Daily Mashriq


افغان امن عمل تعطل کا شکار!

افغان امن عمل تعطل کا شکار!

اہل دانش کے ایک بڑے طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کے موجودہ حالات کی اصل وجہ اندرونی نہیں بلکہ بیرونی ہے، بیرونی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان کے حالات درست سمت کی طرف آئیں، پاکستان کو کبھی معاشی مسائل میں الجھایا جاتا ہے اورکبھی خانہ جنگی میں پاکستان کی معیشت تباہ کی جاتی ہے۔ پاکستان کے دو پڑوسی ملک بھارت اور افغانستان آزادی کے بعد سے ہی پاکستان کے حالات پر اثرا نداز ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا رہا ہے لیکن اب ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی کا عمل مشکوک نظر آرہا ہے۔ چند ماہ پہلے تک تو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے امریکہ طالبان کی شرائط تسلیم کرکے وہاں سے اپنی فوج ہٹانے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ لیکن ادھر کچھ دنوں سے زلمے خلیل زاد جو باتیں کررہے ہیں ان سے لگتا ہے کہ امریکہ واپسی میں سنجیدہ نہیں اور طالبان کے حوالے سے پاکستان، ایران، روس وچین کے تحفظات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ افغانستان میں غیرمعینہ مدت تک رہنے کے بہانے تراش رہا ہے۔ افغانستان کے بارے میں امریکہ کا مؤقف تھا کہ افغان تنازع حکومت اور طالبان کے درمیان ہے اور جس دن یہ دونوں امن ومصالحت پر رضامند ہوگئے امریکہ دو اڈوں پر ضروری عملے کے سوا ساری فوج افغانستان سے واپس بلالے گا۔ دوسری طرف طالبان کا کہنا ہے کہ اکتوبر2001 میں امریکہ نے جب افغانستان کیخلاف جارحیت کا ارتکاب کیا اس وقت وہاں طالبان کی حکومت تھی چنانچہ مذاکرات امارتِ اسلامی افغانستان اور امریکہ کے درمیان ہونے چاہئیں اور وہ بھی محض افغانستان سے غیرملکی فوج کی واپسی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر۔ طالبان چاہتے ہیں کہ انخلا مکمل وغیرمشروط ہو اور وہ غیرملکی فوج کا کوئی اڈہ اپنے ملک میں برداشت کرنے کو تیار نہیں۔صدر ٹرمپ نے21اگست2017ء کو افغان مسئلے کے حل کیلئے ایک جارحانہ عسکری پالیسی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایک سال تک افغانستان پر خوفناک بمباری کا سلسلہ شروع ہوا اور12مہینوں تک اوسطاً 600حملے فی ماہ کے حساب سے ملک کے طول وعرض پر آگ برسائی گئی لیکن ہولناک بمباری کی اس خوفناک مہم کے بعد جب گزشتہ برس جولائی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ6600 سے زیادہ فضائی حملوں کے باوجود ایک مربع انچ زمین بھی طالبان کے قبضے سے چھڑائی نہ جاسکی بلکہ بے گناہوں کی ہلاکت سے افغان حکومت کے زیراثر علاقوں میں بھی طالبان کی حمایت بڑھتی جارہی ہے۔ امریکی حکومت کے نگراں ادارے سینئر انسپکٹر جنرل برائے افغان تعمیرنو یعنی SIGARکے مطابق52فیصد افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے اور اب جنوب اور مشرقی افغانستان کے پشتون علاقوں کیساتھ شمال میں فارسی بان صوبے بھی ان کی گرفت میں آگئے ہیں۔رپورٹ پر صدر ٹرمپ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ جب صدر کو یہ بتایا گیا کہ افغانستان پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے امریکہ کو ہر سال 70ارب ڈالر خرچ کرنے پڑرہے ہیں تو باخبر ذرائع کے مطابق صدر کا غصہ دیکھنے کے قابل تھا۔ موصوف نے اپنے جذبات کے اظہار کیلئے غیرپارلیمانی الفاظ کا دل کھول کر استعمال کیا اور کہا کہEnough is Enough’’اب افغانستان سے نکلنے کا وقت آگیا ہے‘‘۔ انہوں نے اپنے جرنیلوں کو انخلا کا ایک جامع منصوبہ بنانے کا حکم دے دیا۔ صدر کے اس فیصلے کی ان کے قدامت پسند ساتھیوں نے شدید مخالفت کی، لیکن صدر ٹرمپ کے حکم پر امریکہ کی نائب وزیر خارجہ برائے جنوب ووسط ایشیا ایلس ویلز نے قطر میں طالبان سے براہِ راست ملاقاتوں کے ذریعے بات چیت کا آغاز کر دیا۔امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان اشرف غنی سے ملکر انہیں یہ ضمانت دیں کہ امریکی فوج کی واپسی کے بعد کابل انتظامیہ کیخلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائیگی طالبان امن وانصاف کی ضمانت پر راضی ہیں لیکن وہ کابل حکومت کو امریکی کٹھ پتلی سمجھتے ہیں اور اس کیساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں۔ طالبان کا کہنا تھا کہ وہ خود افغان عوام میں سے ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں سے ملنے کیلئے وہ ہر وقت تیار ہیں چنانچہ جرگہ بلاکر ایک نمائندہ وفد تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی۔ افغانستان کی تمام جماعتوں اور سماجی تنظیموں کے لوگ طالبان سے ملنے کے مشتاق تھے چنانچہ250افراد کا بھاری بھرکم وفد قطر پہنچ گیا۔ طالبان نے اس وفد سے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کر دیا کہ یہ ولیمے کی دعوت نہیں بلکہ سنجیدہ گفتگو ہے جو سینکڑوں لوگوں کے ہجوم میں نہیں کی جاسکتی۔ اس وقت سے امن مذاکرات عملاً معطل ہیں۔ امریکہ کے تبدیل ہوتے مؤقف پر اب تک طالبان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان مذاکرات کے اگلے مرحلے تک اپنی رائے کا اظہار نہیں کریں گے۔ بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ زلمے خلیل زاد کے بیانات افغان حکومت کی دلجوئی کیلئے ہیں اور وہ کابل کے ڈاکٹر صاحبان کو یہ تشفی دینا چاہتے ہیں کہ امریکہ انہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑے گا۔

متعلقہ خبریں