Daily Mashriq


وزیر اعظم نظیر قائم کریں تو زیادہ مناسب ہوگا

وزیر اعظم نظیر قائم کریں تو زیادہ مناسب ہوگا

پختونخوا کے اراکین اسمبلی سے ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے ممبران قومی اسمبلی سے کہا ہے کہ وہ حکومتی وزراء کی کارکردگی پر نظر رکھیں اور انہیںآگاہ کریں، میری وزارت عظمیٰ میں ایسا نہیں ہوگا کہ وزراء اپنی مرضی سے کچھ کرتے رہیں اور انہیں کوئی نہ پوچھے۔ وزراء کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ناقص کارکردگی پران سے جواب طلبی کی جائے گی۔ شکایت سنگین ہوئی تو انہیں ہٹانے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق کئی ممبران اسمبلی نے وزیراعظم کو شکایت کی کہ صوبائی اور وفاقی وزراء ان کی بات نہیں سنتے اور ان کے جائز مسائل پر بھی توجہ نہیں دی جارہی۔ وزیراعظم نے تمام ممبران اسمبلی کی باتیں اطمینان سے سنیں اور کہا کہ ممبران اسمبلی اپنی شکایات براہ راست مجھے بتائیں۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ممبران اسمبلی سے کہا کہ وہ حوصلہ رکھیں ہماری مشکلیں آئندہ چھ ماہ میں مکمل طور پر ختم ہوجائیں گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کی خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور وزراء کی کارکردگی سے متعلق سخت گیری نا مناسب نہیں لیکن انہوں نے اراکین اسمبلی کو ان سے براہ راست شکایت کی اجازت اور ترغیب دے کر بظاہر تو صوبائی حکومت کے عہدیداروں اور صوبائی وزراء کو سخت احتساب کا پیغام ضرور دیا ہے لیکن ہمارے تئیں وزیر اعظم سے اراکین اسمبلی کی نہ تو براہ راست شکایت مناسب ہے اور نہ ہی وزیر اعظم کے پاس اتنا وقت ہوگا کہ وہ اراکین اسمبلی کی شکایات سن پائیں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان وزیر اعظم ہی کی جانب سے نامزد کئے جانے اور اعتماد کے بعد ہی صوبے کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے ہیں وہ صوبائی حکومت کے ٹیم لیڈر ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے اراکین پر کڑی نظر رکھیں اور اپنی حکومت کے معاملات کے حوالے سے وزیر اعظم کو آگاہ کریں اور ان سے ہدایات لیں۔ صوبائی وزراء کے حوالے سے براہ راست معلومات کے حصول کی بجائے وزیر اعلیٰ سے کابینہ کے معاملات بارے استفسار اور انہی کے ذریعے ہدایات دینا صوبائی حکومت کے استحکام اور اعتماد دونوں کے لئے ضروری ہے۔ وزیر اعظم صوبائی حکومت اور وزراء کے حوالے سے حصول معلومات اور ان پر نظر رکھنے کے لئے پارٹی رہنمائوں کو ذمہ داری سونپ سکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے منشور کے مطابق جماعتی اور حکومتی عہدوں کی علیحدگی سے صوبائی حکومت اور وزراء کی کارکردگی اور سر گرمیوں کے حوالے سے وزیر اعظم کو مستند ذرائع سے معلومات اور رائے حاصل ہوگی جس کی روشنی میں وزیر اعظم جو بھی ہدایات جاری کریں گے وہ موزوں راستہ ہوگا۔ وزیر اعظم صوبائی حکومت اور پارٹی عہدیداروں کا مشترکہ اجلاس بلا کر حکومتی اور عوامی نقطہ نظر سے آگاہی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ بھی ایک جمہوری اور مناسب طریقہ کار ہوگا جس کا مقصد اچھی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم عمران خان چھ ماہ میں حسن کارکردگی کے سامنے آنے کے حوالے سے پرامید ہیں جس کا انہوں نے اس موقع پر اظہار بھی کیا ہے لیکن ہمارے تئیں جاری حالات کے تناظر میں یہ حقیقت پسندی پر مبنی رائے نہیں کیونکہ اس وقت صورتحال اور ماحول کچھ ایسا حوصلہ افزاء نہیں بلکہ صوبائی حکومت مشکلات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔صورتحال یہ ہے کہ محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا مقامی حکومتوں سے کیا ہوا اپنا وعدہ ایفا نہ کر سکا ہے مالی سال 2017-18کیلئے مختص ترقیاتی فنڈز میں سے 17ارب کی کٹوتی کر دی گئی ہے جس کے باعث کئی مقامی حکومتیں مالی بحران کا شکار ہو گئی ہیں ۔صوبائی حکومت نے گزشتہ مالی سال میں صوبائی فنانس کمیشن کے تحت مقامی حکومتوں کیلئے 28ارب روپے کا ترقیاتی فنڈ منظور کیا تھا تاہم جون تک اس فنڈ میں صرف 10ارب 94کروڑ 43لاکھ 42ہزار روپے ہی جاری کئے جا سکے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ جو معاشی صورتحال درپیش ہے اس کے پیش نظر صوبائی حکومت سے عوام کی توقعات پر پورا اترنے کی توقع نہیں کی جاسکتی بلکہ ترقیاتی کاموں کی بندش سے عوام میں عدم اطمینان کی فضا کی توقع حقیقت پسندانہ امر ہوگا۔ اس قسم کے حالات میں ہمارے تئیں صوبائی حکومت اور کابینہ کے اراکین خاص طور پر اپناہاتھ اور دامن صاف رکھنے کی حتی المقدور سعی کرکے عوام کو مثبت پیغام دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت بیورو کریسی کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر کے معاملات کی بہتری میں قدرے کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ فی الوقت بیورو کریسی سے صوبائی حکومت کے تعلقات کی نوعیت حوصلہ افزاء نہیں بلکہ صوبائی حکومت گزشتہ پانچ سالہ حکومت کے تسلسل سے استفادہ کرنے کے موقع کے باوجود بیورو کریسی سے کام لینے میں مشکلات کا شکار نظر آتی ہے۔ صوبائی سطح کے افسران بھی سروس سٹرکچر کے ضمن میں تحفظات کے باعث حکومت کے قریب نہیں آپا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی سابق صوبائی حکومت کی طرح موجودہ صوبائی حکومت میں بھی سول بیوروکریسی کے سینئر افسران اور صوبائی وزراء سمیت کئی حکومتی شخصیات کے درمیان مختلف ایشوز پر تنائو برقرار ہے جس کی وجہ سے صوبائی حکومت نے ڈھائی مہینے کے عرصے میں کئی سینئر افسران کو کھڈے لائن لگایا ہے جبکہ شنید ہے کہ مزیدکئی افسران کوان کے عہدوں سے ہٹا نے کیلئے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ بیورو کریسی کی یہ صورتحال صوبائی حکومت کے لئے مشکلات کا باعث ہونا فطری امر ہے۔ صوبے میں اہم عہدوں پر تقرری میں بھی بعض جلد بازی پر مبنی فیصلوں اور بعد ازاں ان کو واپس لئے جانے سے بھی معاملات میں پیچیدگیاں اور کدورتیں درپیش ہیں جن کا ادراک کرنے اور ان کا درمیانی حل نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبائی حکومت یکسوئی کے ساتھ اپنے معاملات توجہ سے چلا سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کی بہتر کارکردگی کے لئے وزیر اعظم اور پارٹی کا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو مکمل اعتماد حاصل ہونا چاہئے جبکہ صوبائی وزراء کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک ٹیم کی صورت میں شفافیت کے تقاضوں اور عوامی مشکلات کے میرٹ پر حل کو مقدم رکھیں۔ وزیر اعظم جہاں صوبائی حکومتوں کی کارکردگی اور صوبائی وزراء کی کارکردگی اور شکایات بارے سنجیدہ ہیں وہیں وفاقی کابینہ کے حوالے سے ایسی مثال اولیت سے قائم کریں تاکہ نظیر قائم ہو جس کی صوبے تقلید کریں۔

متعلقہ خبریں