Daily Mashriq


ثالثی کاعمل پر احتیاط اور غیر متنازعہ ہونا چاہیئے

ثالثی کاعمل پر احتیاط اور غیر متنازعہ ہونا چاہیئے

خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں چند برس سے سرد مہری رہی جسے دور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، ریاض کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے، ہیں اور رہیں گے تاہم حالیہ ملاقاتوں میں کوئی ایسی بات نہیں ہوئی کہ ہم یمن تنازع کا حصہ بنیں گے۔سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی یمن تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کی تھیں اور اب وزیر اعظم عمران خان یمن کے معاملے پر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم ریاض کی جانب سے پیکج کے بدلے میں کوئی شرائط نہیں لگائی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سے ہمارے تعلقات ہیں اور ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اس لیے ہم دونوں ممالک کے معاملے میں غیرجانبدار ہیں۔ حزب اختلاف کا موقف ہے کہ وزیر خارجہ نے ثالثی کے کردار سے متعلق اپوزیشن کے تحفظات دور نہیں کیے۔ وزیر خارجہ نے سینیٹ میں سعودی عرب اور یمن سے متعلق ایک لمبی تقریر کی، لیکن ایوان میں اٹھائے گئے سوالات کا کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔سعودی عرب کے ساتھ حکومت نے کیا معاملات طے کئے اس حوالے سے ایوان کو مطمئن نہ کرنا وزیرخارجہ کی ناکامی ہے ایک جمہوری حکومت کا ایوان کو اعتماد میں لئے بغیر معاملات درست نہیں خواہ وہ ملک کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو ۔ کھلے معاملات کو اخفاء میں نہیں رکھا جاتا ۔ اخفاء کی ضرورت وہاں ہی پیش آتی ہے جہاں معاملات کے حوالے سے تنقید اور مشکلات کا خطرہ ہو ۔ بہرحال پاکستان کی جانب سے یمن اور سعودی عرب میں مصالحت دوبرادار اسلامی ملکوں کے درمیان تنازعات طے کرانے کا ایک موزوں قدم ضرور ہے۔ اولاً یہ شفاف بے غرض اور بے لوث ہونا چاہیئے دوم یہ کہ اس پر کسی اور ہمسایہ یا دوست ملک کو اعتراض نہ ہو ایسا ہونے کی صورت میں ان کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہیئے تاکہ پائیدار اور غیر متنازعہ طور پر معاملات طے کرائے جا سکیں۔

زرعی اراضی کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہ کی جائے

تحصیل بریکوٹ کے علاقہ شموزئی روڈ پر ان کھیتوں میں سمال انڈسٹری بنانے کا حکومتی اقدام زرعی اراضی کو دیگر مقاصد کے حصول کے امتناع کے قانون کی خلاف ورزی اور قیمتی زرعی اراضی کے رقبے میں کمی کا باعث ہوگا ۔ زرعی اراضی صرف پیداوار کے حصول کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے مقامی افراد کا روزگار اور ملکی کاروبار بھی وابستہ ہوتا ہے۔ ہمارے نمائندے کے مطابق جس زرعی اراضی پر سکشن فور لگایا گیا ہے ان علاقوں کے لوگوں کا ذریعۂ معاش ان کھیتوں میں پیدا ہونے والی سبزیوں کی خرید و فروخت ہے، لیکن حکومت نے ان سے مشورہ کئے بغیر ان زرعی زمینوں پر سیکشن فور لگایا ہے۔ وہاں کے زمینداروں اور کاشتکاروں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ جانا فطری امر ہے چھوٹی صنعتوں کا قیام اس وقت ہی حکومت کا احسن اقدام گردانا جائے گا اور یہ تبھی یکساں نافع متصور ہوگا جب حکومت بنجر اراضی پر یہ منصوبہ شروع کرے ۔چاہیئے تویہ کہ صوبائی حکومت نہ صرف سوات کے محولہ علاقے میں بلکہ اصولی طور پر صوبے کے کسی مقام پر بھی زرعی اراضی اور باغات کو سوائے حصول پیداوار کے اور کسی بھی طور استعمال میں لانے سے گریز کرے اور نہ ہی کسی کو باغات اور زرعی اراضی پر تعمیرات کی اجازت دے۔سرسبز باغات اور سبزیوں کے کھیت نہ صرف ہماری خوراک کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی سے بچائو کا بھی راستہ ہیں جن کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ زرعی اراضی پر کارخانے لگانے کے منصوبے پر نظر ثانی کی جائے گی اور کاشت کاروں کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں