Daily Mashriq


غنی خان کی یاد گار اوراپنوں کارویہ

غنی خان کی یاد گار اوراپنوں کارویہ

ہم نہ بھی کہیں کہ’’دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ‘‘ تو بھی آپ نے خود ہی اس بات کی دعوت دے ڈالی ہے کہ آپ سے وضاحت طلب کرنے کی جسارت کی جائے، ہم کیا کہنا چاہتے ہیں اس کی وضاحت سے پہلے بہتر ہے کہ روس سے ملنے والی اس بھاشن کا ذکر کیا جائے جو اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے دی ہے ، اور جس میں انہوںنے پشتوزبان کے نابغہ روز گار شاعر، فلسفی اور مصور و مجسمہ سازغنی خان بابا کے حوالے سے پختون قوم کی’’ سرد مہری‘‘ کا رونا روتے ہوئے کہا ہے کہ بد قسمتی سے نصف سے زیادہ پختون پشتو کے نامور شاعر ، محقق ،لکھاری اور مجسمہ ساز غنی خان کے خیالات سے ناواقف ہیں ، اور اس کی بنیادی وجہ پشتو زبان سے ان کی دوری ہے ، یونیورسٹی آف ورونس(روس) میں غنی خان کی یاد گار کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ دنیا میں ترقی کیلئے اپنے اسلام کی قربانیوں اور خدمات سے استفادہ ضروری ہے اور جو قومیں اپنے اسلاف اور اپنی زبان رد کردیتی ہیں وہ قوم ختم ہوجاتی ہے ، انہوں نے کہا کہ حکومت روس نے یاد گار تعمیر کر کے غنی خان کو جو عزت دی ہے وہ تمام افغانوں کیلئے باعث فخر ہے ۔ قومی تحاریک میں شعراء کا کردار کلیدی ہوتا ہے ، انقلاب فرانس سے لے کر انقلاب روس اور خدائی خدمتگاری تک کئی تحریکوں میں شعراء نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اقوام کی ذہنی ترقی اور اتحاد کی وجہ غنی خان جیسے شعراء ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پختون قومی تحریک سے وابستگی کی وجہ سے غنی خان کو وہ سرکاری اعزازت نہیں ملے جس کے وہ حقدار تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پختون قومی تحریک کو غنی خان کی شاعری سے استفادہ کرنا ہوگا۔ غنی خان ہی کے ایک ہمنام غنی دہلوی نے کہا تھا 

اس شہر جنوں میں کس کس کو مفہوم خرد سمجھائو گے

ہر شخص یہاں دیوانہ ہے ، زنجیرکسے پہنائو گے

جہاں تک غنی خان کا تعلق ہے اس میں قطعاً شک نہیں ہے کہ ایسی ہستیاں قوموں میں بڑی مشکل سے بلکہ صدیوں میں جا کر کہیں پیدا ہوتی ہیں ، مگر اسفند یار ولی خان کو پختون قوم سے گلہ کرنے سے پہلے غنی خان بابا سے خود ان کی صوبہ خیبر پختونخوا میں گزرنے والی حکومت نے جو سلوک کیا، اسے بھی ذہن میں رکھ لینا چاہیئے ، اس کے بعد دوسروں سے گلہ کرنے کی حاجت شاید نہ رہے ، اور اس حوالے سے سنی سنائی بات نہیں خود ہمارے ساتھ جو بیتی ہے وہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ جو فارسی میں کہتے ہیں کہ شنیدہ کے بود ماتند دیدہ ، اس کی حقانیت بھی واضح ہو سکے ۔ خیر یہ بات انہیں شاید یاد نہ ہو ، ممکن ہے انہیں معلوم بھی نہ ہو مگر ان کی حکومت کے اہم کارناموں میں یاد ضرور رکھی جائے گی اور وہ یوں کہ اباسین آرٹس کونسل پشاور نے مصوری اور مجسمہ سازی کے ضمن میں پہلے سے موجود دو انعامی مقابلوں یعنی ایس ایس حیدر ایوارڈ اور گل جی ایوارڈ کے ساتھ غنی خان کے نام سے ایک تیسرے ایوارڈ کا اجراء کرنے کا پروگرام بنایا، اس حوالے سے مقابلے کی پوری تفصیل تحریری طور پر لکھ کر اس وقت کے صوبائی وزیر ثقافت میاں افتخار حسین کے ساتھ بات چیت کیلئے کونسل کا ایک وفد اس وقت کے سینئر نائب صدر عبدالرئوف روہیلہ ، نائب صدر خواجہ محمد وسیم ،مشیر فنون جہانزیب ملک ، مشیر ادبیات ناصر علی سید اور راقم الحروف پر مشتمل ، میاں افتخار حسین سے وقت لیکر حاضر ہوا ، اور ان سے درخواست کی کہ اگر کونسل کو سالانہ گرانٹ جو اس وقت پانچ لاکھ روپے تھے اور ان سے اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے ، کے علاوہ مزید دولاکھ روپے عنایت کئے جائیں تو غنی خان کے نام پر مجسمہ سازی کے شعبے میں ایک ایوارڈ جاری کر کے ان کی خدمات کا اعتراف کیا جا سکتا ہے۔ میاں افتخار نے آئیڈیا کو بہت سراہا اور وعدہ کیا کہ وہ اس حوالے سے اباسین آرٹس کونسل پشاور کے ساتھ تعاون کریں گے ، اس دوران ہم نے ایوارڈ کا اعلان کرکے مصوروں کے شہ پارے بھی منگوالئے ، اور ساتھ ہی خط لکھ کر میاں افتخار کو یاد دہانی بھی کرادی مگر(دروغ بر گردن راوی) اے این پی حکومت کی پالیسی میں غنی خان کے نام اور نام کو آگے بڑھانے کی کوئی خواہش موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی ۔ اباسین آرٹس کونسل پشاور نے اپنی تنگ دستی اور تنگ دامنی کے باوجود بساط بھر غنی خان کے نام پر مصوری اور مجسمہ سازی کا یہ ایوارڈ دیا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ غنی خان کا اسفند یار ولی خان سے خون کا رشتہ ہے ، دوسروں سے گلہ کرنے سے پہلے اگر وہ خود ان کے ساتھ ماضی میں روا رکھے جانے والے خود اپنی حکومت کے رویئے کا بھی جائزہ لیتے تو شاید انہیں یہ نہ کہنا پڑتا کہ پختون قومی تحریک سے وابستگی کی وجہ سے غنی خان کو وہ سرکاری اعزازات نہیں ملے جس کے وہ حقدار تھے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اعزازات تب اعزازات کہلاتے ہیں جب وہ حقیقتاً حقداروں کو دیئے جائیں ۔ بد قسمتی سے اس وقت تو نوبل انعام کے بارے میں بھی وثوق کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان کو واقعی حقداروں کی جھولی میں ڈالا جاتا ہے ، بلکہ اس عالمی ایوارڈ پر بھی بڑی طاقتوں کے اثرات کا تذکرہ کیا جاتا ہے ، غنی خان کی شخصیت سرکاری اعزازات سے بہت بلند ہے اس لئے انہیں کوئی ایوارڈ نہ ملنے سے ان قد کاٹھ کم نہیں ہوسکتا، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے نام سے ایوارڈ دیئے جائیں ، مگر موقع ملنے کے باوجود اے این پی نے اپنے دور حکومت میں ایسا نہیں ہونے دیا۔

من از بیگا نگاں ہر گز نہ نالم

کہ با من ہر چہ کر دآں آشنا کرد

متعلقہ خبریں