Daily Mashriq


تنازع یمن میں ثالثی کی باضابطہ پیش کش

تنازع یمن میں ثالثی کی باضابطہ پیش کش

تنازع یمن میں ثالثی کی باضابطہ پیش کشوزیر اعظم عمران خان نے تنازع یمن کے سیاسی حل میں کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے ‘ اس تاثر کو تقویت بدھ کے روز یمن کے سفیر محمد مطاہر شعبی کی صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقاتوں سے بھی ملتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سفیر یمن سے گفتگو کرتے ہوئے ایک طرف کہا ہے کہ تنازع یمن کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ دوسری طرف یہ یقین دلایا ہے کہ پاکستان یمن کے شہریوں کی انسانی بنیادوں پر امداد کی بین الاقوامی کوشش میں غیر متزلزل کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قرار داد کے تحت یمن کے تنازعہ کے پرامن حل کا خواہشمند ہے تاکہ وہاں خوراک کی قلت کا ازالہ کیا جا سکے اور مقامی باشندے پرامن طور پراپنے گھروں کو واپس آ سکیں جو جنگ کی صورت حال کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یمن میں امن وامان کی خراب صورت حال کی وجہ سے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔ یمن کے سفیر سے گفتگو کے دوران وزیر اعظم کا مؤقف ان کی کئی ہفتہ پہلے اس پیش کش کے عین مطابق ہے کہ پاکستان یمن کے بحران میں ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا حوالہ دیا ہے اور یمن میں انسانی ابتلاء کے خاتمے پر زور دیا ہے جو کسی بھی ممکنہ سیاسی حل کی طرف پہلا قدم ہے۔ سیاسی حل کے لیے یمن میں فریقین تنازع کے درمیان جنگ بندی ضروری ہے اور گمان غالب ہے کہ وزیر اعظم اس طرف پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس تاثر کی بنیاد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ بیانات میں ملتی ہے جن میں انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کے دوران پاکستان کی طرف سے تنازع یمن میں فریق بننے کی کوئی کمٹ منٹ نہیں کی گئی ۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ پاکستانی فوج کے کوئی دستے یمن روانہ نہیںکیے جا رہے۔ سینیٹ میں ن لیگ کے سینیٹرلیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے یہ سوال اٹھایا تھا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی نوک دار بیانات دے رہے ہیںجن میں کہاجا رہا ہے کہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد کے بدلے میں پاکستان نے جو شرطیں قبول کی ہیں وہ بیان کی جائیں۔ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ کو یہ یقین دہانی کراتے ہوئے یمن میں کوئی پاکستانی فوجی دستے نہیںبھیجے جا رہے بتایا ہے کہ پاکستان کی طرف سے تنازع یمن میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کے عندیہ پر سعودی قیادت نے کسی تحفظات کا اظہار نہیں کیا ہے۔ جب کہ اس سے قبل جب ن لیگ کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کی کوشش کی تھی تو اس پر سعودی عرب نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ یمن میں سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار ہو رہی ہے۔ اور یمن تنازع کا کوئی سیاسی حل ان دونوں ملکوں کی رضامندی سے ہی ہو گا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی ماہ کی آویزش کے باوجود کسی بھی فریق کو دوسرے پر فتح حاصل نہیںہوئی ۔اس لاحاصل جنگ کے باعث یمن میں انسانی المیہ کی صورت حال نمودار ہو رہی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے یمن کے سفیر سے گفتگو کے دوران فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی امداد کے لوگوں تک پہنچنے کے لیے راستے کھولیں۔ جنگ میں کسی بھی فریق کو کامیابی حاصل نہیں ہو رہی اور اس صورت حا ل میں مقامی باشندوں تک انسانی امداد کی رسائی کے لیے یہ ضروری ہے کہ فریقین جنگ مقامی باشندوں تک رسائی کے راستے کھولیں۔ یہ جنگ بندی کی طرف پہلا قدم ہو گا جس کے بعد سیاسی عمل کی شروعات ہو سکیں گی۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی انسانی امداد کی کوششوں میں غیر متزلزل کردار ادا کرتا رہے گا۔ اس پیغام پر فریقین کی طرف سے کسی منفی ردِعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے۔ جہاں تک ایران کی بات ہے جسے حوثی باغیوں کا حامی سرپرست کہا جا تا ہے اس کی طرف سے بھی وزیر اعظم عمران خان کی ثالثی کی پیش کش پر کسی منفی ردِعمل کا اظہار نہیں ہوا ہے۔ سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ سے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران ثالثی کی پیش کش پر کسی منفی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ کہا ہے کہ اس پر ایران کا ردِ عمل مثبت ہو گا۔ منظرنامہ پر نمودار ہو رہا ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو جو امداد دی ہے اس کے ساتھ کوئی شرط عائد نہیںکی اور واضح طور پریہ بتا دیا گیا ہے کہ پاکستان یمن میں کوئی فوجی دستے نہیں بھیج رہا۔ ایران کے وزیر خارجہ نے حالیہ دورے کے دوران یمن تنازع میںپاکستان کی ثالثی کی پیش کش پر مثبت ردِ عمل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے یمنی سفیر سے گفتگو میں کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی امداد کی یمنی عوام تک رسائی کے لیے فریقین جنگ راستے کھولیں اور اس پر یمن کی طرف سے کسی منفی ردِ عمل کا اظہار نہیںہوا ہے۔ امداد کے لیے رستے کھولنے کا مطلب ہی کم از کم عارضی جنگ بندی ہے جو دیرپا جنگ بندی اور مذاکرات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے ۔ یہ آثار بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالات اب ویسے نہیں ہیں جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی پہل قدمی ناکام ہو گئی تھی بلکہ اب یمن میں عرصہ سے جاری لاحاصل جنگ اور پاکستان میں نئی سوچ کی حامل حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد حالات اس نہج پر آ چکے ہیں کہ پاکستان کی یمن کے تنازع میں ثالثی کی پیش کش کو پذیرائی حاصل ہو ۔ یمن کے سفیر سے وزیر اعظم عمران خان کی گفتگو میں تنازع میں پاکستان کی طرف سے ثالثی کی باضابطہ پیش کش شمار کی جا رہی ہے اور جیسے کہ سطور بالا میں بیان کیا جا چکا ہے کہ حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ اس پیش کش کو فریقین اور ان کی حامی قوتوں کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں