی بقول اسحاق اظہر صدیقی

آسماں پر چاند نکلا بھی تو کیا

گھر کی تاریکی نمایاں ہوگئی

اب دیکھتے ہیں کہ فواد چوہدری کی مقرر کردہ کمیٹی عیدالفطر تک کونسا کارنامہ انجام دیتی ہے اورکیا اس کمیٹی کے بنائے ہوئے تقویم کے مطابق عیدالفطر اپنے صحیح دن پر منائی جائے گی یا پھر اس میں بھی کھوٹ شامل کرکے قوم کو ایک بار پھر تفرقے کی نذر کر دیا جائے گا! فواد چوہدری نے صرف رویت ہلال کے حوالے سے ایک نیا تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ علمائے دین پر یہ الزام بھی عائدکردیا ہے کہ انہوں نے تحریک پاکستان کی مخالفت کی تھی،جس کا جواب دیتے ہوئے مفتی منیب الرحمن اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے ان کی تاریخ سے نابلد ہونے کے دعوے کئے ہیں۔ مفتی منیب الرحمن نے اگرچہ وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فواد چوہدری کو دینی معاملات میں دخل اندازی سے گریز کی ہدایت کریں تاہم اس سارے معاملے پر وزیراعظم کی خاموشی اور چوہدری صاحب کی جانب سے ماہرین کی کمیٹی بنانے کے پیچھے اصل غرض وغایت کہیں موجودہ اقتصادی صورتحال کی ابتری سے حکومت کا توجہ ہٹانا تو نہیں یعنی چوہدری صاحب یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے سے کر رہے ہوں اور اس کے پیچھے کچھ اور عوامل ہوں یعنی بقول شجاعت علی راہی

میں نے یہ کب کہا پس دیوار آپ تھے

میں نے تو یہ کہا پس دیوار کون تھا؟

متعلقہ خبریں