Daily Mashriq


قومی اسمبلی میں زبان دانیوں کے مظاہرے

قومی اسمبلی میں زبان دانیوں کے مظاہرے

قومی اسمبلی کے ایوان میں بدھ کے روز گرما گرمی اور جملے بازی کے ساتھ چور چور کے جو نعرے بلند ہوئے اس پر یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے ایوان کے منتخب قانون سازوں کی ایک بڑی تعداد کو ابھی اخلاقی اور سیاسی تربیت کی ضرورت ہے۔ الزامات کی دھول اڑاتے رہنے سے زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ ایک قومی پارلیمانی کمیشن قائم کردیا جائے جس میں سینٹ و قومی اسمبلی کے ارکان کے علاہ اٹارنی جنرل اور اچھی شہرت کے حامل جج صاحبان کو شامل کیا جائے۔ یہ کمیشن ایک طے شدہ وقت کے اندر کم از کم پچھلی تین حکومتوں کے سربراہوں‘ وفاقی و صوبائی وزراء اور خود پی ٹی آئی کے ان وزراء اور دیگر افراد بارے تحقیقات کرے جن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ کمیشن کی رپورٹ کو قانونی تحفظ حاصل ہو اور اس رپورٹ کی روشنی میں نیب کو یہ اختیار بھی کہ مجرم ثابت ہونے والوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ کمیشن جن افراد کو الزامات سے بری کردے انہیں اپنے مخالفین ( الزام لگانے والوں) کے خلاف کارروائی کا حق دیا جائے۔اس امر پر دو آراء نہیں کہ کرپشن ایک مسئلہ ہے مگر یہ کہنا کرپشن ہی نمبر ون مسئلہ ہے اس لئے درست نہیں کہ اس سے زیادہ اہم اور سنگین مسائل موجود اور دن بہ دن گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں۔ انتہا پسندی اور اس کی کوکھ سے پیدا ہوئے مسائل اہم ترین ہیں۔ چار میں سے دو پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کمزور ترین سطح پر ہیں جبکہ تیسرے پڑوسی ایران کو بھی چند شکایات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان سنگین مسائل کے حل کے لئے موثر اقدامات پر توجہ دینے کی بجائے آخر صرف کرپشن کو ہی فساد فی الارض کے طور پر پیش کیوں کیا جا رہا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف سیاسی مخلوق کو کرپٹ اور بد ترین ثابت کرنے کا مقصد کسی اور کی کرپشن یا دیگر معاملات کی پردہ پوشی مقصود ہو۔ ایسا ہے تو حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ یہ بجا ہے کہ تحریک انصاف کی 22 سالہ جدوجہد کرپشن کے خلاف ہی ہے۔ میڈیا اور رائے عامہ کے بڑے حصوں میں اس کی جدوجہد کو پذیرائی ملی لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنے والی تحریک انصاف نے مروجہ سیاست کے اثرات کو قبول کرتے ہوئے اپنی صفوں میں ایسے لوگوں کو شامل کیا جن پر کرپشن کے الزامات تھے۔ مثال کے طور پر جہانگیر ترین‘ علیم خان‘ اعظم سواتی‘ ظفر گوندل‘ ان چار صاحبان کے علاوہ بھی بہت سارے لوگ تحریک انصاف میں شمولیت سے قبل زمین کا بوجھ قرار پائے تھے لیکن جیسے ہی وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے پاک و صاف ہوگئے۔اپنی جدوجہد کے برعکس رویوں کے اس مظاہرے نے بہت سارے سوالات کو جنم دیا اور سوال اب بھی موجود ہیں۔ اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا جس 600ارب روپے ماہانہ کی کرپشن کہانیاں برسوں تحریک انصاف سناتی رہی اس میں پچھلے اڑھائی ماہ کے دوران کتنی کمی ہوئی؟ ثانیاً یہ کہ کرپٹ عناصر اور خاندانوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے تقریروں یا اسمبلیوں میں بلند کئے جانے والے نعروں سے کرپشن ختم ہو جائے گی؟ کرپشن کے خاتمے اور مرتکب افراد کے خلاف بلا امتیاز کارروائی پر دو آراء ممکن نہیں مگر جس طرح کے نعرے اور شور و غوغا جاری ہے اس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ معاملہ کرپشن کا نہیں کچھ اور ہے۔ ثالثاً یہ کہ پی ٹی آئی کے بعض رہنما سیاسی اخلاقیات کو روندنے کا شوق پورا کرتے ہوئے جس روش پر گامزن ہیں اس سے بہتری کی بجائے تلخیاں بڑھیں گی۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی تقریر کے بعض حصے نا مناسب تھے اسی طرح حکومتی بنچوں سے جو آوازیں بلند ہوئیں وہ اخلاقی اقدار و پارلیمانی روایات سے عاری تھیں۔ کرپشن زدہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہئے لیکن اس کے علاوہ جو مسائل ہیں انہیں حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔حکومتی اکابرین کو ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنی اڑھائی ماہ کی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ پچھلے اڑھائی ماہ میں عام شہری کو کوئی ریلیف ملا یا اس کے مسائل میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے مہنگائی کے سیلاب بلا کی روک تھام کے لئے کیا کیا۔ غربت و بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کے لئے کونسے اقدامات ہوئے۔ حکومتی ذمہ داروں کو سمجھنا ہوگا کہ دوسرے مسائل کے ساتھ کرپشن بھی جذباتی تقریروں اور یک رخی گولہ باری سے ختم نہیں ہوگی بلکہ ٹھوس اور طویل المدتی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔مکرر عرض ہے کہ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں بعض ارکان کی تقریروں سے جو ماحول بنا وہ کسی بھی طور لائق تحسین نہیں۔ پارلیمانی امور کی الف ب سے شد بد رکھنے والا عام آدمی بھی یہ سمجھتا ہے کہ قومی اسمبلی کے بہت سارے ارکان سنجیدہ مسائل پر گفتگو کرنے کی بجائے مخالفین کی بھد اڑانے کے لئے جذباتی تقریروں کے ذریعے ماحول کو بگاڑنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کردار وہ پارلیمانی روایات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے خود ادا کرتے ہیں یا منصوبے کا حصہ ہے اس بارے وہی زیادہ بہتر جانتے ہوں گے۔ ہمیں یہ عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ گلی محلوں‘ تھڑوں اور کارکنوں کے ہجوم سے گفتگو و خطاب کرنے اور منتخب ایوانوں میں اظہار خیال کے طور طریقے مختلف ہیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں طرف کے ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ منتخب ایوانوں کو موچی دروازہ نہ بنائیں۔ سیاسی اقدار و روایات کی پاسداری بہت ضروری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طرفین منتخب ایوانوں میں نفرت بھری تقاریر کی بجائے اپنے اصل فرائض پر توجہ دیں۔ 22 کروڑ لوگ منتخب ایوانوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ ان کے منتخب ارکان ان مسائل کا کیا حل تلاش کرتے ہیں جو شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنائے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں