Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کپڑے کی تجارت کی ،مگر بعد میں یہ کام چھوڑ دیا اور لوگوں کے سامان اور اسباب ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی مزدوری اور باربرداری کا پیشہ اختیار فرمایا۔ اس سے جواجرت ملتی تھی، خود اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے ، مگر سرمایہ داروں کی بلند عمارتوں اور بڑی بڑی ڈیوڑھیوں کی طرف کبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ علم وفضل اور ذہانت وذکاوت کی فطری دولت سے رب تعالیٰ نے مالا مال کردیا تھا ۔

ان کی عظمت اس قدر بڑھی کہ اپنے اور اغیار سب ان کے قائل تھے ، وجہ صرف یہ تھی کہ ان کی پشت پر اخلاص کی ایسی زبردست قوت کار فرما تھا ، جس نے قیامت تک ان کو زندہ جاوید بنا دیا ۔ حضرت سفیان بن عینیہؒ، معین بن عیسیٰؒ ، ابو عاصمؒ ، ابو عامر عقدیؒ ان کے مشہور اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں ۔ امام حربیؒ ان ہی کی صداقت اور سچائی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے : ’’اگر بالفرض جھوٹ بولنا حلال اور جائز ہوتا تب بھی و ہ ہر گز جھوٹ بولنے کے لئے آمادہ نہ ہوتے‘‘۔

(ارباب علم و کمال اور پیشہ رزق حلال)

حضرت امام مالکؒ نے فرمایا: اوس بن خارجہؒ سے سوال ہوا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ انہوں نے کہا:حاتم طائی، پھر پوچھا کہ آپ اس کے مقابلے میں کس درجے میں ہیں؟ فرمایا میں اس کے خادم ہونے کے بھی قابل نہیں ہوں، حاتم طائی سے سوال ہوا ، تمہاراکون ہے ؟ جواب دیا اوس بن خارجہ ، پھر سوال ہوا کہ آپ اس کے مقابلے میں کس درجہ پر ہیں؟ فرمایا:میں اس کے مملوک ہونے کے بھی قابل نہیں ہوں ۔

(مخزن198)

ایک نوجوان حضرت ابن مبارکؒ کی خدمت میں آیا۔ آپؒ کے پائوں پر گر کرزاروقطار رودیا اور عرض کیا: میں نے ایسا گناہ کیا ہے کہ میں اسے شرم کے مارے بیان نہیں کرسکتا ۔ آپؒ نے فرمایا: بتلائو تو سہی ، آپ نے کیا کیا ہے ؟

اس نے کہا میں نے زنا کیا ہے ، آپؒ نے اس کے سامنے زنا کی برائی بیان فرمائی اور پھر فرمایا: میں ڈرگیا تھا کہ شاید تو نے کسی کی غیبت کی ہے ۔ جس گناہ کو آج معاشرے کا لازمی حصہ قرار دیا جاتا ہے اور جس گناہ کے بغیر ہماری مجالس نا مکمل رہتی ہیں ، اس کی شدت کتنی زیادہ ہے ، حق تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائیں۔

مولانا احمد علی لاہوریؒ شیخ التفسیر تھے ، اپنے ہاتھ سے صابن بنایا کرتے اور تصحیح کتب کا کام کر کے رزق حلال کماتے، اپنے بچوں کاپیٹ پال کر تبلیغ دین، درس قرآن اور اعلائے دین میں مگن رہتے ، ہفتوں فاقے برداشت کیے ، اپنا اور بچوں کاپیٹ کاٹا ، مگر مشتبہ کھانے کی طرف نظر اٹھا کر کبھی نہیں دیکھا، آپؒ اکثر فرمایا کرتے :’’غیر کے سامنے اپنی حاجت پیش کرنا خدا کی غیر ت کو چیلنج دینا ہے ۔ شکایت حال شکایت رب ذوالجلال ہے‘‘۔

(ارباب علم و کمال اور پیشہ رزق حلال)

متعلقہ خبریں